حدیث ۳۶۰ · ترمذی 3529

حدیث ۳۶۰ — ایک حدیث، سب کچھ

ایک مجموعہ چنیں اور حدیث نمبر لکھیں — عربی متن، ترجمہ، تمام درجات، حوالہ اور متعلقہ اوزار ایک اسکرین پر۔

حدیث، اس کا ترجمہ، درجہ اور مفہوم۔

زبان

ترمذی 3529(کتاب 48:160)Ahmad Muhammad Shakir: SahihAl-Albani: SahihBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasanتصدیقپوسٹر

حدیث (عربی متن)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنَا مِمَّا، سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَلْقَى إِلَىَّ صَحِيفَةً فَقَالَ هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَنَظَرْتُ فِيهَا فَإِذَا فِيهَا إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضى الله عنه قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا بَكْرٍ قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرَكِهِ وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏

ترجمہ

ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا ورق ہمارے آگے بڑھا دیا، اور کہا: یہ وہ کاغذ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کر دیا ہے ۱؎، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں صبح اور شام میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! ( یہ دعا ) پڑھا کرو: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب كل شيء ومليكه أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب ( پالنے والا ) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

4 راوی · 1 کی شناخت یقینی
  1. امام ترمذیؒ(مصنف)
  2. حَدَّثَنَا
  3. حَدَّثَنَا
  4. عَنْ
  5. عَنْ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں

1 ہم الفاظ · 1 جزوی · 2 متون کا گروہ

یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔

وہی روایت (الفاظ ملتے ہیں)

اوپر حدیث، اس کا ترجمہ اور درجہ موجود ہے۔ مزید گہرائی کے لیے اوپر «گہرائی» بدلیں یا نیچے کے ٹیبز کھولیں: صحت، شرح، متعلقہ روایات اور تحقیقی مواد۔

اس حدیث کے ساتھ میری پیش رفت

یہ صرف آپ کے آلے پر محفوظ ہوتا ہے۔