مسند احمد 26746

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
26746
قرطبہ نمبر
26789
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 6، صفحہ 323

مسند (صحابی کا باب): حديث أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم(باقي مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة قال ثنا على بن زيد عن شهر بن حوشب عن أم سلمة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة : ائتيني بزوجك وابنيك فجاءت بهم فألقى عليهم كساء فدكيا قال ثم وضع يده عليهم ثم قال اللهم ان هؤلاء آل محمد فاجعل صلواتك وبركاتك على محمد وعلى آل محمد انك حميد مجيد قالت أم سلمة فرفعت الكساء لأدخل معهم فجذبه من يدي وقال انك على خير ابن جدعان وشهر بن حوشب

اردو ترجمہ

حضرت ام سلمہ کی مرویات

حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلال اؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے۔ نبی (علیہ السلام) نے فدک کی چادرلے کر ان سب پر ڈال دی اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں تو محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (97٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ فَجَاءَتْ بِهِمْ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

حديث صحيح وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد وهو

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 2 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. ثنا
  7. عن
  8. عن
  9. نبی کریم ﷺ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔