مسند احمد 26415

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
26415
قرطبہ نمبر
26458
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 6، صفحہ 282

مسند (صحابی کا باب): أحاديث فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم(باقي مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا يعقوب قال حدثني أبى عن محمد بن إسحاق قال حدثني يزيد بن أبى حبيب عن سليمان بن أبي سليمان عن أمه أم سليمان وكلاهما كان ثقة قالت : دخلت على عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فسألتها عن لحوم الأضاحي فقالت قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها ثم رخص فيها قدم علي بن أبى طالب من سفر فأتته فاطمة بلحم من ضحاياها فقال أو لم ينه عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت إنه قد رخص فيها قالت فدخل علي على رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك فقال له كلها من ذي الحجة إلى ذي الحجة هنا فانتفت شبهة تدليسه

اردو ترجمہ

حضرت فاطمہ (رض) کی مرویات

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو انھوں نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اسی دوران حضرت فاطمہ رونے لگیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ دوبارہ سرگوشی فرمانے لگے اس مرتبہ وہ ہنسنے لگیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ میرا وقت آخر قریب آگیا ہے اس پر میں رونے لگی، پھر فرمایا اور میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی، اس پر میں ہنسنے لگی تھی۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (96٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ أَوَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ كُلْهَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق وقد صرح بالتحديث

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

8 راوی · 2 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. حدثني
  6. عن
    محمد بن إسحاق✓ پروفائل
  7. حدثني
  8. عن
  9. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔