حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَتْ عَائِشَةُ تُسِرُّ إِلَيْكَ كَثِيرًا فَمَا حَدَّثَتْكَ فِي الْكَعْبَةِ قُلْتُ قَالَتْ لِي قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ، لَوْلاَ قَوْمُكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ ـ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِكُفْرٍ ـ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ باب يَدْخُلُ النَّاسُ، وَبَابٌ يَخْرُجُونَ ". فَفَعَلَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ.
ترجمہ
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے اسرائیل کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے ابواسحاق سے اسود کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تم سے بہت باتیں چھپا کر کہتی تھیں، تو کیا تم سے کعبہ کے بارے میں بھی کچھ بیان کیا، میں نے کہا ( ہاں ) مجھ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ ) ارشاد فرمایا تھا کہ اے عائشہ! اگر تیری قوم ( دور جاہلیت کے ساتھ ) قریب نہ ہوتی ( بلکہ پرانی ہو گئی ہوتی ) ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا یعنی زمانہ کفر کے ساتھ ( قریب نہ ہوتی ) تو میں کعبہ کو توڑ دیتا اور اس کے لیے دو دروازے بنا دیتا۔ ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکلتے، ( بعد میں ) ابن زبیر نے یہ کام کیا۔
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
اس حدیث کی شرح
مطبوعہ نسخے کی اپنی فہرست کے مطابق شارح نے اسی حدیث پر یہاں گفتگو کی ہے۔ الفاظ شارح کے اپنے ہیں؛ ہم نے نہ خلاصہ کیا ہے نہ کوئی حکم لگایا ہے۔