ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ تو رگ ( کا خون ) ہے، ( خالد کہتے ہیں: اور اس روایت میں جسے میں نے ہشام پر پڑھا ہے «وليست بالحيضة» کا جملہ نہیں ہے ) تو جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لو، پھر نماز پڑھو۔
سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے
5 راوی · 1 کی شناخت یقینی
امام نسائیؒ(مصنف)
أَخْبَرَنَا— عموماً قراءت — شاگرد نے پڑھا، استاد نے سنا
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
2 ہم الفاظ · 3 جزوی · 23 متون کا گروہ
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔