حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ـ وَهْوَ ابْنُ أُمِّ سَلَمَةَ ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ نَوَاحِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلْ مِمَّا يَلِيكَ ".
ترجمہ
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ دیلی نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان ابونعیم نے بیان کیا، ان سے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے (ابوسلمہ سے) بیٹے ہیں۔ بیان کیا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور برتن کے چاروں طرف سے کھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے نزدیک سے کھا۔
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
اس حدیث کی شرح
مطبوعہ نسخے کی اپنی فہرست کے مطابق شارح نے اسی حدیث پر یہاں گفتگو کی ہے۔ الفاظ شارح کے اپنے ہیں؛ ہم نے نہ خلاصہ کیا ہے نہ کوئی حکم لگایا ہے۔