اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے
عقیدے کی بنیادیں
وہ بنیادیں جو ہر مسلمان کو جاننی چاہئیں: کہ اللہ ہی اکیلا رب ہے اور اکیلا معبود، اُس کے نام و صفات جیسے اُس نے خود بیان کیے، نبی ﷺ کی ختمِ نبوت، اور وہ راہ جو مسلمان میں مشترک ہے۔
1.اللہ ہی اکیلا رب ہے — خالق و رازق
”اللہ ہر چیز کا خالق ہے، اور وہی ہر چیز کا کارساز ہے۔“ کائنات کا اُس کے سوا کوئی خالق، رازق یا مدبر نہیں — ایک ایسی حقیقت جس کا اُس کی عبادت کے منکر بھی اقرار کرتے رہے۔ ہر بچہ اِسی فطری پہچان پر پیدا ہوتا ہے۔
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے
لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو
حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: «ألست بربكم قالوا بلى» کیا میں تمہارا رب ( معبود ) نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا تھا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے جامع بن شداد نے بیان کیا، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اپنے اونٹ کو میں نے دروازے ہی پر باندھ دیا۔ اس کے بعد بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔“ انہوں نے دوبار کہا کہ جب آپ نے ہمیں خوشخبری دی ہے تو اب مال بھی دیجئیے۔ پھر یمن کے چند لوگ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ خوشخبری قبول کر لو اے یمن والو! بنو تمیم والوں نے تو نہیں قبول کی۔ وہ بولے: یا رسول اللہ! خوشخبری ہم نے قبول کی۔ پھر وہ کہنے لگے ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ سے اس ( عالم کی پیدائش ) کا حال پوچھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ازل سے موجود تھا اور اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ لوح محفوظ میں اس نے ہر چیز کو لکھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“ ( ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ ابن الحصین! تمہاری اونٹنی بھاگ گئی۔ میں اس کے پیچھے دوڑا۔ دیکھا تو وہ سراب کی آڑ میں ہے ( میرے اور اس کے بیچ میں سراب حائل ہے یعنی وہ ریتی جو دھوپ میں پانی کی طرح چمکتی ہے ) اللہ تعالیٰ کی قسم، میرا دل بہت پچھتایا کہ کاش، میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہوتی ) ۔
$ 62 - {الله خالق كل شيء}:
خلق المخلوقات: {الله خالق كل شيء} .
2.عبادت کا حق صرف اُسی کو ہے
”میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔“ اللہ نے ہر امت میں ایک رسول اِسی پیغام کے ساتھ بھیجا: اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ یہی — ساری عبادت اُسی اکیلے کے لیے — وہ توحید ہے جس کے لیے انبیاء بھیجے گئے اور میزانیں قائم کی گئیں۔
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں
ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟
تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو
ج: معناه لا معبود بحق إلا الله وحده.
(أن لا إله) أي: لا معبود بحق (إلا الله) حال كونه (وحده) أي: منفردا، توكيد لتوحيد الذات والصفات.
3.اُس کے نام و صفات — جیسے اُس نے خود بیان کیے
”اُس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔“ مسلمان اللہ کے لیے وہ نام و صفات ثابت کرتے ہیں جو اُس نے اپنے لیے اور اُس کے رسول ﷺ نے اُس کے لیے ثابت کیے — بغیر تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل کے۔ اللہ کے لیے سب سے خوبصورت نام ہیں؛ اُنہی سے اُسے پکارو۔
وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیئے ہیں اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے
اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے
اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے
نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے
في آياتنا لا يخفون علينا أفمن يلقى في النار خير أم من يأتي آمنا يوم القيامة اعملوا ما شئتم} الآية. فطريقتهم تتضمن إثبات الأسماء والصفات مع نفي مماثلة المخلوقات: إثباتا بلا تشبيه وتنزيها بلا تعطيل كما قال تعالى: {ليس كمثله شيء وهو السميع البصير} . ففي قوله {ليس كمثله شيء} رد للتشبيه والتمثيل وقوله: {وهو السميع البصير} . رد للإلحاد والتعطيل.
الإجماع الثاني: بيان أن إثبات الأسماء والصفات لا يقتضي مشابهة المخلوق للخالق، كما أشار إلى حدوث العالم.
فمذهب المسلمون حق بين باطلين، وهدى بين ضلالتين، وهو إثبات الأسماء والصفات مع نفي التشبيه والأدوات (¬1).
4.شرک — وہ اکیلا گناہ جو سب کچھ ضائع کر دیتا ہے
”اللہ اِس کو معاف نہیں کرتا کہ اُس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، اور اِس سے کم جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔“ یہ سب سے بڑا ظلم ہے، اور لقمان نے اپنے بیٹے کو سب سے پہلے اِسی سے خبردار کیا۔ جو اللہ سے اِس حال میں ملے کہ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو جنت میں داخل ہوتا ہے؛ اور جو اللہ کے مقابل کسی کو پکارتے ہوئے مرے آگ میں۔
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔
عبدان، ابی حمزہ، اعمش، شقیق، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا اور پھر مرگیا تو وہ دوزخ میں جائے گا میں نے کہا اور جس نے اللہ کا کسی کو شریک نہیں کیا اور مرگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
«وتب علينا» : بعد قيامنا بجميع ما أمرتنا حتى لا نلاحظ حركاتنا وسكناتنا، ونرجع إليك عن شهود أفعالنا لئلا يكون خطر الشرك الخفى فى توهم شىء منا بنا.
وذلك لما كان الشرك أظلم الظلم كما قال تعالى: {ومن أضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون وإذا حشر الناس كانوا لهم أعداء وكانوا بعبادتهم كافرين} . [الأحقاف: 5، 6] .
5.قرآن — اللہ کا کلام، نازل شدہ و محفوظ
اللہ نے موسیٰ سے براہِ راست کلام کیا، اور پناہ مانگنے والے کو پناہ دیتا ہے ”تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے“۔ ”بےشک ہم نے ذکر نازل کیا، اور بےشک ہم اُس کے محافظ ہیں۔“ جو قرآن ہم پڑھتے ہیں وہ اُسی کا کلام ہے، قیامت تک تبدیلی سے محفوظ۔
اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناه طلب کرے تو تو اسے پناه دے دے یہاں تک کہ وه کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دے۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں
اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافﻆ ہیں
صلاة حفظ القرآن
فالخلة «1» [حفظ القرآن وفهمه]
6.محمد ﷺ — خاتم النبیین
”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔“ اُن پر دین مکمل ہوا۔ آپ ﷺ نے خود کو وہ آخری اینٹ قرار دیا جس سے نبوت کا گھر مکمل ہوا؛ فرمایا ”میرے بعد کوئی نبی نہیں،“ اور آپ تمام انسانیت کی طرف بھیجے گئے۔
(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے
تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ ( اور ہارون علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے ( دعویدار ) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی ( دوسرا ) نبی نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، حکم مسعب حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کو (مدینہ منورہ پر) حاکم بنایا، جب آپ غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا (اے علی ! ) کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا مقام میرے ہاں ایسے ہے کہ جسے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
محمد بن بشار محمد بن جعفر شعبہ فرات قزاز ابوحازم سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس پانچ سال بیٹھا میں نے ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث سنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنی اسرائیل میں انبیاء حکومت کیا کرتے تھے جب ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا اس کا جانشین ہوجاتا اور میرے بعد تو کوئی نبی نہیں ہوگا اور البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہ نے عرض کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یکے بعد دیگرے ہر ایک کی بیعت پوری کرنا اور انھیں ان کا (وہ حق جو تم پر ہے) دیتے رہنا اور اللہ نے انھیں جن پر حکمران بنایا ہے اس کے بارے میں وہی ان سے باز پرس کرے گا۔
في ذكر عموم رسالته
قلنا: يدل على عموم رسالته لا على أن كل حكم منه على كل مكلف.
7.ایمان — دل کی تصدیق، قول اور عمل
مومن وہ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر پر کانپ جاتے ہیں، جن کا ایمان اُس کی آیات پڑھی جانے پر بڑھتا ہے، اور جو نماز قائم کرتے اور خرچ کرتے ہیں۔ ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں؛ یہ محض دعویٰ نہیں، اور گناہ سے کمزور ہوتا ہے — اِسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا زانی فعل کے وقت مومن نہیں رہتا۔
بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں
سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے
مومن تو وه ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ﻻئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں
آدم، شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لڑکا بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔
عمر بن علی، عبداللہ بن داؤد، فضیل بن غزوان، عکرمہ، حضرت ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ زنا کرنے والا زنا نہیں کرتا اس حال میں کہ وہ مومن ہو اور چوری کرنے والا چوری نہیں کرتا اس حال میں کہ وہ مومن ہو۔
قال إبراهيم بن شماس : وسألت بقية بن الوليد ، وأبا بكر بن عياش ، | فقالا : ' الإيمان قول وعمل ' . | | - قال إبراهيم : وسألت أبا إسحاق الفزاري ، فقلت : الإيمان قول | وعمل ؟ فقال : نعم . وسمعت ابن المبارك يقول : ' الإيمان قول وعمل ' . |
الإيمان قول وعمل
8.غیب پر ایمان
ہدایت ”اُن کے لیے ہے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں“۔ اللہ کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، جنہیں اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا؛ اور ہر چیز تقدیر سے پیدا کی گئی۔ مومن فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت، اور تقدیر — اُس کی اچھی اور بری — پر ایمان لاتا ہے جیسے نصوص کہتی ہیں، دیکھنے کا مطالبہ کیے بغیر۔
جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں
اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے
اور اصبغ نے کہا کہ مجھے ابن وہب نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے چوتھی مرتبہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! جو کچھ تم کرو گے اسے ( لوح محفوظ میں ) لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم ( بہت پہلے ) خشک ہو چکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے ( ابن شہاب ) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کیا ہے۔
الإيمان بالغيب
الإيمان بالغيب
9.سیدھی راہ — کتاب، سنت، اور سلف کا منہج
”سب مل کر اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامو اور تفرقہ نہ کرو۔“ ”یہی میری سیدھی راہ ہے، پس اِسی کی پیروی کرو۔“ جب اختلاف کرو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔ نبی ﷺ نے دو چیزیں چھوڑیں جن سے ہم کبھی گمراہ نہ ہوں گے — اللہ کی کتاب اور اُن کی سنت — اور اُن کی امت کا ایک گروہ آخر تک حق پر رہے گا۔
اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو
اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
[منهج السلف الإثبات المفصل والنفي المجمل]
منهج السلف في الاستماع إلى القرآن
ادب و منہج
یہ صفحہ اُس عقیدے پر رہتا ہے جو پوری مسلمان میں مشترک ہے، قرآن اور صحیح سنت کے الفاظ میں بیان کیا گیا۔ یہ جان بوجھ کر سنی کلامی مکاتب (اثری، اشعری، ماتریدی) کے درمیان بعض صفات کے فہم کے تفصیلی اختلافات میں داخل نہیں ہوتا — وہ اہلِ علم کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے معاملات ہیں، بنیادوں کے صفحے کے لیے نہیں۔ عقیدہ بحث سے نہیں جیتا جاتا بلکہ عاجزی سے تھاما جاتا ہے: جو اللہ نے ثابت کیا اُسے مانو، جہاں عقل رک جائے وہاں تسلیم کرو، اور مختلف فیہ باریکیاں اہلِ علم پر چھوڑ دو۔