مرکزی مواد پر جائیں
ہدایہ۲۴
ہدایہ۲۴ — رہنمائی
تلاش
⌘K
🌙
اردو
لاگ ان
قرآن
حدیث
فقہ و رہنمائی
سیرت و تاریخ
کتب خانہ
سیکھیں
آج
میری ہدایہ
ہوم
قرآن
حدیث
تلاش
مزید
ہوم
حدیث
شرح و فہمِ حدیث
علومِ حدیث
شرح و فہمِ حدیث
حدیث میں تلاش
حدیث پڑھیں
موضوعاتی احادیث
حدیث کی تحقیق
میری احادیث
احادیث مع شرح
منتخب احادیث — عربی متن، ترجمہ، تشریح، درجہ اور تخریج کے ساتھ۔
اردو
English
2,220 احادیث
”
جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے، بشرط کہ وہ آسان کام گناہ نہ ہوتا۔ اگر وہ گناہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے۔
صحيح
متفق عليه
‹
”
اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔
صحیح
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
‹
”
کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔
صحیح
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
‹
”
نبی ﷺ مکہ میں دس سال رہے جب کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے۔
صحیح
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
‹
”
”بنی اسرائیل کی رہ نمائی انبیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کا جانشین دوسرا نبی بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ البتہ میرے بعد خلفا ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے“
صحيح
متفق عليه
‹
”
کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔
صحيح
متفق عليه
‹
”
رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مسعود میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے، رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے۔
صحیح
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
‹
”
اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ
صحیح
متفق علیہ
‹
”
بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں بندوں کو آزمانا چاہا، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی، صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا: کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہوگئی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”میں اندر اترتا ہوں“۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
اے اللہ ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیقِ اعلی میں شامل کردے۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالانکہ میں نے ان کو نہیں پایا۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس کا گوشت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھیج دو۔
صحیح
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
‹
”
ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ہم رات بھر چلتے رہے اور جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا اور مسافر کے لیے اس وقت کے پڑاؤ سے زیادہ مرغوب اور کوئی چیز نہیں ہوتی ( پھر ہم اس طرح غافل ہو کر سو گیے) کہ ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کوئی چیز بیدار نہ کر سکی۔ سب سے پہلے بیدار ہونے والا شخص فلاں تھا، پھر فلاں پھر فلاں، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
جب نبی ﷺ جنگِ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، چلیے ان کی طرف (حملہ کے لیے) نکلیے۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تواضع و انکسار کرنے والا بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔
صحیح
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
‹
”
غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کو سخت بھوک لگی، انہوں نے آپ ﷺ سے کہا یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنی سواری کے اونٹ ذبح کرلیں تاکہ ان کا گوشت کھائیں اور ان کے روغن سے فائدہ اٹھائیں۔
صحیح
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
‹
”
اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا پانی ہے تو لاؤ ورنہ پھر ہم منہ لگا کر ہی پانی پی لیتے ہیں۔
صحیح
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
‹
”
میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک سے آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، اور میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جاکر ثنیۃ الوداع پر ملا۔
صحیح
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
‹
”
ہم ایک غزوے میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ ںکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ہمارے درميان ایک ہی اونٹ تھا جس پرہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، میرا پاؤں بھی زخمی ہوگيا تھا
صحیح
متفق علیہ
‹
”
میں نہیں چاہتا کہ آپ ﷺ کا راز فاش کردو، ہاں اگر نبی ﷺ انھیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔
صحیح
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
‹
”
غزوۂ احد کے موقع پر مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریّہ بھیجا جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی نکلے۔
صحیح
متفق علیہ
‹
”
میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے اپنی نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا
صحيح
متفق عليه
‹
مزید