ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے
موت، برزخ اور آخرت
وہ سفر جو ہر جان کرے گی — موت کا مزہ، قبر کی پہلی رات، اللہ کے سامنے کھڑا ہونا، اور دو گھر جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔
نوٹ: قرآن کی عربی تلاوت مشینی آواز میں نہیں سنائی جاتی — صرف اردو ترجمہ بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کا مفہوم بیان ہوا ہے، لفظی ترجمہ نہیں۔ اصل تلاوت کے لیے حوالے پر جائیں۔
1.ہر جان موت کا مزہ چکھے گی
”ہر جان موت کا مزہ چکھے گی۔“ تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں پا لے گی۔ نبی ﷺ نے نصیحت کی: لذتوں کو توڑنے والی (موت) کو کثرت سے یاد کرو، اور دنیا میں مسافر کی طرح رہو۔
تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو، اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔ انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وه تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وه تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ ( کندھا ) تھاما اور فرمایا: عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔
دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راہگیر۔ جب شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور اپنی صحت سے اپنی بیماری کے لیے فائدہ اٹھاؤ اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابومنذر طفاوی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔
* ذكر الموت
وكتاب ذكر الموت
2.سکراتِ موت
”موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آتی ہے۔“ فرشتے نیک روح کو اُس وقت لیتے ہیں جب وہ پاک ہو؛ اپنے مرنے والوں کو ”لا الہ الا اللہ“ کی تلقین کرو۔
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا
پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے
اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو
وه جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وه پاک صاف ہوں کہتے ہیں کہ تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے، جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔ صحیح مسلم/الجنائز ۱ ( ۹۱۷ ) ، ( تحفة الأشراف:)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو ( جو مرنے کے قریب ہوں ) «لا إله إلا الله»کی تلقین کرو ۔
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اپنے مرنے والے لوگوں کو لاالٰہ الا اللہ کی تلقین کرو ۔
* 3 - سكرات الموت
سكرات الموت
3.قبر — آخرت کی پہلی منزل
”اُن کے پیچھے ایک برزخ ہے اُس دن تک جب اٹھائے جائیں گے۔“ نبی ﷺ نے قبر کو آخرت کی پہلی منزل کہا؛ اللہ مومن کو پکی بات پر ثابت رکھتا ہے، اور دو فرشتے سوال کرنے آتے ہیں۔
کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک
آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو
[عذاب القبر ونعيمه]
113 ( عذاب القبر ونعيمه )
[عذاب القبر ونعيمه وموقف النصارى منه]
4.ربّ العالمین کے سامنے کھڑا ہونا
”وہ دن جب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ — وہ دن جب آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ کسی بندے کے قدم نہ ہٹیں گے یہاں تک کہ اُس کی عمر، علم، مال اور بدن کے بارے میں پوچھا جائے۔
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
اس دن آدمی اپنے بھائی سے
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا
5.جنت — جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا
اُس جنت کی طرف دوڑو جو آسمانوں اور زمین جتنی کشادہ ہے۔ اُس میں وہ سب ہے جو دل چاہیں اور آنکھیں لطف پائیں۔ اللہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ تیار کیا ہے جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا۔
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے
ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا، ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے
on the authority of abu hurayrah (may allah be pleased with him), who said that the messenger of allah (ﷺ) said: allah said: i have prepared for my righteous servants what no eye has seen and no ear has heard, not has it occurred to human heart. thus recite if you wish (1): and no soul knows what joy for them (the inhabitants of paradise) has been kept hidden (quran 32:17). (1) the words "thus recite if you wish" are those of abu harayrah. it was related by al-bukhari, muslim, at-tirmidhi and ibn majah
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا کہا، ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔“
مالک نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کرکے جمع کررکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان ( کے تصور ) کا گزر ہوا ۔ ( یہ ) ان ( نعمتوں کے ) علاوہ ہے جن کے ) علاوہ ہے ۔ جن کے بارے میں تمھیں اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیاہے ۔
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں، جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے۔ اگر جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين» ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں۔“
6.جہنم — رحمت کی ایک تنبیہ
”اُس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا یہ دنیاوی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اِس سے اِس لیے خبردار کیا گیا کہ اِس سے بھاگا جائے — جب تک بھاگنا ممکن ہے۔
پس اگر تم نے نہ کیا اور تم ہرگز نہیں کرسکتے تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وه عذاب چکھتے رہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت واﻻ ہے
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اس کے ہر حصے کی گرمی اسی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسعید کی روایت سے حسن غریب ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھائی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ دوبارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے ۔
7.باقی رہنے والا گھر
یہ دنیاوی زندگی محض کھیل ہے؛ آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے۔ موت کو مینڈھے کی صورت لا کر دونوں گھروں کے درمیان ذبح کیا جائے گا، اور پکارا جائے گا: اے اہلِ جنت، ہمیشگی، کوئی موت نہیں؛ اے اہلِ جہنم، ہمیشگی، کوئی موت نہیں۔
اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے
دار القرار
أيا من يؤمل طول الخلود ... وطول الخلود عليه ضرر
ادب و منہج
یہ صفحہ دل کو نرم کرنے کے لیے ہے، اُسے کچلنے کے لیے نہیں۔ جہنم کو یہاں جنت کے پہلو میں جان بوجھ کر رکھا گیا — سنت کبھی تنبیہ کو اُمید کے بغیر بیان نہیں کرتی۔ جسے اِن آیات میں صرف خوف ملے اُس نے آدھی پڑھیں؛ وہی نصوص جو آگ بیان کرتی ہیں لوٹنے والے کے لیے اُس پر سبقت لے جانے والی رحمت بھی بیان کرتی ہیں۔ اِسے پڑھو، اور تیاری کرو — ہر زندگی میں ایک ہی یقینی چیز اِس صفحے پر بیان کیا گیا سفر ہے۔