ارکانِ ایمان

وہ چھ چیزیں جو نبی ﷺ نے بیان کیں جب پوچھا گیا ”ایمان کیا ہے؟“ — اللہ، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں، اُس کے رسولوں، آخرت، اور اچھی بری تقدیر پر ایمان — اور یہ کہ ایمان کا تصدیق، اقرار اور عمل ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔

ہر آیت اور ہر حدیث کا حوالہ قرآن کے متن اور کتبِ حدیث سے جانچا گیا ہے۔ حدیث کا متن مفہوم ہے (لفظی نقل نہیں) — مکمل متن دیکھنے کے لیے حوالے پر کلک کریں۔

1.ایمان کیا ہے — تصدیق، اقرار اور عمل

”رسول اُس پر ایمان لایا جو اُس کے رب کی طرف سے اُس پر نازل ہوا، اور مومن بھی — ہر ایک اللہ، اُس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر ایمان لایا۔“ نبی ﷺ نے فرمایا ایمان کی ستر سے کچھ زائد شاخیں ہیں، سب سے اونچی ”لا الہ الا اللہ“ اور سب سے نیچی راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔

قرآنایمان دل کی تصدیق، زبان کا اقرار، اور اعضاء کا عمل ہے۔

رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے،

قرآنایمان دل کی تصدیق، زبان کا اقرار، اور اعضاء کا عمل ہے۔

بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں

قرآنایمان دل کی تصدیق، زبان کا اقرار، اور اعضاء کا عمل ہے۔

دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے

قرآنایمان دل کی تصدیق، زبان کا اقرار، اور اعضاء کا عمل ہے۔

مومن تو وه ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ﻻئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں

کلاسیکیایمان دل کی تصدیق، زبان کا اقرار، اور اعضاء کا عمل ہے۔

قال إبراهيم بن شماس : وسألت بقية بن الوليد ، وأبا بكر بن عياش ، | فقالا : ' الإيمان قول وعمل ' . | | - قال إبراهيم : وسألت أبا إسحاق الفزاري ، فقلت : الإيمان قول | وعمل ؟ فقال : نعم . وسمعت ابن المبارك يقول : ' الإيمان قول وعمل ' . |

2.اللہ پر ایمان — اُس کی توحید

”کہہ دو: وہ اللہ ایک ہے؛ اللہ بےنیاز ہے؛ نہ اُس نے جنا نہ وہ جنا گیا؛ اور کوئی اُس کے برابر نہیں۔“ ”اُس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ اُس نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔

قرآناللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے

قرآناللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے

قرآناللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا

قرآناللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے

قرآناللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیئے ہیں اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے

قرآناللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں

کلاسیکیV1P457اللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

المنزلة كلها {وأن أكثركم فاسقون} وهو عطف على المجرور أى وما تنقمون منا إلا الإيمان بالله وما أنزل وبأن أكثركم فاسقون والمعنى أعاديتمونا لأنا اعتقدنا توحيد الله وصدق أنبيائه وفسقكم لمخالفتكم لنا في ذلك ويجوز أن يكون الواو بمعنى مع أى وما تنقمون منا إلا الإيمان بالله مع أنكم فاسقون

کلاسیکیV2P629اللہ پر ایمان — کہ وہ ایک ہے، بےشریک، بےمثل۔

قال: وهذا من الحكمة في إبقاء أهل الكتاب بالجزية، إذ عندهم من الشواهد والدلائل على نبوته، وعندهم من الشواهد على ما أخبر به من الإيمان بالله واليوم الآخر ما يبين أن محمدا - صلى الله عليه وسلم - جاء بالدين الذي بعث الله به الرسل قبله، وأخبر من توحيد الله ومن صفاته بمثل ما أخبرت به الأنبياء قبله.

3.فرشتوں پر ایمان

”وہ تو معزز بندے ہیں؛ وہ بات میں اُس سے آگے نہیں بڑھتے، اور اُسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔“ فرشتوں کا انکار ایمان سے دور بھٹک جانا ہے۔ وہ نور سے پیدا کیے گئے، اور اللہ کے حکم سے لکھتے اور حفاظت کرتے ہیں۔

قرآنفرشتوں پر ایمان — معزز بندے جو کبھی نافرمانی نہیں کرتے۔

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وه تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا

قرآنفرشتوں پر ایمان — معزز بندے جو کبھی نافرمانی نہیں کرتے۔

(مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن اوﻻد واﻻ ہے (غلط ہے) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وه سب اس کے باعزت بندے ہیں

قرآنفرشتوں پر ایمان — معزز بندے جو کبھی نافرمانی نہیں کرتے۔

کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں

قرآنفرشتوں پر ایمان — معزز بندے جو کبھی نافرمانی نہیں کرتے۔

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں

4.آسمانی کتابوں پر ایمان

اُس نے تورات اور انجیل نازل کی، پھر تجھ پر کتاب حق کے ساتھ، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرتی ہے۔ ”بےشک ہم نے ذکر نازل کیا، اور بےشک ہم اُس کے محافظ ہیں“ — صرف قرآن ہی بےتبدیل محفوظ ہے۔

قرآناللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان — اور یہ کہ قرآن اُن کا نگہبان ہے۔

جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا ہے، جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے، اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا

قرآناللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان — اور یہ کہ قرآن اُن کا نگہبان ہے۔

اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں

قرآناللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان — اور یہ کہ قرآن اُن کا نگہبان ہے۔

ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافﻆ ہیں

قرآناللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان — اور یہ کہ قرآن اُن کا نگہبان ہے۔

اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافﻆ ہے۔ اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیئے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے۔ اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو

5.رسولوں پر ایمان

”ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا: اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ ہم اُس کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے؛ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔

قرآنتمام رسولوں پر ایمان — محمد ﷺ اُن کے خاتم۔

ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟

قرآنتمام رسولوں پر ایمان — محمد ﷺ اُن کے خاتم۔

اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا

قرآنتمام رسولوں پر ایمان — محمد ﷺ اُن کے خاتم۔

(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے

قرآنتمام رسولوں پر ایمان — محمد ﷺ اُن کے خاتم۔

اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے

6.آخرت پر ایمان

”قیامت آنے والی ہے، اُس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ قبروں والوں کو اٹھائے گا۔“ جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اُسے دیکھے گا، اور ذرہ برابر بدی کرے گا وہ اُسے دیکھے گا۔ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔

قرآنآخرت پر ایمان — قیامت آنے والی ہے، اور ذرہ برابر عمل بھی دیکھا جائے گا۔

اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا

قرآنآخرت پر ایمان — قیامت آنے والی ہے، اور ذرہ برابر عمل بھی دیکھا جائے گا۔

پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

قرآنآخرت پر ایمان — قیامت آنے والی ہے، اور ذرہ برابر عمل بھی دیکھا جائے گا۔

اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

قرآنآخرت پر ایمان — قیامت آنے والی ہے، اور ذرہ برابر عمل بھی دیکھا جائے گا۔

ہر جان موت کا مزه چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے

7.تقدیر پر ایمان

”بےشک ہم نے ہر چیز ایک اندازے سے پیدا کی۔“ کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی — اور جو ایمان لائے، اللہ اُس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ تقدیر پر ایمان کوشش کو باطل نہیں کرتا: ”جو تجھے نفع دے اُس کی حرص کر، اللہ سے مدد مانگ، اور ہمت نہ ہار۔“

قرآنتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے

قرآنتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے

قرآنتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کہ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وه ہمارا کار ساز اور مولیٰ ہے۔ مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے۔

قرآنتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

اور اصبغ نے کہا کہ مجھے ابن وہب نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے چوتھی مرتبہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! جو کچھ تم کرو گے اسے ( لوح محفوظ میں ) لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے۔

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیحتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم ( بہت پہلے ) خشک ہو چکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے ( ابن شہاب ) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے ( ابن شہاب ) زہری سے روایت کیا ہے۔

حدیثصحیحتقدیر پر ایمان — ہم تک وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا۔

ابوخیثمہ، زہیر بن حرب، وکیع، کہمس، عبداللہ بن بریدہ، یحییٰ بن یعمر سے دو سلسلوں کے ساتھ روایت ہے اور دونوں سلسلوں میں کہمس راوی ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد جہنی نے انکار تقدیر کا قول کیا یحییٰ کہتے ہیں کہ اتفاقا میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری ساتھ ساتھ حج یا عمرہ کرنے گئے اور ہم نے آپس میں کہہ لیا تھا کہ اگر کسی صحابی سے ملاقات ہوئی تو ان سے تقدیر الٰہی کا انکار کرنے والوں کا مقولہ دریافت کریں گے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت ابن عمر (رض) سے ملاقات ہوگئی آپ مسجد میں داخل ہو رہے تھے ہم دونوں نے دائیں بائیں سے گھیر لیا چونکہ میرا خیال تھا کہ میرا ساتھی سلسلہ کلام میرے ہی سپرد کرے گا اس لیے میں نے کہنا شروع کیا، اے ابوعبدالرحمن ہمارے ہاں کچھ ایسے آدمی پیدا ہوگئے ہیں جو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور علم دین کی تحقیقات کرتے ہیں اور راوی نے ان کی تعریف کی مگر ان کا خیال ہے کہ تقدیر الٰہی کوئی چیز نہیں ہے ہر بات بغیر تقدیر کے ہوتی ہے اور سارے کام ناگہاں ہوتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اگر تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہوجائے تو کہہ دینا کہ نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان کا مجھ سے حضرت ابن عمر (رض) قسم کھا کر فرماتے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کر دے تب بھی اللہ اس کی خیرات قبول نہیں کرے گا تاوقتیکہ اس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو مجھ سے میرے باپ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک حدیث بیان کی تھی فرمایا کہ ایک روز ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے اچانک ایک شخص نمودار ہوا نہایت سفید کپڑے بہت سیاہ بال سفر کا کوئی اثر یعنی گردو غبار وغیرہ اس پر نمایاں نہ تھا اور ہم میں سے کوئی اس کو جانتا بھی نہ تھا بالآخر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زانو بزانو ہو کر بیٹھ گیا اپنے دونوں ہاتھوں کو رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رانوں پر رکھ دیا اور عرض کیا یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام کی کیفت تبائیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم کلمہ توحید یعنی اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت (کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں) کا اقرار کرو، نماز پابندی سے بتعدیل ارکان ادا کرو، زکوۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعتِ زاد راہ ہو تو حج بھی کرو۔ آنے والے نے عرض کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا۔ ہم کو تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے، اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا کہ ایمان کی حالت بتائیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایمان کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور قیامت کا یقین رکھو، تقدیر الٰہی کو یعنی ہر خیر وشر کے مقدم ہونے کو سچا جانو۔ آنے والے نے عرض کیا : آپ نے سچ فرمایا۔ پھر کہنے لگا احسان کی حقیقت بتائیے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : احسان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ مرتبہ حاصل نہ ہو تو (تو کم از کم) اتنا یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہا ہے۔ آنے والے نے عرض کیا کہ قیامت کے بارے میں بتائیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا کہ قیامت کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ اس بات سے واقف نہیں ہے اس نے عرض کیا اچھا قیامت کی علامات بتائیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں ننگے جسم تنگ دست چرواہے بڑی بڑی عمارتوں پر اترائیں گے اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔

8.ایمان گھٹتا بڑھتا ہے — اور اُس کی مٹھاس

”جب اُس کی آیتیں اُن پر پڑھی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔“ تین چیزیں، جس میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس چکھتا ہے: اللہ اور اُس کا رسول اُسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں؛ وہ کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے؛ اور کفر کی طرف لوٹنے کو یوں ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو۔

قرآنایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے — اور اُس کی ایک مٹھاس ہے جسے دل چکھ سکتا ہے۔

بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں

قرآنایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے — اور اُس کی ایک مٹھاس ہے جسے دل چکھ سکتا ہے۔

وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے

قرآنایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے — اور اُس کی ایک مٹھاس ہے جسے دل چکھ سکتا ہے۔

جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے

قرآنایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے — اور اُس کی ایک مٹھاس ہے جسے دل چکھ سکتا ہے۔

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیاده کیا ہے، سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیاده کیا ہے اور وه خوش ہورہے ہیں

ادب و منہج

یہ چھ متفق علیہ ارکانِ ایمان ہیں — وہ عقیدہ جو مسلمان کی پوری امت مشترکہ طور پر رکھتی ہے، حدیثِ جبریل میں سکھایا گیا۔ یہ صفحہ اُسی مشترکہ زمین پر رہتا ہے اور کلامی مکاتب کے باریک اختلافات میں داخل نہیں ہوتا؛ جہاں امت ایک آواز میں بولتی ہے، وہیں یہ بھی۔ ایمان یہاں محض تسلیم کے طور پر پیش نہیں ہوتا: نصوص ایمان کو قول اور عمل سے جوڑتی ہیں، اور ایسے ایمان کو بیان کرتی ہیں جو اطاعت سے بڑھتا اور دل سے چکھا جاتا ہے۔