سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ( اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں ) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے ( کھائے پئے ) اور فدیہ دیدے ( تو وہ ایسا کر لیتا ) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔
سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے
6 راوی · 1 کی شناخت یقینی
امام نسائیؒ(مصنف)
أَخْبَرَنَا— عموماً قراءت — شاگرد نے پڑھا، استاد نے سنا
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
5 ہم الفاظ · 0 جزوی · 6 متون کا گروہ
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔