اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے
کبیرہ گناہ — اور توبہ کا دروازہ
قرآن اور صحیح سنت جن گناہوں کو سب سے سنگین قرار دیتے ہیں — اور وہ رحمت جو لوٹنے والے کے لیے اُن سب پر بھاری ہے۔
نوٹ: قرآن کی عربی تلاوت مشینی آواز میں نہیں سنائی جاتی — صرف اردو ترجمہ بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کا مفہوم بیان ہوا ہے، لفظی ترجمہ نہیں۔ اصل تلاوت کے لیے حوالے پر جائیں۔
1.کوئی گناہ ”کبیرہ“ کس بنا پر بنتا ہے
کبیرہ گناہ وہ ہے جسے نصوص آگ کی وعید، لعنت، اللہ کے غضب، مقررہ حد، یا ایمان سے خارج ہونے کے ساتھ خاص کرتی ہیں۔ علماء اِن کی گنتی پر متفق نہیں؛ اتفاق اِس پر ہے کہ یہ وہی گناہ ہیں جنہیں خود وحی نے سنگین قرار دیا۔
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
اور کبیره گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کردیتے ہیں
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تباہ کر دینے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی بچو۔“
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، ان سے غیلان نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں ( تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کر دینے والا سمجھتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث میں جو لفظ «موبقات» ہے اس کا معنی ہلاک کرنے والے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ کیا کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، بخیلی، کسی شخص کا قتل جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے وقت پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا، اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا“۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
عبد العزیز بن عبداللہ، سلیمان، ثور بن زید، ابوالغیث حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ہلاک کرنے والی چیزوں سے یعنی اللہ کے ساتھ شریک بنانے اور جادو سے بچو۔
ابو الولید، مہدی، غیلان، حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، حالانکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لوگ انھیں موبقات میں شمار کرتے تھے۔ ابوعبداللہ (بخاری) نے کہا، کہ مُوبِقَاتِ سے مراد مُهْلِکَاتِ (یعنی ہلاک کرنے والی ہیں) ۔
2.سب سے بڑا گناہ — شرک
قرآن دو بار فرماتا ہے کہ اللہ اِس کو معاف نہیں کرتا کہ اُس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، اور اِس سے کم جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ ہر نبی کی پہلی دعوت اِسی کو چھوڑنے کی تھی۔
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا
اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوه گناه جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے
بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا
it was narrated that 'ubaidullah bin abi bakr said:"i heard anas say: 'the messenger of allah [saw] said: the major sins are: associating others with allah (shirk), disobeying one's parents, killing a soul (murder) and speaking falsely
it was narrated that 'ubaidullah bin abi bakr said:"i heard ana's say: 'the messenger of allah said: 'the major sins are; associating others with allah (shirk), disobeying one's parents, killing a soul (murder) and speaking falsely
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تباہ کر دینے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی بچو۔“
AUTO 643 - حديث "اجتنبوا الموبقات: الشرك بالله"
قلنا: الشرك بالله، والزنا، والسرقة، وشرب الخمر.
3.جادو
سات ہلاک کرنے والوں کی حدیث میں جادو کا نام شرک کے فوراً بعد آتا ہے؛ قرآن اِسے کفر اور لوگوں کو سکھائے گئے ضرر سے جوڑتا ہے۔
اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے
وقال {ما جئتم به السحر} يقول: "الذي جئتم به السحر" وقال بعضهم (آلسحر) بالاستفهام.
بنسبة السحر إليه، وقيل: كفروا باستخراج السحر.
4.نماز چھوڑنا
قرآن اُس نسل سے خبردار کرتا ہے جنہوں نے ”نماز ضائع کی اور خواہشات کے پیچھے چلے“؛ حدیث نماز کو ہمارے اور اُن کے درمیان عہد کہتی ہے۔ (نماز کے وجوب کا اقرار کرتے ہوئے چھوڑنے والے کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے — یہاں نصوص سنگینی بیان کرتی ہیں، کسی فرد پر فیصلہ نہیں۔)
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا
ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے
جو اپنی نماز سے غافل ہیں
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ
وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے
ابو سفیان سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک آدمی اورشرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز کا ترک ہے ۔ ‘ ‘
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز معاہدہ ہے ۱؎، جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا ۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو ( فرق کرنے والا ) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہو جائے گا ۱؎۔
ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس روایت میں إن’’بےشک ‘ ‘ کا لفظ نہیں ، باقی وہی ہے ۔)
5.ناحق قتل
قرآن ایک جان کے ناحق قتل کو تمام لوگوں کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے، اور کسی مومن کے قصداً قتل پر ہمیشہ کے غضب سے خبردار کرتا ہے۔
اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ﻇاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ﻇلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا
it was narrated that 'abdullah said:"the first matter concerning which scores will be settled among the people will be bloodshed
it was narrated from 'abdullah that:the messenger of allah [saw] said: "the first matter concerning which scores will be settled among the people on the day of resurrection will be bloodshed
ابو ماعز اسلمی سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے تھے عبداللہ بن عمر کے ساتھ اتنے میں ایک عورت آئی مسئلہ پوچھنے ان سے، تو کہا اس عورت نے کہ میں نے قصد کیا خانہ کعبہ کے طواف کا جب مسجد کے دروازے پر آئی تو مجھے خون آنے لگا سو میں چلی گئی جب خون موقوف ہوا تو پھر آئی جب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو خون آنے لگا تو میں پھر چلی گئی پھر جب خون موقوف ہوا پھر آئی جب مسجد کے دروزاے پر پہنچی تو پھر خون آنے لگا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ لات ہے شیطان کی، تو غسل کر پھر کپڑے سے شرمگاہ کو باندھ اور طواف کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ سعد بن ابی وقاص جب مسجد میں آتے اور نویں تاریخ قریب ہوتی تو عرفات کو جاتے قبل طواف اور سعی کے پھر جب وہاں سے پلٹتے تو طواف اور سعی کرتے ۔
it was narrated that 'abdullah said:"the messenger of allah [saw] said: 'the first matter concerning which judgment will be passed among the people will be bloodshed
- شرعيا: كحل النكاح، وحرمة قتل النفس بغير حق.
ونقل العلامة الدواني من الروياني من أصحاب الشافعي رحمة الله عليه أنه قال: الكبائر هذه قتل النفس بغير حق، والزنا، واللواطة، وشرب الخمر، والسرقة، وأخذ المال غصبا، والقذف، وشرب كل مسكر ملحق بشرب الخمر، وشرط في الغصب أن يبلغ دينارا، وشهادة الزور، وأكل الربا، والإفطار في نهار رمضان بلا عذر، واليمين
6.سود (ربا)
”اگر تم نے (سود) نہ چھوڑا تو اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔“ سنت سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور گواہ سب پر لعنت کرتی ہے۔
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو
اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب ( لکھنے والے ) پر لعنت فرمائی ہے۔
it was narrated from husain, mughirah, and ibn 'awn, from ash-sh'abi, from al-harith, from 'ali, that:the messenger of allah [saw] cursed the one who consumes riba, the one who pays it, the one who writes it down, and the one who withholds sadaqah (zakah). and he used to forbid wailing (in mourning for the dead)
it was narrated that from 'ata' bin as-sa'ib, from ash-sha'bi who said:"the messenger of allah [saw] cursed the one who consumes riba, the one who pays it, the one who witnesses it and the one who writes it down; the woman who does tattoos and the woman who has that done; and forbade wailing (in mourning), but he did not say that its doer is cursed
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا : ( گناہ میں ) یہ سب برابر ہیں ۔
محمد بن مثنی، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ثقفی، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا باقی حدیث پہلی کی طرح ہے ابن ابی عمر نے فرمایا کہ یہ سود ہی ہے۔
قبیصہ بن عقبہ، سفیان، عاصم، شعبی، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ سود کے متعلق تھی۔
وأما قوله: )نهى عن أكل الربا، وعن الشهادة على الربا، وعن كتابة الربا، وعن إطعام الربا، ولعن آكل الربا، ومواكله، وكاتبه، وشاهده(.
116 آكل الربا
7.یتیم کا مال کھانا
”جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں بس آگ بھرتے ہیں۔“ یہ سات ہلاک کرنے والوں میں شمار ہے۔
جو لوگ ناحق ﻇلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: « ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام: ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں“ ( النساء: ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير » سے « لأعنتكم» ”اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے ( سورۃ الانعام: ۱۵۲ ) : اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں ( سورۃ النساء: ۱۰ ) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم» اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۰ ) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
عبد ہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا ( بڑھاتا ) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے ( خودبھی ) کھاسکتا ہے ۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ) 4 ۔ النساء : 6) اور جو حاجت مند ہو تو وہ دستور کے مطابق کھالے۔ اس کے بارے میں فرماتی ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی یتیم کے مال کا ولی ایسا آدمی ہو کہ جو اس کی سرپرستی بھی کرتا ہو اور اس کے مال کی دیکھ بھال بھی کرتا ہو تو اگر وہ محتاج ہو تو وہ اس کے مال میں سے انصاف کے ساتھ کچھ کھا سکتا ہے۔
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان، بن بلال، ثور بن زید، ابوغیث، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سات ہلاکت میں ڈال دینے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کونسی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور جادو کرنا اور کسی نفس کا قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا سوائے حق کے اور یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، جہاد سے دشمن کے مقابلہ سے بھاگنا اور پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا۔
وكذلك أكل مال اليتيم يجوز للضرورة بل يجب بها وبالإكراه بالقتل
8.زنا
”زنا کے قریب بھی نہ جاؤ — بےشک یہ بےحیائی اور بُرا راستہ ہے۔“ حدیث سکھاتی ہے کہ فعل کے لمحے ایمان بندے سے نکل جاتا ہے۔
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے
زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیئے
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا
شعبہ نے سلیمان سے ، انہوں نے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تا ہے تو مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب وہ پی رہا ہو تو مومن ہو ۔ اور ( ان کو ) بعد میں توبہ کا موقع دیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
it was narrated from abu hurairah that the messenger of allah said:"no one who commits zina is a believer at the moment when he is committing zina; no one who steals is a believe at the moment when he is stealing; no one who drinks wine is a believer at the moment when he is drinking it; and no robber is a believer at the moment when he is robbing and the people are looking on
it was narrated that abu hurairah said:"the messenger of allah [saw] said: 'the adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and people are looking on
محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، اعمش، ذکوان، حضرت ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے پھر آگے شعبہ کی حدیث کے مثل ہے۔
آدم، شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لڑکا بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔
9.پاکدامن پر تہمت
قرآن اُن لوگوں کو جو پاکدامن، بےخبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں دنیا و آخرت میں ملعون اور عذابِ عظیم کا مستحق قرار دیتا ہے۔
جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں
10.میدانِ جنگ سے فرار
دو لشکروں کے ٹکراؤ کے دن پیٹھ پھیرنا — سوائے حکمتِ جنگ یا کسی دستے سے جا ملنے کے — قرآن میں اللہ کے غضب کا سبب اور سات ہلاک کرنے والوں میں شمار ہے۔
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا
اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا جو (اپنی) جماعت کی طرف پناه لینے آتا ہو وه مستثنیٰ ہے۔ باقی اور جو ایسا کرے گا وه اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا وه بہت ہی بری جگہ ہے
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ کیا، ( پھر ہم ) لوگ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا: ہلاک ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف یزید بن ابی زیاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- «فحاص الناس حيصة» کا معنی یہ ہے کہ لوگ لڑائی سے فرار ہو گئے، ۳- اور «بل أنتم العكارون» اس کو کہتے ہیں: جو فرار ہو کر اپنے امام ( کمانڈر ) کے پاس آ جائے تاکہ وہ اس کی مدد کرے نہ کہ لڑائی سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔
وواحدة في الرجلين: الفرار من الزحف.
11.والدین کی نافرمانی
قرآن اللہ کی اکیلی عبادت کے حکم کے ساتھ والدین سے احسان کو ملاتا ہے، حتیٰ کہ ”اُف“ کہنے سے بھی روکتا ہے؛ حدیث والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا شمار کرتی ہے۔
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
ہم سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ کوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شیبان نحوی نے خبر دی، انہوں نے فراش بن یحییٰ سے، انہوں نے عامر شعبی سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ ایک گنوار ( نام نامعلوم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا: یا رسول اللہ! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ اس نے پوچھا پھر کون سا گناہ؟ آپ نے فرمایا ”ماں باپ کو ستانا۔“ پوچھا: پھر کون سا گناہ؟ آپ نے فرمایا ” «غموس . » قسم کھانا۔“ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! «غموس . » قسم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جان بوجھ کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا۔“
محمد بن حسین بن ابراہیم، عبیداللہ، شیبان، فراس، شعبی عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور دریافت کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبائر کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ کسی کو اللہ کا شریک بنانا، اس نے پوچھا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا کہ یمین غموس، میں نے دریافت کیا کہ یمین غموس کیا چیز ہے، آپ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان کا مال ہضم کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھاتا ہے۔
وهي عقوق الوالدين.
إثم عقوق الوالدين
12.قطع رحمی
قرآن اُن پر لعنت کرتا ہے جو اُس رشتے کو کاٹتے ہیں جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا؛ حدیث صاف کہتی ہے کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے
اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو
یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے
یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، محمد بن جبیر مطعم، جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی جویریہ مالک زہری، محمد بن حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
13.جھوٹی گواہی اور جھوٹ
سب سے بڑے گناہوں سے خبردار کرتے ہوئے، نبی ﷺ ٹیک لگائے ہوئے سیدھے بیٹھ گئے اور ”اور جھوٹی بات، اور جھوٹی گواہی“ اِتنا دہراتے رہے کہ صحابہ نے چاہا کاش آپ خاموش ہو جائیں، اِتنا بھاری تھا یہ آپ پر۔
اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں
یہ ہے اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کیے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہئے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہئے
اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد واسطی نے بیان کیا، ان سے جریری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی ( سب سے بڑے گناہ ہیں ) آگاہ ہو جاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش نہیں ہوں گے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا، ( اور یہ بھی بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ”ہاں اور جھوٹی بات بھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا، کاش آپ خاموش ہو جاتے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ صحابہ نے عرض کیا، ہاں یا رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کا کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا، ہاں اور جھوٹی گواہی بھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ ہم کہنے لگے کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے۔ اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جریری نے بیان کیا، اور ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا۔
محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر، حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا : یا آپ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل کرنا، والدین کی نافرمانانی کرنا، پھر فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یا جھوٹی گواہی دینا، شعبہ نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
محمد بن ولید بن عبدالحمید، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل فرماتے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا، کسی نفس کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان بڑے گناہوں میں سے شرک کے بعد سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جھوٹی بات کہنا یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا شعبہ کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا وہ جھوٹی گواہی ہے۔
14.زبان کے گناہ — غیبت و چغلی
قرآن غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دیتا ہے؛ حدیث فرماتی ہے کہ چغل خور (نمّام) جنت میں داخل نہ ہوگا۔
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے
بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور
ابووائل نےحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی کہ ان کو پتہ چلا کہ ایک آدمی ( لوگوں کی باہمی ) بات چیت کی چغلی کھاتا ہے توحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے : ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں نہیں داخل ہو گا“ ۱؎۔ سفیان کہتے ہیں: «قتات»، «نمام» ”چغل خور“ کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
محمد بن مقاتل، عبداللہ، عاصم بن سهیل، شعبی، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم کو گھر چھوڑے ایک مدت گذر گئی ہو تو اچانک رات کو گھر میں نہ آیا کرو۔
شیبان بن فروخ، عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، واصل، ابو وائل، حذیفہ حضرت ابو وائل (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) تک یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی ادھر کی بات ادھر لگاتا پھرتا ہے تو حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
15.وہ دروازہ جو کبھی بند نہیں ہوتا — توبہ
”کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو — بےشک وہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔“ اللہ رات کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کے گناہگار کی توبہ قبول کرے، اور دن کو رات کے گناہگار کی۔
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے
تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے
جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ( منافقین کے سردار ) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے ( مسلمان ) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس کا جنازہ تیار کر کے ) مجھے اطلاع دینا ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ( سورة التوبة: 80 ) تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ( سورة التوبة: 84 ) منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں ( سورة التوبة: ۱۸ ) ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوعبید کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوعبید کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت کریمہ اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( سورة التوبة: 108 ) ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پانی سے استنجاء کرتے تھے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عمر بن مرہ (رض) حضرت ابوموسی (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے تاکہ دن کے گناہ گار کی توبہ قبول کرے اور اپنا ہاتھ دن کو پھیلاتا رہتا ہے تاکہ رات کے گناہ گار کی توبہ قبول کرے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔
ابوکریب، وکیع، زہیر بن حرب، اسحاق بن یوسف الازرق، فضیل بن غزوان اسی حدیث کی دوسری اسناد مذکور ہیں ان میں یہ ہے کہ میں نے ابولقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی التوبہ سے سنا۔
16.سچی توبہ کی شرائط
قرآن ”سچی توبہ“ (توبۃ نصوح) کا حکم دیتا ہے؛ حدیث ندامت کو اِس کی جان قرار دیتی ہے، اور اللہ اِسے اُس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک روح حلق تک نہ پہنچے اور سورج مغرب سے نہ نکلے۔
اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان والوں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے
جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ﻇاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ﻇاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ﻇاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا ۔
17.امید و خوف کے درمیان — ناامیدی بذاتِ خود حرام
اللہ کی رحمت سے صرف کافر قوم مایوس ہوتی ہے۔ مومن اُس خوف کے درمیان چلتا ہے جو گناہ سے روکے اور اُس امید کے درمیان جو مایوسی سے بچائے — اور اپنے رب کے ساتھ اچھا گمان رکھتے ہوئے مرتا ہے۔
میرے پیارے بچو! تم جاؤ اور یوسف (علیہ السلام) کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقیناً رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے
گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ سخت عذاب واﻻ انعام و قدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی پر بھی موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ عزوجل کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ سے بڑھ کر ہے۔“
ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔
اسماعیل، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے پاس عرش کے اوپر لکھا کہ میری رحمت، میرے غضب پر غالب آگئی ہے۔
كتاب الرجاء والخوف
كتاب الرجاء والخوف
ادب و منہج
یہ صفحہ اُس کو جمع کرتا ہے جسے وحی سنگین قرار دیتی ہے — یہ عدالت نہیں۔ یہ کسی متعین شخص پر فیصلہ نہیں سناتا، اور جان بوجھ کر یہ نہیں گنتا کہ کبیرہ گناہ ”کتنے“ ہیں، کیونکہ خود سلف میں اختلاف ہے۔ جہاں کسی فعل کا حکم مختلف فیہ ہے (جیسے ترکِ نماز)، وہاں سنگینی بیان کی گئی اور اختلاف کی نشاندہی کی گئی، فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہاں کی سب سے بھاری آیت اثر میں سب سے ہلکی ہے: توبہ کا دروازہ۔ اوپر بیان کیا گیا کوئی گناہ امید توڑنے کے لیے نہیں — ہر ایک کو اُس رحمت کے پہلو میں رکھا گیا ہے جو لوٹنے والے کے لیے اُسے مٹا دیتی ہے۔