امام مالک بن انس نے ابن شہاب زہری سے انھوں نے عطا ء بن یزید لیثی سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انصار کے کچھ لوگو ں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال کا سوال کیا آپ نے ان کو دے دیا انھوں نے پھر مانگا آپ نے دے دیا حتیٰ کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا تو آپ نے فر ما یا : " میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے ہر گز تم سے ( بچا کر ذخیرہ نہ کروں گا ( تمھی میں بانٹ دو ں گا ) جو شخص سوال سے بچنے کی کو شش کرے گا اللہ اسے بچا ئے گا اور جو استغنا ( بے نیازی ) اختیار کرے گا اللہ اس کو بے نیاز کر دے گا اورجو صبر کرے گا ( سوال سے باز رہے گا ) اللہ تعا لیٰ اس کو صبر ( کی قوت ) قناعت فر ما ئے گا اور کسی کو ایسا کو ئی عطیہ نہیں دیا گیا جو صبر سے بہتر اور وسیع تر ہو ۔
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
6 ہم الفاظ · 0 جزوی · 7 متون کا گروہ
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔