- رسالہ نمبر (معیاری)
- 26414
- قرطبہ نمبر
- 26457
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 6، صفحہ 282
مسند (صحابی کا باب): أحاديث فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا يزيد بن هارون قال أنا إبراهيم بن سعد قال ثنا أبى عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت : لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا ابنته فاطمة فسارها فبكت ثم سارها فضحكت فسألتها عن ذلك فقالت أما حيث بكيت فإنه أخبرني انه ميت فبكيت ثم أخبرني انى أول أهله لحوقا به فضحكت
اردو ترجمہ
حضرت فاطمہ (رض) کی مرویات
جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا تو میں نے دوبارہ ان سے اس کے متعلق پوچھا انھوں نے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال میرے ساتھ قرآن کریم کا دور ایک مرتبہ کرتے تھے جبکہ اس سال دو مرتبہ کیا میرا خیال ہے کہ میرا وقت آخرقر یب آگیا ہے اور میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آ کر ملو گی اور میں تمہارا بہترین پیشواہوں گا میں اسی بات پر روئی تھی اور پھر انھوں نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم اس امت کی تمام عورتوں کی سردار ہو اس پر میں ہنسنے لگی تھی۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
إسناده صحيح على شرط الشيخين
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔