حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي مِنْ أَعْلَمِهِمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِمْ. قَالَ شَقِيقٌ فَجَلَسْتُ فِي الْحِلَقِ أَسْمَعُ مَا يَقُولُونَ فَمَا سَمِعْتُ رَادًّا يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ.
ترجمہ
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں نے کچھ اوپر ستر سورتیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر حاصل کی ہیں۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن مجید کا جاننے والا ہوں حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق نے بیان کیا کہ پھر میں مجلس میں بیٹھا تاکہ صحابہ کی رائے سن سکوں کہ وہ کیا کہتے ہیں لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
0 ہم الفاظ · 1 جزوی
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔
اس حدیث کی شرح
مطبوعہ نسخے کی اپنی فہرست کے مطابق شارح نے اسی حدیث پر یہاں گفتگو کی ہے۔ الفاظ شارح کے اپنے ہیں؛ ہم نے نہ خلاصہ کیا ہے نہ کوئی حکم لگایا ہے۔