مسند احمد 12491

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
12491
قرطبہ نمبر
12513
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 3، صفحہ 147

مسند (صحابی کا باب): مسند أنس بن مالك رضي الله عنه(مسند المكثرين من الصحابة)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا يونس بن محمد ثنا حماد بن زيد عن هشام عن محمد عن أنس قال حماد والجعد قد ذكره قال : عمدت أم سليم إلى نصف مد شعير فطحنته ثم عمدت إلى عكة كان فيها شيء من سمن فاتخذت منه خطيفة قال ثم أرسلتني إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال فأتيته وهو في أصحابه فقلت ان أم سليم أرسلتني إليك تدعوك فقال أنا ومن معي قال فجاء هو ومن معه قال فدخلت فقلت لأبي طلحة قد جاء النبي صلى الله عليه وسلم ومن معه فخرج أبو طلحة فمشى إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم قال فقال يا رسول الله إنما هي خطيفة اتخذتها أم سليم من نصف مد شعير قال فدخل فأتى به قال فوضع يده فيها ثم قال أدخل عشرة قال فدخل عشرة فأكلوا حتى شبعوا ثم دخل عشرة فأكلوا ثم عشرة فأكلوا ثم عشرة فأكلوا حتى أكل منها أربعون كلهم أكلوا حتى شبعوا قال وبقيت كما هي قال فأكلنا

اردو ترجمہ

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم (رض) نے نصف مد کے برابر جو پیسے، پھر گھی کا ڈبہ اٹھایا، اس میں سے تھوڑا سا جو گھی تھا وہ نکالا اور ان دونوں چیزوں کا ملا کر " خطیفہ " (ایک قسم کا کھانا) تیار کیا اور مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلانے کے لیے بھیج دیا، میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام (رض) کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ام سلیم (رض) نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی ؟ یہ کہہ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ (رض) سے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چلے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہاں تو تھوڑا سا " خطیفہ " ہے جو ام سلیم نے نصف مد کے برابر جو سے بنایا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چنانچہ دس آدمی اندر آئے اور انھوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے چالیس آدمیوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیر ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا، ہم نے بھی اسے کھایا۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناداه صحيحان على شرط الشيخين

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 1 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. عن
  7. عن
  8. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔