- رسالہ نمبر (معیاری)
- 24758
- قرطبہ نمبر
- 24802
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 6، صفحہ 107
مسند (صحابی کا باب): حديث السيدة عائشة رضي الله عنها(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا إسحاق قال حدثني مالك عن عبد الله بن أبي بكر عن أبيه عن عمرة انها أخبرته انها سمعت عائشة وذكر لها ان عبد الله بن عمر يقول : ان الميت ليعذب ببكاء الحي فقالت عائشة يغفر الله لأبي عبد الرحمن أما انه لم يكذب ولكنه نسي أو أخطأ إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكى عليها فقال انهم ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها
اردو ترجمہ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ابوبکر (رح) کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج کا انتقال ہوا تو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، میں عمرہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انھوں نے کہا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، البتہ وہ بھول گئے ہیں، دراصل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گذرے تھے جس پر لوگ رو رہے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہورہا ہے۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
إسناده صحيح على شرط مسلم
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔