۔ عبد العزیز بن مسلم اورمالک بن انس نے اپنی اپنی سندوں سے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے ، اسی اثناء میں ان کے پاس آنے والا ایک شخص ( عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) آیا اور اس نے کہا : بلاشبہ رات ( گزشتہ دن کے آخری حصے میں ) رسول اللہ ﷺ پر قرآن اترا ۔ اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ کی طرف رخ کریں ، لہٰذا تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو ۔ ان کے رخ شام کی طرف تھے تو ( اسی وقت ) وہ سب کعبہ کی طرف گھوم گئے ۔ 1179 ۔ موسیٰ بن عقبہ نے نافع اور عبد اللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے ، ان کے پاس ایک آدمی آیا .... باقی حدیث امام مالک کی ( سابقہ ) روایت کی طرح ہے ۔
اِس حدیث کی متعدد اسانید ہیں («ح» — تحویل)؛ یہاں آخری سند دکھائی گئی ہے جو متن تک پہنچتی ہے۔
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
8 ہم الفاظ · 0 جزوی · 9 متون کا گروہ
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔