شمائلِ نبوی ﷺ

”بےشک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔“ نبی ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر — اُن کی رحمت، تواضع، عبادت، سخاوت اور حلم — جیسا قرآن اور صحیحین نے محفوظ رکھا۔

ہر آیت اور ہر حدیث کا حوالہ قرآن کے متن اور کتبِ حدیث سے جانچا گیا ہے۔ حدیث کا متن مفہوم ہے (لفظی نقل نہیں) — مکمل متن دیکھنے کے لیے حوالے پر کلک کریں۔

1.وہ اخلاق جس کی تعریف خود اللہ نے کی

”بےشک آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔“ جب عائشہؓ سے اُن کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اُن کا اخلاق قرآن تھا — وہ چلتا پھرتا قرآن تھے۔ اُن میں بہترین نمونہ ہے ہر اُس کے لیے جو اللہ اور آخرت کی اُمید رکھے۔

قرآنخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے

قرآنخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

narrated `abdullah bin `amr:allah's messenger (ﷺ) neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. he used to say, "the most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." he added, " learn the qur'an from (any of these) four persons. `abdullah bin mas`ud, salim the freed slave of abu hudhaifa, ubai bin ka`b, and mu`adh bin jabal

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

narrated `abdullah bin `amr:allah's messenger (ﷺ) neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. he used to say, "the most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." he added, " learn the qur'an from (any of these) four persons. `abdullah bin mas`ud, salim the freed slave of abu hudhaifa, ubai bin ka`b, and mu`adh bin jabal

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Bashar Awad Maarouf: حسن صحیح · Zubair Ali Zai: Isnaad صحیحخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

زہری بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : جب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ آئے تو ہم ( ان کے ساتھ آنے والے ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کرملے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً زبان سے کوئی بری بات نکالنے والے تھے اور نہ تکلف کرکے برا کہنے والے تھے ، نیز انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم میں سب سے اچھے لوگ وہی ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ "" عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے کہا : جس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے تھے ۔

کلاسیکیخود اللہ نے اُن کے اخلاق کی عظمت کی گواہی دی۔

قلنا لعائشة يا أم المؤمنين كيف كان خلق رسول الله قالت كان خلق رسول الله القرآن ثم قالت تقرأ سورة المؤمنين إقرأ ( ^ قد أفلح المؤمنون ) إلى العشر حتى بلغ العشر فقالت هكذا كان خلق رسول الله

2.اُن کی رحمت و نرمی

”یہ اللہ کی رحمت تھی کہ آپ اُن کے لیے نرم ہوئے۔“ وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے؛ دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو آسان کو لیتے، اور اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہ لیا۔

قرآنجہانوں کے لیے رحمت — نرم، جہاں سختی اُنہیں بکھیر دیتی۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے

قرآنجہانوں کے لیے رحمت — نرم، جہاں سختی اُنہیں بکھیر دیتی۔

اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے

قرآنجہانوں کے لیے رحمت — نرم، جہاں سختی اُنہیں بکھیر دیتی۔

تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad حسنجہانوں کے لیے رحمت — نرم، جہاں سختی اُنہیں بکھیر دیتی۔

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Bashar Awad Maarouf: حسن صحیح · Zubair Ali Zai: Isnaad حسنجہانوں کے لیے رحمت — نرم، جہاں سختی اُنہیں بکھیر دیتی۔

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا، رحم رحمن سے مشتق ( نکلا ) ہے، جس نے اس کو جوڑا اللہ اس کو ( اپنی رحمت سے ) جوڑے گا اور جس نے اس کو توڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے کاٹ دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

3.اُن کی تواضع اور سادگی

اُس نے حد سے بڑھی تعریف سے منع کیا: ”میری اِتنی تعریف نہ کرو جتنی نصاریٰ نے ابنِ مریم کی کی — میں تو صرف ایک بندہ ہوں۔“ وہ اپنی جوتی خود گانٹھتے، گھر کا کام کرتے، اور بندے کی طرح کھاتے۔

قرآنمخلوق میں سب سے معزز، اور سب سے متواضع۔

آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں

قرآنمخلوق میں سب سے معزز، اور سب سے متواضع۔

آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے

4.اُن کی عبادت — یہاں تک کہ قدم سوج جاتے

وہ رات کو کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم پھٹ جاتے۔ پوچھا گیا کہ جب آپ کے گناہ معاف ہیں تو کیوں؟ فرمایا: ”کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“ اللہ کو سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو۔

قرآنوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا

قرآنوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

اے کپڑے میں لپٹنے والے

قرآنوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیحوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح - Agreed Uponوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح - بخاری And مسلموہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا ( یہ کہا کہ ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔

کلاسیکیوہ نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ قدم سوج جاتے — شکر سے، ضرورت سے نہیں۔

1 ( 307 أبواب قيام الليل باب نسخ قيام الليل والتيسير فيه )

5.اُن کی سخاوت — چلتی ہوا کی طرح

وہ سب سے سخی تھے، اور رمضان میں سب سے زیادہ جب جبریل اُن سے ملتے — چلتی ہوا سے بھی زیادہ دینے والے۔ اُن سے کبھی کچھ مانگا گیا اور اُنہوں نے ”نہیں“ نہ کہا۔

قرآنسب سے سخی — اور رمضان میں سب سے زیادہ۔

اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے

کلاسیکیV8P3سب سے سخی — اور رمضان میں سب سے زیادہ۔

يعني: الدنيا والآخرة كلها من جود النبي - عليه الصلاة والسلام - ماذا أبقى لله - جل وعلا-؟ هذا لا شك أنه صرف بحق الله - جل وعلا- إلى عبده ورسوله - عليه الصلاة والسلام-، الذي صرح بأنه لا يملك لأقرب الناس إليه شيئا، وحاول جاهدا هداية عمه الذي له اليد عليه وعلى دعوته فلم يستطع: {إنك لا تهدي من أحببت} [سورة القصص: 56] فالأمور أزمتها كلها بيد الله - جل وعلا-.

6.اپنے گھر والوں کے ساتھ اُن کا سلوک

وہ گھر کے کام میں مدد کرتے، اور جب نماز کا وقت آتا تو اُس کی طرف نکل جاتے۔ عائشہؓ نے فرمایا اُنہوں نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو نہ مارا — نہ خادم کو، نہ عورت کو — سوائے اللہ کی راہ میں۔

قرآن”تم میں بہترین وہ جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو — اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہوں۔“

ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح Lighairihi · Zubair Ali Zai: حسن”تم میں بہترین وہ جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو — اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہوں۔“

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ۱؎۔

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Bashar Awad Maarouf: حسن صحیح · Zubair Ali Zai: حسن”تم میں بہترین وہ جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو — اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہوں۔“

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔

7.اُن کا حلم، اُن کے ساتھ بھی جنہوں نے ظلم کیا

”معافی اختیار کرو، بھلائی کا حکم دو، اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔“ فتحِ مکہ کے دن، اُن سے جنہوں نے اُسے نکالا تھا، فرمایا: ”جاؤ، تم آزاد ہو۔“ اُحد میں زخمی ہو کر دعا کی: ”اے اللہ، میری قوم کو معاف کر، وہ نہیں جانتے۔“

قرآناپنی سب سے بڑی طاقت کے دن، اُس نے معاف کیا۔

آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں

قرآناپنی سب سے بڑی طاقت کے دن، اُس نے معاف کیا۔

نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionاپنی سب سے بڑی طاقت کے دن، اُس نے معاف کیا۔

ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ کہ مجھ سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا میں گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ آپ بنی اسرائیل کے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے انہیں مارا اور خون آلود کر دیا۔ لیکن وہ نبی خون صاف کرتے جاتے اور یہ دعا کرتے «اللهم اغفر لقومي» کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما۔ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔

8.اُن سے محبت اور اُن کی سنت کی پیروی

”کہہ دو: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔“ کوئی سچا مومن نہیں جب تک نبی ﷺ اُسے اپنے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں — اور یہ محبت سنت کے زندہ کرنے میں ظاہر ہوتی ہے۔

قرآناُن سے محبت اُن کی پیروی سے ثابت ہوتی ہے۔

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے

قرآناُن سے محبت اُن کی پیروی سے ثابت ہوتی ہے۔

تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں

ادب و منہج

یہ نبی ﷺ کی طرف ایک کھڑکی ہے، مکمل سیرت نہیں — اُن کی زندگی کے واقعات کے لیے مخصوص سیرت صفحات دیکھیں۔ یہاں ہر خوبی اِس لیے رکھی گئی کہ اُس کی پیروی کی جائے، محض تعریف نہ ہو: اُنہیں بہترین نمونہ اِسی لیے بیان کیا گیا کہ اُن سے محبت اُن کی پیروی بن جائے۔ یہ سطریں جس محبت کو جگانا چاہتی ہیں وہ صرف جیتی ہوئی سنت میں مکمل ہوتی ہے۔