مسند احمد 23957

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
23957
قرطبہ نمبر
24003
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 6، صفحہ 20

مسند (صحابی کا باب): مسند فضالة بن عبيد الأنصاري رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا أبو اليمان قال ثنا أبو بكر يعني بن أبي مريم عن الأشياخ عن فضالة بن عبيد الأنصاري قال : علمني النبي صلى الله عليه وسلم رقية وامرني أن أرقي بها من بدا لي قال لي قل ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض اللهم كما أمرك في السماء فاجعل رحمتك علينا في الأرض اللهم رب الطيبين اغفر لنا حوبنا وذنوبنا وخطايانا ونزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على ما بفلان من شكوى فيبرا قال وقل ذلك ثلاثا ثم تعوذ بالمعوذتين ثلاث مرات

اردو ترجمہ

حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات

حضرت فضالہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک جھاڑ پھونک کا عمل سکھایا اور مجھے اجازت دے دی کہ اس کے ذریعے جسے مناسب سمجھوں جھاڑ سکتا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا یوں کہا کرو ہمارا رب وہ اللہ ہے جو آسمانوں میں ہے تیرا نام مقدس ہے تیرا حکم زمین و آسمان میں چلتا ہے اے اللہ ! جس طرح تیرا حکم آسمان میں چلتا ہے اسی طرح زمین میں ہم پر اپنی رحمت نازل فرما اے پاکیزہ لوگوں کے رب اللہ ! ہماری لغزشات گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما اپنی رحمت نازل فرما اور فلاں آدمی جس تکلیف کا شکار ہے اسے اس سے شفاء عطا فرما کہ وہ تندرست ہوجائے تین مرتبہ یہ کہو پھر تین مرتبہ معوذتین پڑھو۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (98٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ عَنِ الْأَشْيَاخِ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُقْيَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْقِيَ بِهَا مَنْ بَدَا لِي قَالَ قُلْ رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اللَّهُمَّ كَمَا أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ عَلَيْنَا فِي الْأَرْضِ اللَّهُمَّ رَبَّ الطَّيِّبِينَ اغْفِرْ لَنَا حَوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَايَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَكْوَى فَيَبْرَأُ قَالَ وَقُلْ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ تَعَوَّذْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

6 راوی · 0 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. عن
  7. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔