مسند احمد 23746

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
23746
قرطبہ نمبر
23797
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 5، صفحہ 445

مسند (صحابی کا باب): حديث النعمان بن مقرن رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الصمد ثنا حرب يعنى بن شداد ثنا حصين عن سالم بن أبي الجعد عن النعمان بن مقرن قال : قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم في أربعمائة من مزينة فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأمره فقال بعض القوم يا رسول الله ما لنا طعام نتزوده فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعمر زودهم فقال ما عندي الا فأضله من تمر وما أراها تغني عنهم شيئا فقال انطلق فزودهم فانطلق بنا إلى عليه له فإذا فيها تمر مثل البكر الاورق فقال خذوا فأخذ القوم حاجتهم قال وكنت أنا في آخر القوم قال فالتفت وما أفقد موضع تمرة وقد احتمل منه أربعمائة رجل إلا أنه منقطع

اردو ترجمہ

حضرت نعمان بن مقرن (رض) کی حدیثیں

حضرت نعمان بن مقرن (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مزینہ کے ہم چار سو افراد حاضر ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جو احکام دینے تھے سو دے دیئے پھر کچھ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے جو ہم زاد راہ کے طور پر استعمال کرسکیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا کہ انھیں زاد راہ دے دو انھوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو بچی کچھی تھوڑی سی کھجوریں ہیں اور میرا خیال نہیں ہے کہ وہ انھیں کچھ بھی کفایت کرسکیں گی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انھیں وہی دے دو چنانچہ حضرت عمر (رض) ہمیں لے کر اپنے ایک بالا خانے کی طرف چل پڑے جہاں خاکستری اونٹ کی طرح کچھ کھجوریں پڑی ہوئی تھیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا اٹھا لو چنانچہ سب لوگ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھانے لگے میں سب سے آخر میں تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ایک کھجور کی جگہ بھی خالی نہیں ہوئی تھی حالانکہ وہاں سے چار سو آدمیوں نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (95٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ زَوِّدْهُمْ فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةٌ مِنْ تَمْرٍ وَمَا أُرَاهَا تُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عُلِّيَّةٍ لَهُ فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ فَقَالَ خُذُوا فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ قَالَ وَكُنْتُ أَنَا فِي آخِرِ الْقَوْمِ قَالَ فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ وَقَدْ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُ مِائَةِ رَجُلٍ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

صحيح لغيره وهذا إسناد رجاله ثقات رجال الشيخين

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 2 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. ثنا
  7. عن
  8. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔