حدیث ۳۶۰ · بخاری 361

حدیث ۳۶۰ — ایک حدیث، سب کچھ

ایک مجموعہ چنیں اور حدیث نمبر لکھیں — عربی متن، ترجمہ، تمام درجات، حوالہ اور متعلقہ اوزار ایک اسکرین پر۔

حدیث، اس کا ترجمہ، درجہ اور مفہوم۔

زبان

بخاری 361(کتاب 8:13)شرطِ مؤلف: صحیحتصدیقپوسٹر

حدیث (عربی متن)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الصَّلاَةِ، فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَىَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ‏"‏ مَا السُّرَى يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ ‏"‏ مَا هَذَا الاِشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ كَانَ ثَوْبٌ‏.‏ يَعْنِي ضَاقَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ ‏"‏‏.‏

ترجمہ

ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، وہ سعید بن حارث سے، کہا ہم نے جابر بن عبداللہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ بواط ) میں گیا۔ ایک رات میں کسی ضرورت کی وجہ سے آپ کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہیں، اس وقت میرے بدن پر صرف ایک ہی کپڑا تھا۔ اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا اور آپ کے بازو میں ہو کر میں بھی نماز میں شریک ہو گیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا جابر اس رات کے وقت کیسے آئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ضرورت کے متعلق کہا۔ میں جب فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا لپیٹ رکھا تھا جسے میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کی کہ ( ایک ہی ) کپڑا تھا ( اس طرح نہ لپیٹتا تو کیا کرتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ کشادہ ہو تو اسے اچھی طرح لپیٹ لیا کر اور اگر تنگ ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھ لیا کر۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

3 راوی · 2 کی شناخت یقینی
  1. امام بخاریؒ(مصنف)
  2. حَدَّثَنَا
  3. حَدَّثَنَا
  4. عَنْ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

اس حدیث کی شرح

مطبوعہ نسخے کی اپنی فہرست کے مطابق شارح نے اسی حدیث پر یہاں گفتگو کی ہے۔ الفاظ شارح کے اپنے ہیں؛ ہم نے نہ خلاصہ کیا ہے نہ کوئی حکم لگایا ہے۔

اوپر حدیث، اس کا ترجمہ اور درجہ موجود ہے۔ مزید گہرائی کے لیے اوپر «گہرائی» بدلیں یا نیچے کے ٹیبز کھولیں: صحت، شرح، متعلقہ روایات اور تحقیقی مواد۔

اس حدیث کے ساتھ میری پیش رفت

یہ صرف آپ کے آلے پر محفوظ ہوتا ہے۔