اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے
فضائلِ اذکار و دعا
مومن کا اپنے رب سے رابطہ کبھی نہیں کٹتا۔ قرآن و سنت اُس دعا کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں جسے اللہ قبول کرتا ہے، اُس ذکر کے بارے میں جو دن کی حفاظت کرتا ہے، اور اُن کلمات کے بارے میں جو میزان میں سب سے بھاری ہیں۔
1.دعا بذاتِ خود عبادت ہے
”تمہارا رب فرماتا ہے: مجھے پکارو، میں جواب دوں گا۔“ نبی ﷺ نے فرمایا دعا ہی عبادت ہے؛ اللہ کے ہاں دعا سے زیادہ کوئی چیز معزز نہیں، اور جو اللہ سے نہ مانگے اللہ اُس پر ناراض ہوتا ہے۔
کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پروا نہ کرتا، تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہوگی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ۱؎ اللہ اس سے ناراض اور ناخوش ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: وکیع اور کئی راویوں نے یہ حدیث ابوالملیح سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ابوالملیح کا نام صبیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ایسا ہی کہتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں فارسی بھی کہا جاتا ہے۔
فضل الدعاء
حسن «تخريج المشكاة» (2232) : [ت: 45 ك الدعوات , 1 ب ما جاء في فضل الدعاء. جه: 34 ك الدعاء , 1 ب فضل الدعاء , ح 3827]
2.مجھے پکارو — میں جواب دوں گا
کوئی مسلمان ایسی دعا نہیں کرتا جس میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو مگر اللہ اُسے تین میں سے ایک دیتا ہے: جو مانگا، یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اُس جیسی کوئی برائی ٹال دیتا ہے۔ تمہارا رب حیا کرتا ہے کہ بندے کے اٹھے ہاتھ خالی لوٹا دے۔
اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے
جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے
بے کس کی پکار کو جب کہ وه پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو
ابوادریس خولانی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے ، اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے ۔ " عرض کی گئی : اللہ کے رسول! جلد بازی کرنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ کہے : میں نے دعا کی اور میں نے دعا کی اور مجھے نظر نہیں آتا کہ وہ میرے حق میں قبول کرے گا ، پھر اس مرحلے میں ( مایوس ہو کر ) تھک جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے ۔
: «لا يرد الدعاء بين الأذان والإقامة».
«لا يرد الدعاء بين الأذان والإقامة» .
3.وہ شہ رگ سے بھی قریب ہے
”جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں — میں قریب ہوں؛ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ پکارے۔“ ہم اُس کی شہ رگ سے بھی قریب ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب کے سب سے قریب سجدے میں ہوتا ہے — پس وہاں کثرت سے دعا کرو۔
جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں
اور قوم ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے، پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے واﻻ ہے
۔ ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو ۔ ‘ ‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو ( سجدے میں ) تم بکثرت دعائیں کیا کرو ۔
4.وہ گھڑیاں جب دروازہ کھلا ہوتا ہے
اللہ رات کے آخری تہائی حصے میں نزول فرماتا ہے، پوچھتا ہے: کون مجھے پکارتا ہے کہ میں جواب دوں؟ تین دعائیں قبول ہوتی ہیں: روزہ دار کی، مسافر کی، اور مظلوم کی — اور بندہ سجدے میں اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے
تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں
جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راه میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں
۔ ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو ۔ ‘ ‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو ( سجدے میں ) تم بکثرت دعائیں کیا کرو ۔
• (أفضل الساعات جوف الليل الآخر) قال المناوي ينصبه على الظرف أي الدعاء جوف الليل أي ثلثه الآخر لأنه وقت التجلي وزمان التنزل الإلهي اه والظاهر أن جوف الليل مرفوع على أنه خبر لمتبدأ محذوف أي أفضل الساعات للعبادة جوف الليل وقال في مختصر النهاية جوف الليل سدسه الخامس (طب) عن عمرو بن عبسة بموحدة بين مهملتين مفتوحتين
1 ( باب العيادة جوف الليل )
5.صبح و شام اُسے یاد کرو
”اللہ کو کثرت سے یاد کرو، اور صبح و شام اُس کی تسبیح کرو۔“ جو صبح و شام سو بار ”سبحان اللہ وبحمدہ“ کہے — قیامت کے دن کوئی اُس سے بہتر لے کر نہ آئے گا؛ اور سیدالاستغفار، اور آیت الکرسی، اپنے پڑھنے والے کی حفاظت کرتے ہیں۔
مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو
اور صبح وشام اس کی پاکیزگی بیان کرو
ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں
اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ان سے بشیر بن کعب عدوی نے کہا کہ مجھ سے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدالاستغفار ( مغفرت مانگنے کے سب کلمات کا سردار ) یہ ہے یوں کہے «اللهم أنت ربي، لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك على وأبوء بذنبي، اغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت . » ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن اس کا انتقال ہو گیا شام ہونے سے پہلے، تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔
فصل في أذكار الصباح والمساء
فصل في أذكار الصباح والمساء للإمام النووي رحمه الله تعالى
6.استغفار — کشادگی کی کنجی
نوح نے اپنی قوم سے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو — وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا اور مال و اولاد میں اضافہ کرے گا۔ جو استغفار کو لازم پکڑے، اللہ اُس کے لیے ہر فکر سے نکلنے کی راہ بناتا اور وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں گمان نہ ہو۔ نبی ﷺ دن میں ستر بار استغفار کرتے۔
اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناه بخشواؤ (اور معافی مانگو) وه یقیناً بڑا بخشنے واﻻ ہے
وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا
اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اوﻻد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا
اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناه اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اسی کی طرف متوجہ رہو، وه تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا اور ہر زیاده عمل کرنے والے کو زیاده ﺛواب دے گا۔ اور اگر تم لوگ اعراض کرتے رہے تو مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۱؎۔
فضل الإستغفار
( أن الله تعالى يقول إني لأهم | بأهل الأرض عذابا ) أي أعزم على إيقاع العذاب بهم ( فإذا نظرت إلى عمار بيوتي ) أي عمار | المساجد التي هي بيوت الله بأنواع العبادة من نحو ذكر وصلاة وقراءة وغير ذلك ( والمتحابين في ) | أي لأجلي لا لغرض سوى ذلك ( والمستغفرين بالأسحار ) أي الطالبين من الله المغفرة فيها | ( صرفت عذابي عنهم ) أي عن أهل الأرض إكراما لهؤلاء وفيه فضل الاستغفار في السحر عليه | في غيره والسحر محركة قبيل الفجر ( هب عن أنس ) بن مالك ضعيف لضعف صالح المري |
7.نبی ﷺ پر درود
”بےشک اللہ اور اُس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔“ جو اُن پر ایک درود بھیجے، اللہ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے؛ اُس دن اُن کے سب سے قریب وہ ہوں گے جنہوں نے سب سے زیادہ درود بھیجا؛ اور بخیل وہ ہے جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ درود نہ بھیجے۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو
8.میزان میں سب سے بھاری کلمات
بہترین ذکر ”لا الہ الا اللہ“ ہے؛ اور دو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری، رحمٰن کو محبوب: ”سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم“۔ نبی ﷺ نے فرمایا اِنہیں کہنا مجھے اُس ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں
پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہترین ذکر «لا إله إلا الله» اور سب سے بہترین دعا «الحمد لله» ہے ۱؎۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات کہ میں " سبحان الله والحمدلله ولا اله الا لله والله اكبر " کہوں ، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» ”اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے“، کہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- علی بن مدینی اور کئی نے یہ حدیث موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کی ہے۔
- التذكار في أفضل الأذكار. للقرطبي. ط 1 دار البيان. دمشق. تحقيق عبد القادر الأرناؤوط وإبراهيم الأرناؤوط.
أفضل الأذكار تلاوة القرآن : |
9.کیسے پکارو — عاجزی اور یقین کے ساتھ
”اپنے رب کو عاجزی اور خفیہ طور پر پکارو۔“ قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا کرو، اور جان لو کہ اللہ غافل اور بےپروا دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔ جلدی نہ کرو — یہ کہتے ہوئے کہ ”میں نے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی“ — اور یہ نہ کہو ”اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے“؛ پختگی سے مانگو۔
تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑگڑا کر کے بھی اور چپکے چپکے بھی۔ واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں
اور اے شخص! اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا
اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ازہر کے غلام ابوعبید نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“
abu hurairah narrated the the messenger of allah (ﷺ) said:“there is not a worshipper who raises his hands, such that his armpit becomes visible, asking allah for something, except that he shall grant it to him - as long as he does not become hasty.” they said: “o messenger of allah, and how is haste made concerning it?” he (ﷺ) said: “he says: ‘i did ask and ask, and i was not given a thing.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے ( جلدی یہ ہے کہ ) وہ کہنے لگتا ہے: میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
آداب الدعاء
في آداب الدعاء
ادب و منہج
یہ صفحہ فضائل جمع کرتا ہے تاکہ زبان اور دل ذکر کی طرف چلیں؛ یہ لوگوں کو گنتی سے درجہ بند نہیں کرتا اور نہ ذکر کو حساب بناتا ہے۔ وعدے حقیقی ہیں اور اخلاص و حضورِ قلب سے بندھے ہیں — غفلت سے کہے سو، بیداری سے کہے دس سے ہلکے ہیں۔ الفاظ اور اوقات کے لیے پلیٹ فارم کے اذکار ریڈر اور دعا کے ٹولز استعمال کرو؛ اور اِسے یہ یاد رکھنے کے لیے پڑھو کہ یہ رابطہ سارا دن کھلا رکھنے کے قابل کیوں ہے۔