فضائلِ اعمال

مومن جو اعمال پیش کرتا ہے اُن پر اللہ کیا وعدہ کرتا ہے — نماز، ذکر، صدقہ، روزہ، قرآن، حسنِ خلق — اور کیسے وہ ایک چھوٹے عمل کو اجر کے پہاڑ میں بدل دیتا ہے۔

ہر آیت اور ہر حدیث کا حوالہ قرآن کے متن اور کتبِ حدیث سے جانچا گیا ہے۔ حدیث کا متن مفہوم ہے (لفظی نقل نہیں) — مکمل متن دیکھنے کے لیے حوالے پر کلک کریں۔

1.نیت پر — اور کئی گنا اجر

اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا ایک دانہ سات بالیں بنتا ہے، ہر بالی میں سو دانے — وہ جسے چاہے کئی گنا دیتا ہے۔ جو ایک نیکی لے کر آئے اُس کے لیے دس گنا ہے؛ اور نبی ﷺ نے سکھایا کہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔

قرآناعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے

قرآناعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ﻇلم نہ ہوگا

قرآناعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح بخاری (1) صحیح مسلم (1907)اعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔

حدیثotherاعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے، اور جس کی ہجرت کسی دنیا کے حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح - Agreed Uponاعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہو گی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionاعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

کو حمیدی نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم کو سفیان نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ حدیث محمد بن ابراہیم تیمی سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس حدیث کو علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا، ان کا بیان ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

کلاسیکیاعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

747 الرياء ترك الإخلاص في العمل بملاحظة غير الله فيه

کلاسیکیV1P140اعمال نیت سے اٹھتے ہیں — اور اللہ نیکی کو کئی گنا کرتا ہے۔

إذا طلبتم الدنيا بالدين وتركتم الإخلاص في العمل وصار أمركم إلى المراياة بالمساجد والمباهاة بتشييدها وتزيينها.

2.نماز — نور اور کفارہ

نبی ﷺ نے پوچھا: اگر تمہارے دروازے پر نہر ہو اور تم دن میں پانچ بار اُس میں نہاؤ تو کیا کوئی میل باقی رہے گا؟ — ایسی ہی پانچ نمازیں ہیں، جن سے اللہ گناہ مٹا دیتا ہے۔ ”نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔“

قرآننماز گناہ کو یوں دھوتی ہے جیسے نہر بدن کو۔

دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے

قرآننماز گناہ کو یوں دھوتی ہے جیسے نہر بدن کو۔

جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے

قرآننماز گناہ کو یوں دھوتی ہے جیسے نہر بدن کو۔

بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح - Agreed Uponنماز گناہ کو یوں دھوتی ہے جیسے نہر بدن کو۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا ، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Bashar Awad Maarouf: حسن صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح - Agreed Uponنماز گناہ کو یوں دھوتی ہے جیسے نہر بدن کو۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ تو صحیح، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس نہر میں ہر دن پانچ بار نہائے تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل کچیل رہے گا؟ صحابہ نے کہا: اس کے جسم پر تھوڑا بھی میل نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: ”یہی مثال ہے پانچوں نمازوں کی، ان نمازوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قتیبہ کہتے ہیں: ہم سے بکر بن مضر قرشی نے ابن الہاد کے واسطہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionنماز گناہ کو یوں دھوتی ہے جیسے نہر بدن کو۔

لیث اور بکر دونوں نے ہاد سے ، انھوں نے محمد بن ابراہیم سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا-اور بکر کی روایت میں ہے کہ انھوں ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آ پ نے فرمایا- ‘ ‘ تم کیا سمجھتے ہو اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو ، کیا اس ( کے جسم ) کا کوئی میا کچیل باقی رہ جائے گا؟’’ صحابہ نے عرض کی : اس کا کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گا ۔ آپ نے فرمایا یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے ، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے ۔ ’’

3.ذکر — زبان پر ہلکا، میزان میں بھاری

”مجھے یاد کرو — میں تمہیں یاد کروں گا۔“ جو اپنے رب کو یاد کرے اور جو نہ کرے، وہ زندہ اور مردہ کی طرح ہیں؛ اور دو کلمے — ”سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم“ — رحمٰن کو محبوب اور میزان میں بھاری ہیں۔

قرآندو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری۔

جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے

قرآندو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری۔

مسلمانو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیاده کرو

قرآندو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری۔

بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے

قرآندو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری۔

اس لئے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح · Zubair Ali Zai: Isnaad حسندو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری۔

عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسلام کے اصول و قواعد مجھ پر بہت ہو گئے ہیں ۱؎، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جس پر میں مضبوطی سے جم جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہیئے ۔

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Bashar Awad Maarouf: حسن · Zubair Ali Zai: Isnaad حسندو کلمے زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری۔

عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئیے جن پر میں ( مضبوطی ) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

4.صدقہ — سایہ، اور گناہ کی بجھتی آگ

”صدقہ گناہ کو یوں بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو۔“ جن سات کو اللہ اُس دن سایہ دے گا جب اُس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اُن میں وہ ہے جو اِتنے چھپا کر دے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ دائیں نے کیا دیا۔ اور صدقہ مال کو کبھی کم نہیں کرتا۔

قرآنصدقہ گناہ بجھاتا ہے، اور اُس دن اپنے دینے والے پر سایہ کرتا ہے۔

جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سودانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے

قرآنصدقہ گناہ بجھاتا ہے، اور اُس دن اپنے دینے والے پر سایہ کرتا ہے۔

جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی

قرآنصدقہ گناہ بجھاتا ہے، اور اُس دن اپنے دینے والے پر سایہ کرتا ہے۔

بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے پسندیده اجر وﺛواب ہے

قرآنصدقہ گناہ بجھاتا ہے، اور اُس دن اپنے دینے والے پر سایہ کرتا ہے۔

اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں

حدیثصحیحصدقہ گناہ بجھاتا ہے، اور اُس دن اپنے دینے والے پر سایہ کرتا ہے۔

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور جو آدمی بھی اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔

5.روزہ — ڈھال

”روزہ ایک ڈھال ہے۔“ روزہ دار کی دو خوشیاں ہیں — افطار کے وقت، اور اپنے رب سے ملاقات پر؛ اور جو اللہ کے لیے ایک دن روزہ رکھے، اللہ اُس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت آگ سے دور کر دیتا ہے۔

قرآنروزہ ایک ڈھال ہے — اور روزہ دار کی دو خوشیاں ہیں۔

اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو

قرآنروزہ ایک ڈھال ہے — اور روزہ دار کی دو خوشیاں ہیں۔

گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionروزہ ایک ڈھال ہے — اور روزہ دار کی دو خوشیاں ہیں۔

ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثبیان کر رہے تھے ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعا لیٰ اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے ۔

حدیثصحیحروزہ ایک ڈھال ہے — اور روزہ دار کی دو خوشیاں ہیں۔

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مغیرہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔

حدیثصحیحروزہ ایک ڈھال ہے — اور روزہ دار کی دو خوشیاں ہیں۔

اسحاق بن منصور، عبدالرحمن بن بشر، عبدالرزاق، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے ایک دن اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھا اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس کے منہ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دے گا۔

6.قرآن — ہر حرف پر دس نیکیاں

”جو اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے اُس کے لیے ایک نیکی ہے، اور نیکی دس گنا ہو جاتی ہے۔“ قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرتا آئے گا؛ اور اُس میں ماہر معزز نیک لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔

قرآنہر پڑھا گیا حرف دس نیکیاں؛ اور قرآن خود سفارش کرتا ہے۔

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی

قرآنہر پڑھا گیا حرف دس نیکیاں؛ اور قرآن خود سفارش کرتا ہے۔

تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے بےشک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے

قرآنہر پڑھا گیا حرف دس نیکیاں؛ اور قرآن خود سفارش کرتا ہے۔

کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں

7.حسنِ خلق — میزان میں سب سے بھاری

”قیامت کے دن مومن کی میزان میں حسنِ خلق سے بھاری کوئی چیز نہیں۔“ ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے بہتر ہوں، اور اُس دن نبی ﷺ کے سب سے قریب وہ ہوں گے جو اخلاق میں سب سے اچھے ہوں۔

قرآنمیزان میں حسنِ خلق سے بھاری کچھ نہیں۔

اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے

قرآنمیزان میں حسنِ خلق سے بھاری کچھ نہیں۔

جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے

قرآنمیزان میں حسنِ خلق سے بھاری کچھ نہیں۔

نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست

کلاسیکیV1P49میزان میں حسنِ خلق سے بھاری کچھ نہیں۔

قال في شرح مسلم وغيره: فيه مداراة من يتقى فحشه ولم يمدحه النبي - صلى الله عليه وسلم - ولا أثنى عليه في وجهه ولا في قفاه إنما تألفه بشيء من الدنيا مع لين الكلام، وقد ذكر ابن عبد البر كلام أبي الدرداء في فضل حسن الخلق.

8.سب سے محبوب عمل وہ جو ہمیشہ ہو

”اللہ کو سب سے محبوب عمل وہ ہیں جو سب سے زیادہ دوام والے ہوں، خواہ تھوڑے ہوں۔“ اُتنا ہی لو جتنا نبھا سکو، کیونکہ اللہ نہیں تھکتا جب تک تم نہ تھک جاؤ؛ تھوڑا مسلسل اُس جوش سے بہتر ہے جو بجھ جائے۔

قرآناللہ کو سب سے محبوب عمل وہ جو ہمیشہ ہو، خواہ کم ہو۔

پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وه لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، خبردار تم حد سے نہ بڑھنا، اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے واﻻ ہے

قرآناللہ کو سب سے محبوب عمل وہ جو ہمیشہ ہو، خواہ کم ہو۔

اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے

قرآناللہ کو سب سے محبوب عمل وہ جو ہمیشہ ہو، خواہ کم ہو۔

(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو

9.کئی گنا اجر کے موسم

شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے؛ جو اُس میں ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو اُسے بخش دیا جاتا ہے۔ اللہ کو ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے اعمال سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں؛ اور جو رمضان کے روزے ایمان سے رکھے اُس کے سب پچھلے گناہ معاف۔

قرآنبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا

قرآنبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟

قرآنبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے

قرآنبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیحبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: حسنبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح - بخاری And مسلمبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح بخاریبعض راتیں اور دن عمر بھر کا اجر رکھتے ہیں۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔

10.وہ اعمال جو تمہارے بعد بھی چلتے رہیں

جب انسان مر جاتا ہے تو اُس کا عمل ختم ہو جاتا ہے — سوائے تین کے: جاری صدقہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اُس کے لیے دعا کرے۔ ”ہم لکھتے ہیں جو اُنہوں نے آگے بھیجا اور اُن کے نشانات بھی۔“ جو بھلائی کی طرف رہنمائی کرے اُس کے لیے کرنے والے جیسا اجر ہے۔

قرآنبعض اعمال موت کے بعد بھی کماتے رہتے ہیں۔

بےشک ہم مُردوں کو زنده کریں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں وه اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وه اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے

قرآنبعض اعمال موت کے بعد بھی کماتے رہتے ہیں۔

پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواه وه مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، اس لئے وه لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راه میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے، میں ضرور ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا اور بالیقین انہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہ ہے ﺛواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس بہترین ﺛواب ہے

قرآنبعض اعمال موت کے بعد بھی کماتے رہتے ہیں۔

پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

کلاسیکیبعض اعمال موت کے بعد بھی کماتے رہتے ہیں۔

والثاني: "العلم الذي ينتفع به"؛ يعني: يعلم أحدا أو جماعة مسألة أو أكثر من أحكام الدين، فيعملون بتلك المسألة ويعلمونها غيرهم من المسلمين، فيحصل له بذلك ثواب، وكذلك إذا صنف كتابا.

ادب و منہج

یہ صفحہ اللہ کے وعدے ترغیب کے لیے جمع کرتا ہے، عبادت کو سودے کی طرح تولنے کے لیے نہیں۔ اجر حقیقی ہے اور نصوص ٹھیک ہیں، مگر عمل کی قیمت اخلاص پر ہے: وہی نماز دل کے فرق سے نور بھی ہو سکتی ہے اور خالی حرکت بھی۔ اِسے پڑھو تاکہ عمل کی طرف دل چلے — پھر اجر اُسی پر چھوڑ دو جس نے وعدہ کیا، اور اُس کی عبادت اِس لیے کرو کہ وہ اِس کا حقدار ہے، اجر اُس کے فضل کے طور پر پیچھے آئے گا، تمہاری مزدوری کے طور پر نہیں۔