اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے
شمائلِ نبوی ﷺ
”بےشک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔“ نبی ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر — اُن کی رحمت، تواضع، عبادت، سخاوت اور حلم — جیسا قرآن اور صحیحین نے محفوظ رکھا۔
1.وہ اخلاق جس کی تعریف خود اللہ نے کی
”بےشک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔“ جب عائشہؓ سے اُن کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اُن کا اخلاق قرآن تھا — وہ چلتا پھرتا قرآن تھے۔ اُن میں بہترین نمونہ ہے ہر اُس کے لیے جو اللہ اور آخرت کی اُمید رکھے۔
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے
narrated `abdullah bin `amr:allah's messenger (ﷺ) neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. he used to say, "the most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." he added, " learn the qur'an from (any of these) four persons. `abdullah bin mas`ud, salim the freed slave of abu hudhaifa, ubai bin ka`b, and mu`adh bin jabal
narrated `abdullah bin `amr:allah's messenger (ﷺ) neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. he used to say, "the most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." he added, " learn the qur'an from (any of these) four persons. `abdullah bin mas`ud, salim the freed slave of abu hudhaifa, ubai bin ka`b, and mu`adh bin jabal
ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔
ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
زہری بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ آئے تو ہم ( ان کے ساتھ آنے والے ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کرملے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً زبان سے کوئی بری بات نکالنے والے تھے اور نہ تکلف کرکے برا کہنے والے تھے ، نیز انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم میں سب سے اچھے لوگ وہی ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ "" عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے کہا : جس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے تھے ۔
إن في أخلاق النبي
قلنا لعائشة يا أم المؤمنين كيف كان خلق رسول الله قالت كان خلق رسول الله القرآن ثم قالت تقرأ سورة المؤمنين إقرأ ( ^ قد أفلح المؤمنون ) إلى العشر حتى بلغ العشر فقالت هكذا كان خلق رسول الله
2.اُن کی رحمت و نرمی
”یہ اللہ کی رحمت تھی کہ آپ اُن کے لیے نرم ہوئے۔“ وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے؛ دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو آسان کو لیتے، اور اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہ لیا۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا، رحم رحمن سے مشتق ( نکلا ) ہے، جس نے اس کو جوڑا اللہ اس کو ( اپنی رحمت سے ) جوڑے گا اور جس نے اس کو توڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے کاٹ دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
3.اُن کی تواضع اور سادگی
اُس نے حد سے بڑھی تعریف سے منع کیا: ”میری اِتنی تعریف نہ کرو جتنی نصاریٰ نے ابنِ مریم کی کی — میں تو صرف ایک بندہ ہوں۔“ وہ اپنی جوتی خود گانٹھتے، گھر کا کام کرتے، اور بندے کی طرح کھاتے۔
آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں
آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے
* زهد النبي -صلى الله عليه وسلم- وأخباره
فصل في تواضع النبي صلى الله عليه وسلم
4.اُن کی عبادت — یہاں تک کہ قدم سوج جاتے
وہ رات کو کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم پھٹ جاتے۔ پوچھا گیا کہ جب آپ کے گناہ معاف ہیں تو کیوں؟ فرمایا: ”کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“ اللہ کو سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو۔
رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا
اے کپڑے میں لپٹنے والے
رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا ( یہ کہا کہ ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔
1 ( 307 أبواب قيام الليل باب نسخ قيام الليل والتيسير فيه )
5.اُن کی سخاوت — چلتی ہوا کی طرح
وہ سب سے سخی تھے، اور رمضان میں سب سے زیادہ جب جبریل اُن سے ملتے — چلتی ہوا سے بھی زیادہ دینے والے۔ اُن سے کبھی کچھ مانگا گیا اور اُنہوں نے ”نہیں“ نہ کہا۔
اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے
يعني: الدنيا والآخرة كلها من جود النبي - عليه الصلاة والسلام - ماذا أبقى لله - جل وعلا-؟ هذا لا شك أنه صرف بحق الله - جل وعلا- إلى عبده ورسوله - عليه الصلاة والسلام-، الذي صرح بأنه لا يملك لأقرب الناس إليه شيئا، وحاول جاهدا هداية عمه الذي له اليد عليه وعلى دعوته فلم يستطع: {إنك لا تهدي من أحببت} [سورة القصص: 56] فالأمور أزمتها كلها بيد الله - جل وعلا-.
6.اپنے گھر والوں کے ساتھ اُن کا سلوک
وہ گھر کے کام میں مدد کرتے، اور جب نماز کا وقت آتا تو اُس کی طرف نکل جاتے۔ عائشہؓ نے فرمایا اُنہوں نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو نہ مارا — نہ خادم کو، نہ عورت کو — سوائے اللہ کی راہ میں۔
ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ۱؎۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔
7.اُن کا حلم، اُن کے ساتھ بھی جنہوں نے ظلم کیا
”معافی اختیار کرو، بھلائی کا حکم دو، اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔“ فتحِ مکہ کے دن، اُن سے جنہوں نے اُسے نکالا تھا، فرمایا: ”جاؤ، تم آزاد ہو۔“ اُحد میں زخمی ہو کر دعا کی: ”اے اللہ، میری قوم کو معاف کر، وہ نہیں جانتے۔“
آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ کہ مجھ سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا میں گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ آپ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کر دیا۔ لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے «اللهم اغفر لقومي» کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما۔ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔
8.اُن سے محبت اور اُن کی سنت کی پیروی
”کہہ دو: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔“ کوئی سچا مومن نہیں جب تک نبی ﷺ اُسے اپنے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں — اور یہ محبت سنت کے زندہ کرنے میں ظاہر ہوتی ہے۔
کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے
تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں
ادب و منہج
یہ نبی ﷺ کی طرف ایک کھڑکی ہے، مکمل سیرت نہیں — اُن کی زندگی کے واقعات کے لیے مخصوص سیرت صفحات دیکھیں۔ یہاں ہر خوبی اِس لیے رکھی گئی کہ اُس کی پیروی کی جائے، محض تعریف نہ ہو: اُنہیں بہترین نمونہ اِسی لیے بیان کیا گیا کہ اُن سے محبت اُن کی پیروی بن جائے۔ یہ سطریں جس محبت کو جگانا چاہتی ہیں وہ صرف جیتی ہوئی سنت میں مکمل ہوتی ہے۔