بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تفاسیر کا موازنہ

تفاسیر منتخب کریں
کم از کم 2، زیادہ سے زیادہ 5 تفاسیر۔ فیصد کا مطلب: اس مقامی نقل میں کتنی آیات پر متن موجود ہے — نہ کہ کتاب خود نامکمل ہے۔
بسم اللہ سورة نمل کی ایک آیت یا ؟ صحابہ نے اللہ کی کتاب کو اسی سے شروع کیا۔ علماء کا اتفاق ہے کہ آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورة نمل کی ایک آیت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورت کے شروع میں خود مستقل آیت ہے ؟ یا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے ؟ اور ہر سورت کی آیت کا جزو ہے ؟ یا صرف سورة فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں ؟ صرف ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنے کے لئے لکھی گئی ہے ؟ اور خود آیت نہیں ہے ؟ علماء سلف اور متاخرین کا ان آرا میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔ سنن ابو داؤد میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل نہیں ہوتی تھی۔ یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ایک مرسل حدیث میں یہ روایت حضرت سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے۔ چناچہ صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ کو سورة فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے۔ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت ابوہریرہ ؓ ، حضرت عطا، حضرت طاؤس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مکحول اور حضرت زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ بسم اللہ ہر سورت کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورة برات کے۔ ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ حضرت عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق بن راہو یہ اور ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ البتہ امام مالک امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں۔ کہ بسم اللہ نہ تو سورة فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی۔ امام شافعی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورة کی نہیں۔ ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورت کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں۔ داؤد کہتے ہیں کہ ہر سورت کے اول میں بسم اللہ ایک مستقل آیت ہے سورت میں داخل نہیں۔ امام احمد بن حنبل سے بھی یہی روایت ہے ابوبکر رازی نے ابو حسن کرخی کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابوحنیفہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے۔ یہ تو تھی بحث بسم اللہ کے سورة فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی۔ (صحیح مذہب یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن پاک میں یہ آیت شریفہ ہے وہاں مستقل آیت ہے واللہ اعلم۔ مترجم) بسم اللہ با آواز بلند یا دبی آواز سے ؟ اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا اسے با آواز بلند پڑھنا چاہیے یا پست آواز سے ؟ جو لوگ اسے سورة فاتحہ کی آیت نہیں کہتے وہ تو اسے بلند آواز سے پڑھنے کے بھی قائل نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسے سورة فاتحہ سے الگ ایک آیت مانتے ہیں وہ بھی اس کے پست آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں۔ رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول سے ہے۔ ان میں اختلاف ہے۔ شافعی رحمۃ اللہ کا مذہب ہے کہ سورة فاتحہ اور ہر سورت سے پہلے اسے اونچی آواز سے پڑھنا چاہیے۔ صحابہ، تابعین اور مسلمانوں کے مقدم و موخر امامین کی جماعتوں کا یہی مذہب ہے صحابہ میں سے اسے اونچی آواز سے پڑھنے والے حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، ابن عباس، حضرت معاویہ ؓ ہیں۔ بیہقی، ابن عبدالبر نے حضرت عمر اور حضرت علی سے بھی روایت کیا اور امام خطیب بغدادی نے چاروں خلیفوں سے بھی روایت کیا لیکن سند غریب بیان کیا ہے۔ تابعین میں سے حضرت سعید بن جبیر، حضرت عکرمہ حضرت ابوقلابہ، حضرت زہری، حضرت علی بن حسن ان کے لڑکے محمد، سعید بن مسیب، عطا، طاؤس، مجاہد، سالم، محمد بن کعب قرظی، عبید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، ابو وائل ابن سیرین کے مولیٰ زید بن اسلم، عمر بن عبدالعزیز، ارزق بن قیس، حبیب بن ابی ثابت، ابو شعثا، مکحول، عبداللہ بن معقل بن مقرن اور بروایت بیہقی، عبداللہ بن صفوان، محمد بن حنفیہ اور بروایت ابن عبدالبر عمرو بن دینار رحمہم اللہ سب کے سب ان نمازوں میں جن میں قرأت اونچی آواز سے پڑھی جاتی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ ایک دلیل تو اس کی یہ ہے کہ جب یہ آیت سورة فاتحہ میں سے ہے تو پھر پوری سورت کی طرح یہ بھی اونچی آواز سے ہی پڑھنی چاہیے۔ علاوہ ازیں سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نماز پڑھائی اور قرأت میں اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں مشابہ ہوں۔ اس حدیث کو دار قطنی خطیب اور بیہقی وغیرہ نے صحیح کہا ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا کرتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ایسی زیادہ صحیح نہیں۔ مستدرک حاکم میں انہی سے روایت ہے کہ حضور ﷺ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔ امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا انداز قرأت صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس ؓ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرأت کس طرح تھی۔ فرمایا کہ ہر کھڑے لفظ کو آپ لمبا کر کے پڑھتے تھے پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سنائی بسم اللہ پر مد کیا الرحمن پر مد کیا الرحیم پر مد کیا۔ مسند احمد، سنن ابو داؤد، صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر ہر آیت پر رکتے تھے اور آپ کی قرأت الگ الگ ہوتی تھی جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم پھر ٹھہر کر الحمد للہ رب العالمین پھر ٹھہر کر الرحمن الرحیم پھر ٹھہر کر ملک یوم الدین دار قطنی اسے صحیح بتاتے ہیں۔ امام شافعی، امام حاکم نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضرت معاویہ ؓ نے مدینہ میں نماز پڑھائی اور بسم اللہ نہ پڑھی تو جو مہاجر اصحاب وہاں موجود تھے انہوں نے ٹوکا۔ چناچہ پھر جب نماز پڑھانے کو کھڑے ہوئے تو بسم اللہ پڑھی۔ غالباً اتنی ہی احادیث و آثار اس مذہب کی حجت کے لئے کافی ہیں۔ باقی رہے اس کے خلاف آثار، روایات، ان کی سندیں، ان کی تعلیل، ان کا ضعف اور ان کی تقاریر وغیرہ ان کا دوسرے مقام پر ذکر اور ہے۔ دوسرا مذہب یہ ہے کہ نماز میں بسم اللہ کو زور سے نہ پڑھنا چاہیے۔ خلفاء اربعہ اور عبداللہ بن معقل، تابعین اور بعد والوں کی جماعتوں سے یہی ثابت ہے۔ ابو حنیفہ، ثوری، احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام مالک کا مذہب ہے کہ سرے سے بسم اللہ پڑھے ہی نہیں نہ تو آہستہ نہ بلند کیا۔ ان کی دلیل ایک تو صحیح مسلم والی حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کو تکبیر سے اور قرأت کو الحمد للہ رب العالمین سے ہی شروع کیا کرتے تھے۔ صححین میں ہے حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان کے پیچھے نماز پڑھی یہ سب الحمد للہ رب العلمین سے شروع کرتے تھے۔ مسلم میں ہے کہ بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے نہ تو قرأت کے شروع میں نہ اس قرأت کے آخر میں۔ سنن میں حضرت معقل ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ یہ ہے دلیل ان ائمہ کے بسم اللہ آہستہ پڑھنے کی۔ یہ خیال رہے کہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہر ایک فریق دوسرے کی نماز کی صحت کا قائل ہے۔ فالحمد للہ (بسم اللہ کا مطلق نہ پڑھنا تو ٹھیک نہیں۔ بلندو پست پڑھنے کی احادیث میں اس طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ دونوں جائز ہیں۔ گو پست پڑھنے کی احادیث قدرے زور دار ہیں واللہ اعلم۔ مترجم) فصل بسم اللہ کی فضیلت کا بیان تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی نسبت سوال کیا آپ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بڑے ناموں اور اس میں اس قدر نزدیکی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی اور سفیدی میں۔ ابن مردویہ میں بھی یہی کی روایت ہے۔ ابن مردویہ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عیسیٰ ؑ کو ان کی والدہ نے معلم کے پاس بٹھایا تو اس نے کہا لکھئے بسم اللہ حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا بسم اللہ کیا ہے ؟ استاد نے جواب دیا میں نہیں جانتا۔ آپ نے فرمایا " ب " سے مراد اللہ تعالیٰ کا " بہا " یعنی بلندی ہے اور " س " سے مراد اس کی سنا یعنی نور اور روشنی ہے اور " م " سے مراد اس کی مملکت یعنی بادشاہی ہے اور " اللہ " کہتے ہیں معبودوں کے معبود اور اور " رحمن " کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے کو " رحیم " کہتے ہیں۔ آخرت میں کرم و رحم کرنے والے کو۔ ابن جریر میں بھی یہی روایت ہے لیکن سند کی رو سے یہ بیحد غریب ہے، ممکن ہے کسی صحابی وغیرہ سے مروی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں سے ہو۔ مرفوع حدیث نہ ہو واللہ اعلم۔ ابن مردویہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو کسی اور نبی پر سوائے حضرت سلیمان ؑ کے نہیں اتری۔ وہ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت " بسم اللہ الرحمن الرحیم " اتری بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے۔ ہوائیں ساکن ہوگئیں۔ سمندر ٹھہر گیا جانوروں نے کان لگا لئے۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے اور پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہوگی۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جہنم کے انیس داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے۔ اس کے بھی انیس حروف ہیں۔ ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا۔ اسے ابن عطیہ نے بیان کیا ہے اس کی تائید ایک اور حدیث بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے یہ حضور ﷺ نے اس وقت فرمایا تھا جب ایک شخص نے ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پڑھا تھا اس میں بھی تیس سے اوپر حروف ہیں اتنے ہی فرشتے اترے اسی طرح بسم اللہ میں بھی انیس حروف ہیں اور وہاں فرشتوں کی تعداد بھی انیس ہے وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے آنحضرت ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ نے فرمایا یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا۔ ہاں بسم اللہ کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل و پست ہوجاتا ہے۔ نسائی نے اپنی کتاب عمل الیوم واللی لہ میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے نقل کیا ہے اور صحابی کا نام اسامہ بن عمیر بتایا ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ بسم اللہ کہہ کر بسم اللہ کی برکت سے شیطان ذلیل ہوگا۔ اسی لئے ہر کام اور ہر بات کے شروع میں بسم اللہ کہہ لینا مستحب ہے۔ خطبہ کے شروع میں بھی بسم اللہ کہنی چاہئے۔ حدیث میں ہے کہ جس کام کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ بےبرکتا ہوتا ہے۔ پاخانہ میں جانے کے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ وضو کے وقت بھی پڑھ لے۔ مسند احمد اور سنن میں ابوہریرہ، سعید بن زید اور ابو سعید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہوتا۔ " یہ حدیث حسن ہے بعض علماء تو وضو کے وقت آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا واجب بتاتے ہیں۔ بعض مطلق وجوب کے قائل ہیں۔ جانور کو ذبح کرتے وقت بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے۔ امام شافعی اور ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔ بعض نے یاد آنے کے وقت اور بعض نے مطلقاً اسے واجب کہا ہے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی فضیلت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔ ایک میں ہے کہ " جب تو اپنی بیوی کے پاس جائے اور بسم اللہ پڑھ لے اور اللہ کوئی اولاد بخشے تو اس کے اپنے اور اس کی اولاد کے سانسوں کی گنتی کے برابر تیرے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی " لیکن یہ روایت بالکل بےاصل ہے، میں نے تو یہ کہیں کسی معتبر کتاب میں نہیں پائی۔ کھاتے وقت بھی بسم اللہ پڑھنی مستحب ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ " رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا (جو آپ کی پرورش میں حضرت ام المومنین ام سلمہ کے اگلے خاوند سے تھے) کہ بسم اللہ کہو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے نوالہ اٹھایا کرو۔ " بعض علماء اس وقت بھی بسم اللہ کا کہنا واجب بتلاتے ہیں۔ بیوی سے ملنے کے وقت بھی بسم اللہ پڑھنی چاہئے۔ صحیحین میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ " رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ملنے کا ارادہ کرے تو یہ پڑھے بسم اللہ اللھم جنبنا الشیطان و جنب الشیطان ما رزقتنا یعنی اے اللہ ہمیں اور جو ہمیں تو دے اسے شیطان سے بچا " فرماتے ہیں کہ اگر اس جماع سے حمل ٹھہر جائے تو اس بچہ کو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بسم اللہ کی " ب " کا تعلق کس سے ہے نحویوں کے اس میں دو قول ہیں اور دونوں ہی تقریباً ہم خیال ہیں۔ بعض اسم کہتے ہیں اور بعض فعل، ہر ایک کی دلیل قرآن سے ملتی ہے جو لوگ اسم کے ساتھ متعلق بتاتے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ بسم اللہ ابتدائی یعنی اللہ کے نام سے میری ابتدا ہے۔ قرآن میں ہے ارکبوا فیھا (بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا) 11۔ ہود :41) اس میں اسم یعنی مصدر ظاہر کردیا گیا ہے اور جو لوگ فعل مقدر بتاتے ہیں چاہے وہ امر ہو یا خبر۔ جیسے کہ ابدا بسم اللہ اور ابتدات بسم اللہ ان کی دلیل آیت اقرا باسم دراصل دونوں ہی صحیح ہیں، اس لئے کہ فعل کے لئے بھی مصدر کا ہونا ضروری ہے تو اختیار ہے کہ فعل کو مقدر مانا جائے اور اس کے مصدر کو مطابق اس فعل کے جس کا نام پہلے لیا گیا ہے۔ کھڑا ہونا، بیٹھنا ہو، کھانا ہو، پینا ہو، قرآن کا پڑھنا ہو، وضو اور نماز وغیرہ ہو ان سب کے شروع میں برکت حاصل کرنے کے لئے امداد چاہنے کے لئے اور قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا نام لینا مشروع ہے واللہ اعلم۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں روایت ہے " حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سب سے پہلے جبرائیل ؑ محمد ﷺ پر وحی لے کر آئے تو فرمایا اے محمد کہئے استعیذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پھر کہا کہئے بسم اللہ الرحمن الرحیم مقصود یہ تھا کہ اٹھنا، بیٹھنا، پڑھنا سب اللہ کے نام سے شروع ہو۔ " بے معنی بحث اسم یعنی نام ہی مسمیٰ یعنی نام والا ہے یا کچھ اور اس میں اہل علم کے تین قول ہیں ایک تو یہ کہ اسم ہی مسمی ہے۔ ابوعبیدہ کا اور سیبویہ کا بھی یہی قول ہے۔ باقلانی اور ابن نور کی رائے بھی یہی ہے۔ ابن خطیب رازی اپنی تفسیر کے مقدمات میں لکھتے ہیں۔ حشویہ اور کر امیہ اور اشعریہ تو کہتے ہیں اسم نفس مسمیٰ ہے اور نفس تسمیہ کا غیر ہے اور معزلہ کہتے ہیں کہ اسم مسمی کا غیر ہے اور نفس تسمیہ ہے۔ ہمارے نزدیک اسم مسمی کا بھی غیر ہے اور تسمیہ کا بھی۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اسم سے مراد لفظ ہے جو آوازوں کے ٹکڑوں اور حروف کا مجموعہ ہے تو بالبداہت ثابت ہے کہ یہ مسمی کا غیر ہے اور اگر اسم سے مراد ذات مسمی ہے تو یہ وضاحت کو ظاہر کرتا ہے جو محض بیکار ہے۔ ثابت ہوا کہ اس بیکار بحث میں پڑنا ہی فضول ہے۔ اس کے بعد جو لوگ اسم اور مسمی کے فرق پر اپنے دلائل لائے ہیں ان کا کہنا ہے محض اسم ہوتا ہے مسمی ہوتا ہی نہیں جیسے معدوم کا لفظ۔ کبھی ایک مسمی کے کئی اسم ہوتے ہیں جیسے مشترک۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اور چیز ہے اور مسمیٰ اور چیز ہے یعنی نام الگ ہے۔ اور نام والا الگ ہے۔ اور دلیل سنئے کہتے ہیں اسم تو لفظ ہے دوسرا عرض ہے۔ مسمیٰ کبھی ممکن یا واجب ذات ہوتی ہے۔ اور سنئے اگر اسم ہی کو مسمیٰ مانا جائے تو چاہئے کہ آگ کا نام لیتے ہی حرارت محسوس ہو اور برف کا نام لیتے ہی ٹھنڈک۔ جبکہ کوئی عقلمند اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ اور دلیل سنئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ کے بہت سے بہترین نام ہیں، تم ان ناموں سے اسے پکارو۔ حدیث شریف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں تو خیال کیجئے کہ نام کس قدر بکثرت ہیں حالانکہ مسمی ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ ہے اسی طرح اسماء کو اللہ کی طرف اس آیت میں مضاف کرنا، اور جگہ فرمانا فسبح باسم ربک العظیم وغیرہ یہ اضافت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ اسم اور ہو اور مسمی اور کیونکہ اضافت کا مقتضا مغائرت ہے۔ اسی طرح یہ وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا وظللہ الاسماء الحسنی یعنی اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ نام اور ہے نام والا اور۔ اب ان کے دلائل بھی سنئے جو اسم اور مسمی کو ایک ہی بتاتے ہے۔ تو نام برکتوں والا فرمایا حالانکہ خود اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اس مقدس ذات کی وجہ سے اس کا نام بھی عظمتوں والا ہے۔ ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ زینت پر طلاق ہے تو طلاق اس کی بیوی جس کا نام زینت ہے ہوجاتی ہے۔ اگر نام اور نام والے میں فرق ہوتا تو نام پر طلاق پڑتی، نام والے پر کیسے پڑتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ اس ذات پر طلاق ہے جس کا نام زینت ہے۔ تسمیہ کا اسم سے الگ ہونا اس دلیل کی بنا پر ہے کہ تسمیہ کہتے ہیں کسی کا نام مقرر کرنے کو اور ظاہر ہے یہ اور چیز ہے اور نام والا اور چیز ہے۔ رازی کا قول یہی ہے کہ یہ سب کچھ تو لفظ " باسم " کے متعلق تھا اب لفظ " اللہ " کے متعلق سنئے۔ اللہ خاص نام ہے رب تبارک و تعالیٰ کا۔ کہا جاتا ہے کہ اسم اعظم یہی ہے اس لئے کہ تمام عمدہ صفتوں کے ساتھ ہی موصوف ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے ھو اللہ الذی یعنی وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو ظاہرو باطن کا جاننے والا ہے، جو رحم کرنے والا مہربان ہے۔ وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جو بادشاہ ہے پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے، محافظ ہے، غلبہ والا ہے، زبردست ہے، برائی والا ہے، وہ ہر شرک سے اور شرک کی چیز سے پاک ہے۔ وہی اللہ پیدا کرنے والا، مادہ کو بنانے والا، صورت بخشنے والا ہے۔ اس کے لئے بہترین پاکیزہ نام ہیں، آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔ وہ عزتوں اور حکمتوں والا ہے۔ ان آیتوں میں تمام نام صفاتی ہیں، اور لفظ اللہ ہی کی صفت ہیں یعنی اصلی نام اللہ ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ ہی کے لئے ہیں پاکیزہ اور عمدہ عمدہ نام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام (صفاتی) نام خود تجویز فرمائے ہیں ٭٭ پس تم اس کو ان ہی ناموں سے پکارو۔ اور فرماتا ہے اللہ کو پکارو۔ یا رحمن کو پکارو جس نام سے پکارو۔ اسی کے پیارے پیارے اور اچھے اچھے نام ہیں۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ ایک کم ایک سو جو انہیں یاد کرلے جنتی ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ان ناموں کی تفصیل بھی آئی ہے اور دونوں کی روایتوں میں الفاظ کی کچھ تبدیلی کچھ کمی زیادتی بھی ہے۔ رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ ایک ہزار تو قرآن شریف اور صحیح حدیث میں ہیں اور ایک ہزار توراۃ میں اور ایک ہزار انجیل میں اور ایک ہزار زبور میں اور ایک ہزار لوح محفوظ میں اللہ کے مترادف المعنی کوئی نام نہیں ! اللہ ہی وہ نام ہے جو سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی اور کا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک عرب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا اشتقاق کیا ہے اس کا باب کیا ہے بلکہ ایک بہت بڑی نحویوں کی جماعت کا خیال ہے کہ یہ اسم جامد ہے اور اس کا کوئی اشتقاق ہے ہی نہیں۔ قرطبی نے علماء کرام کی ایک بڑی جماعت کا یہی مذہب نقل کیا ہے جن میں حضرت امام شافعی امام خطابی امام الحرمین امام غزالی بھی شامل ہیں۔ خلیل اور سیبویہ سے روایت ہے کہ الف لام اس میں لازم ہے۔ امام خطابی نے اس کی ایک دلیل یہ دی ہے کہ یا اللہ اصل کلمہ کا نہ ہوتا تو اس پر ندا کا لفظ یا داخل نہ ہوسکتا کیونکہ قواعد عربی کے لحاظ سے حرف ہذا کا الف لام والے اسم پر داخل نہ ہوسکتا کیونکہ قواعد عربی کے لحاظ سے حرف ندا کا لفظ لام والے اسم میں داخل ہونا جائز نہیں۔ بعض لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ یہ مشتق ہے اور اس پر روبہ بن لجاج کا ایک شعر دلیل لاتے ہیں جس میں مصدر تَاَلَہ، کا بیان ہے جس کا ماضی مضارع اَلَہَ یأَلَہ، اَلھتہ اور تالھا ہے جیسے کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ ویذرک الھتک پڑھتے تھے مراد اس سے عبادت ہے۔ یعنی اس کی عبادت کی جاتی ہے اور وہ کسی کی عبادت نہیں کرتا۔) مجاہد وغیرہ کہتے ہیں۔ بعض نے اس پر اس آیت سے دلیل پکڑی ہے کہ آیت (وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ) 6۔ الانعام :3) اور آیت میں ہے (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ) 43۔ الزخرف :84) یعنی وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ وہی ہے جو آسمان میں معبود ہے اور زمین میں معبود ہے۔ سیبویہ خلیل سے نقل کرتے ہیں کہ اصل میں یہ الہ تھا جیسے فعال پھر ہمزہ کے بدلے الف و لام لایا گیا جیسے " الناس : کہ اس کی اصل " اناس " ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس لفظ کی اصل الاہ ہے الف لام حرف تعظیم کے طور پر لایا گیا ہے۔ سیبویہ کا بھی پسندیدہ قول یہی ہے۔ عرب شاعروں کے شعروں میں بھی یہ لفظ ملتا ہے۔ کسائی اور فرا کہتے ہیں کہ اس کی اصل الالہ تھی ہمزہ کو حذف کیا اور پہلے لام کو دوسرے میں ادغام کیا جیسے کہ آیت (لٰكِنَّا۟ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ وَلَآ اُشْرِكُ بِرَبِّيْٓ اَحَدًا) 18۔ الکہف :38) میں لکن انا کا لکنا ہوا ہے۔ چناچہ حسن کی قرأت میں لکن انا ہی ہے اور اس کا اشتقاق ولہ سے ہے اور اس کے معنی تحیر ہیں ولہ عقل کے چلے جانے کو کہتے ہیں۔ جب وہ جنگل میں بھیج دیا جائے۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ میں اور اس کی صفتوں کی تحقیق میں عقل حیران و پریشان ہوجاتی ہے اس لئے اس پاک ذات کو اللہ کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر اصل میں یہ لفظ ولاہ تھا۔ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا جیسے کہ وشاح اور وسادۃ میں اشاح اور اسادہ کہتے ہیں۔ رازی کہتے ہیں کہ یہ لفظ الھت الی فلان سے مشتق ہے جو کہ معنی میں " سکنت " کے ہے۔ یعنی میں نے فلاں سے سکون اور راحت حاصل کی۔ چونکہ عقل کا سکون صرف ذات باری تعالیٰ کے ذکر سے ہے اور روح کی حقیقی خوشی اس کی معرفت میں ہے اس لئے کہ علی الاطلاق کامل وہی ہے، اس کے سوا اور کوئی نہیں اسی وجہ سے اللہ کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے آیت (اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ) 13۔ الرعد :28) یعنی ایمانداروں کے دل صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ لاہ یلوہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی چھپ جانے اور حجاب کرنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الہ الفصیل سے ہے چونکہ بندے اسی کی طرف تضرع اور زاری سے جھکتے ہیں اسی کے دامن رحمت کا پلہ ہر حال میں تھامتے ہیں، اس لئے اسے اللہ کہا گیا ایک قول یہ بھی ہے کہ عرب الہ الرجل یالہ اس وقت کہتے ہیں جب کسی اچانک امر سے کوئی گھبرا اٹھے اور دوسرا اسے پناہ دے اور بچا لے چونکہ تمام مخلوق کو ہر مصیبت سے نجات دینے والا اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے، اس لئے اس کو اللہ کہتے ہیں۔ جیسے کہ قرآن کریم میں ہے آیت (وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ) 23۔ المومنون :88) یعنی وہی بچاتا ہے اور اس کے مقابل میں کوئی نہیں بچایا جاتا (وھو منعم) حقیقی منعم وہی فرماتا ہے تمہارے پاس جنتی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں، وہی مطعم ہے فرمایا ہے وہ کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا۔ وہی موجد ہے فرماتا ہے ہر چیز کا وجود اللہ کی طرف سے ہے۔ رازی کا مختار مذہب یہی ہے کہ لفظ اللہ مشتق نہیں ہے۔ خلیل، سیبویہ اکثر اصولیوں اور فقہا کا یہی قول ہے، اس کی بہت سی دلیلیں بھی ہیں اگر یہ مشتق ہوتا تو اس کے معنی میں بہت سے افراد کی شرکت ہوتی حالانکہ ایسا نہیں پھر اس لفظ کو موصوف بنایا جاتا ہے اور بہت سی اس کی صفتیں آتی ہیں جیسے رحمن، رحیم، مالک، قدوس وغیرہ تو معلوم ہوا کہ یہ مشتق نہیں۔ قرآن میں ایک جگہ آیت (عزیز الحمید اللہ) الخ جو آتا ہے وہاں یہ عطف بیان ہے۔ ایک دلیل ہے اس کے مشتق نہ ہونے کی یہ بھی ہے آیت (ھل تعلم لہ سمیا) یعنی کیا اس کا ہم نام بھی کوئی جانتے ہو ؟ لیکن یہ غور طلب ہے واللہ اعلم۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ عبرانی ہے لیکن رازی نے اس قول کو ضعیف کہا ہے اور فی الواقع ضعیف ہے بھی۔ رازی فرماتے ہیں کہ " مخلوق کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو معرفت الٰہی کے کنارے پر پہنچ گئے دوسرے وہ جو اس سے محروم ہیں جو حیرت کے اندھیروں میں اور جہالت کی پرخار وادیوں میں پڑے ہیں وہ تو عقل کو رو بیٹھے اور روحانی کمالات کو کھو بیٹھے ہیں لیکن جو ساحل معرفت پر پہنچ چکے ہیں جو نورانیت کے وسیع باغوں میں جا ٹھہرے جو کبریائی اور جلال کی وسعت کا اندازہ کرچکے ہیں وہ بھی یہاں تک پہنچ کر حیران و ششدر رہ گئے ہیں۔ غرض ساری مخلوق اس کی پوری معرفت سے عاجز اور سر گشتہ و یران ہے۔ " ان معانی کی بنا پر اس پاک ذات کا نام اللہ ہے۔ ساری مخلوق اس کی محتاج، اس کے سامنے جھکنے والی اور اس کی تلاش کرنے والی ہے۔ اس حقیقت کی وجہ سے اسے اللہ کہتے ہیں۔ جیسا کہ خلیل کا قول ہے عرب کے محاورے میں ہر اونچی اور بلند چیز کو " لاہ " کہتے ہیں۔ سورج جب طلوع ہوتا ہے تب بھی وہ کہتے ہیں لاھت الشمس چونکہ پروردگار عالم بھی سب سے بلند وبالا ہے اس کو بھی اللہ کہتے ہیں۔ اور الہ کے معنی عبادت کرنے اور تالہ کے معنی حکم برداری اور قربانی کے ہیں اور رب عالم کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کے نام پر قربانیاں کی جاتی ہیں اس لئے اسے اللہ کہتے ہیں۔ ابن عباس کی قرأت میں ہے ویذرک والھتک اس کی اصل الالہ ہے پس صرف کلمہ کی جگہ جو ہمزہ ہے وہ حذف کیا گیا۔ پھر نفس کلمہ کا لام زائد لام سے جو تعریف کے لئے لایا گیا ہے ملا دیا گیا پھر ایک کو دوسرے میں مدغم کردیا تو ایک لازم مشدد رہ گیا اور تعظیماً اللہ کہا گیا۔ یہ تو تفسیر لفظ " اللہ " کی تھی۔ اَلرَّحمن اور الرحیم کے معنی ٭٭آیت (الرحمن الرحیم) کا بیان آئے گا یہ دونوں نام رحمت سے مشتق ہیں۔ دونوں میں مبالغہ ہے الرحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے۔ علامہ ابن جریر کے قول سے معلوم ہوتا ہے وہ بھی ان معنوں سے متفق ہیں گویا اس پر اتفاق ہے۔ بعض سلف کی تفسیروں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ان معنوں پر مبنی حضرت عیسیٰ ؑ کا قول بھی پہلے گزر چکا ہے کہ رحمن سے مراد دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا اور رحیم سے مراد آخرت میں رحم کرنے والا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رحمن مشتق نہیں ہے اگر یہ اس طرح ہوتا تو مرحوم کے ساتھ ملتا۔ حالانکہ قرآن میں بالمومنین رحیما آیا ہے۔ مبرد کہتے ہیں رحمن عبرانی نام ہے عربی نہیں۔ ابو اسحاق زجاج معانی القرآن میں کہتے ہیں کہ احمد بن یحییٰ کا قول ہے کہ رحیم عربی لفظ ہے اور رحمن عبرانی ہے دونوں کو جمع کردیا گیا ہے۔ لیکن ابواسحق فرماتے ہیں " اس قول کو دل نہیں مانتا۔ " قرطبی فرماتے ہیں " اس لفظ کے مشتق ہونے کی یہ دلیل ہے کہ ترمذی کی صحیح حدیث ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں رحمن ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اپنے نام میں سے ہی اس کا نام مشتق کیا۔ اس کے ملانے والے کو میں ملاؤں گا اور اس کے توڑنے والے کو کاٹ دوں گا۔ " اس صریح حدیث کے ہوتے ہوئے مخالفت اور انکار کرنے کی گوئی گنجائش نہیں۔ رہا کفار عرب کا اس نام سے انکار کرنا یہ محض ان کی جہالت کا ایک کرشمہ تھا۔ قرطبی کہتے ہیں کہ " رحمن اور رحیم کے ایک ہی معنی ہیں اور جیسے ندمان اور ندیم۔ " ابو عبید کا بھی یہی خیال ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ فعلان فعیل کی طرح نہیں۔ فعلان میں مبالغہ ضروری ہوتا ہے جیسے غضبان اسی شخص کو کہہ سکتے ہیں۔ جو بہت ہی غصہ والا ہو اور فعیل صرف فاعل اور صرف مفعول کے لئے بھی آتا ہے۔ جو مبالغہ سے خالی ہوتا ہے۔ ابو علی فارسی کہتے ہیں کہ " رحمن عام اسم ہے جو ہر قسم کی رحمتوں کو شامل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ رحیم باعتبار مومنوں کے ہے فرمایا ہے آیت (وَكَان بالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا) 33۔ الاحزاب :43) مومنون کے ساتھ رحیم ہے۔ " ابن عباس فرماتے ہیں " یہ دونوں رحمت و رحم والے ہیں، ایک میں دوسرے سے زیادہ رحمت و رحم ہے۔ " حضرت ابن عباس کی اس روایت میں لفظ ارق ہے اس کے معنی خطابی وغیرہ ارفق کرتے ہیں جیسے کہ حدیث میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ رفیق یعنی شفیق اور مہربانی والا ہے وہ ہر کام میں نرمی اور آسانی کو پسند کرتا ہے وہ دوسروں پر نرمی اور آسانی کرنے والے پر وہ نعمتیں مرحمت فرماتا ہے جو سختی کرنے والے پر عطا نہیں فرماتا۔ " ابن المبارک فرماتے ہیں " رحمن اسے کہتے ہیں کہ جب اس سے جو مانگا جائے عطا فرمائے اور رحیم وہ ہے کہ جب اس سے نہ مانگا جائے وہ غضبناک ہو۔ " ترمذی کی حدیث میں ہے " جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔ " بعض شاعروں کا قول ہے۔ اللہ یغضب ان ترکت سوالہ وبنی ادم حین یسال یغضب یعنی اللہ تعالیٰ سے نہ مانگو تو وہ ناراض ہوتا ہے اور بنی آدم سے مانگو تو وہ بگڑتے ہیں۔ عزرمی فرماتے ہیں کہ رحمن کے معنی تمام مخلوق پر رحم کرنے والا اور رحیم کے معنی مومنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ دیکھئے قرآن کریم کی دو آیتوں آیت (ثم استوی علی العرش اور الرحمن علی العرش استوی) میں استویٰ کے ساتھ رحمن کا لفظ ذکر کیا تاکہ تمام مخلوق کو یہ لفظ اپنے عام رحم و کرم کے معنی سے شامل ہو سکے اور مومنوں کے ذکر کے ساتھ لفظ رحیم فرمایا آیت (وَكَان بالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا) 33۔ الاحزاب :43) پس معلوم ہوا کہ رحمن میں مبالغہ بہ نسبت رحیم کے بہت زیادہ ہے۔ لیکن حدیث کی ایک دعا میں یا رحمن الدنیا والاخرۃ ورحیمھما بھی آیا ہے۔ رحمن یہ نام بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کا نام نہیں۔ جیسے کہ فرمان ہے کہ اللہ کو پکارو یا رحمن کو جس نام سے چاہو اسے پکارو اس کے بہت اچھے اچھے نام ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے آیت (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ) 43۔ الزخرف :45) یعنی ان سے پوچھ لو تجھ سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے تھے کیا انہوں نے رحمن کے سوا کسی کو معبود کہا تھا کہ ان کی عبادت کی جائے جب مسیلمہ، کذاب نے بڑھ چڑھ کر دعوے شروع کئے اور اپنا نام رحمن العیامہ رکھا تو پروردگار نے اسے بےانتہا رسوا اور برباد کیا، وہ جھوٹ اور کذب کی علامت مشہور ہوگیا۔ آج اسے مسیلمہ کذاب کہا جاتا ہے اور ہر جھوٹے دعویدار کو اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہر دیہاتی اور شہری ہر کچے پکے گھر والا اسے بخوبی جانتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ رحیم میں رحمن سے زیادہ مبالغہ ہے اس لئے کہ اس لفظ کے ساتھ اگلے لفظ کی تاکید کی گئی ہے اور تاکید بہ نسبت اس کے کہ جس کی تاکید جائے زیادہ قوی ہوتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تاکید ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو صفت ہے اور صفت میں یہ قاعدہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا اس نام میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں، سب سے پہلے اس کی صفت رحمن بیان کی گئی اور یہ نام رکھنا بھی دوسروں کو ممنوع ہے جیسے فرما دیا کہ اللہ کو یا رحمن کو پکارو جس نام سے چاہو پکارو اس کے لئے اسماء حسنیٰ بہت سارے ہیں۔ مسیلمہ نے بدترین جرأت کی لیکن برباد ہوا اور اس کے گمراہ ساتھیوں کے سوا اس کی کسی کے دل میں نہ آئی۔ رحیم کے وصف کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو بھی موصوف کیا ہے۔ فرماتا ہے آیت (لقد جاء کم) الخ اس آیت میں اپنے نبی کو رحیم کہا، اسی طرح اپنے بعض ایسے ناموں سے دوسروں کو بھی اس نے وابستہ کیا ہے۔ جیسے آیت (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ) 76۔ الانسان :2) میں انسان کو سمیع اور بصیر کہا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض نام تو ایسے ہیں کہ دوسروں پر بھی ہم معنی ہونے کا اطلاق ہوسکتا ہے اور بعض ایسے ہیں کہ نہیں ہوسکتا جیسے اللہ اور رحمن، خالق اور رزاق وغیرہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا نام اللہ پھر اس کی صفت رحمن سے کی۔ اس لئے کہ رحیم کی نسبت یہ زیادہ خاص ہے اور زیادہ مشہور ہے۔ قاعدہ ہے کہ اول سب سے زیادہ بزرگ نام لیا جاتا ہے، اس لئے سب سے پہلے سب سے زیادہ خاص نام لیا گیا پھر اس سے کم۔ پھر اس سے کم۔ اگر کہا جائے کہ جب رحمن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ موجود ہے پھر اسی پر اکتفا کیوں نہ کیا گیا ؟ تو اس کے جواب میں حضرت عطا خراسانی کا یہ قول پیش کیا جاسکتا ہے کہ چونکہ کافروں نے رحمن کا نام بھی غیروں کا رکھ لیا تھا اس لئے رحیم کا لفظ بھی ساتھ لگایا گیا تاکہ کسی قسم کا وہم ہی نہ رہے۔ رحمن و رحیم صرف اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے۔ ابن جریر نے تاہم اس قول کی تصدیق کی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے عرب رحمن سے واقف ہی نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت (قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى) 17۔ الاسراء :110) نازل فرما کر ان کی تردید کی۔ حدیبیہ والے سال جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا تھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو تو کفار نے کہا تھا کہ ہم رحمن اور رحیم کو نہیں جانتے۔ بخاری میں یہ روایت موجود ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم رحمن یمامہ کو جانتے ہیں کسی اور رحمن کو نہیں جانتے۔ اسی طرح قرآن پاک میں ہے آیت (وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ ۚ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا) 25۔ الفرقان :60) یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کے سامنے سجدہ کرو تو وہ حیران زدہ ہو کر جواب دیتے ہیں کہ رحمن کون ہے ؟ جسے ہم تیرے قول کی وجہ سے سجدہ کریں۔ درحقیقت یہ بدکار لوگ صرف عناد، تکبر، سرکشی اور دشمنی کی بنا پر رحمن سے انکار کرتے تھے نہ کہ وہ اس نام سے ناآشنا تھے۔ اس لئے کہ جاہلیت کے زمانے کے پرانے اشعار میں بھی اللہ تعالیٰ کا نام رحمن موجود ہے جو انہی کے سلامہ اور دوسرے شعرا کے اشعار میں ملاحظہ ہو۔ تفسیر ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس سے کہ رحمن فعلان کے وزن پر رحمت سے ماخوذ ہے اور کلام عرب سے ہے۔ وہ اللہ رفیق اور رقیق ہے جس پر رحم کرنا چاہے اور جس سے غصے ہو اس سے بہت دور اور اس پر بہت سخت گیر بھی ہے اسی طرح اس کے تمام نام ہیں۔ حسن فرماتے ہیں رحمن کا نام دوسروں کے لئے منع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ کا نام ہے لوگ اس نام پر کوئی حق نہیں رکھتے۔ ام سلمہ والی حدیث جس میں کہ ہر آیت پر حضور ﷺ ٹھہرا کرتے تھے۔ پہلے گزر چکی ہے اور ایک جماعت اسی طرح بسم اللہ کو آیت قرار دے کر آیت الحمد کو الگ پڑھتی ہے اور بعض ملا کر پڑھتے ہیں۔ میم کو دو ساکن جمع ہوجانے کی وجہ سے زیر دیتے ہیں۔ جمہور کا بھی یہی قول ہے کوفی کہتے ہیں کہ بعض عرب میم کے زیر سے پڑھتے ہیں، ہمزہ کی حرکت زبر میم کو دیتے ہیں۔ جیسے آیت (الم اللہ لا الہ الا ھو) ابن عطیہ کہتے ہیں کہ زبر کی قرأت کسی سے بھی میرے خیال میں مروی نہیں۔ آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کی تفسیر ختم ہوئی اب آگے سنئے۔
القول في تأويل ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ القول في تأويل قوله: ﴿بِسْمِ﴾ . قال أبو جعفر: إن الله تعالى ذكره وتقدَّست أسماؤه أدّب نبيه محمدًا ﷺ بتعليمه تقديمَ ذكر أسمائه الحسنى أمام جميع أفعاله، وتقدَّم إليه في وَصفه بها قبل جميع مُهمَّاته [[تقدم إليه بشيء: أمره بفعله أو إتيانه.]] ، وجعل ما أدّبه به من ذلك وعلَّمه إياه، منه لجميع خلقه سُنَّةً يستَنُّون بها [[يقول: جعل الله ذلك سنة منه لجميع خلقه يستنون بها. فقدم قوله "منه لجميع خلقه".]] ، وسبيلا يتَّبعونه عليها، فبه افتتاح أوائل منطقهم [[في المطبوعة: "في افتتاح. . . " والضمير في "فبه" عائد إلى "ما أدبه به".]] ، وصدور رسائلهم وكتبهم وحاجاتهم، حتى أغنت دلالة ما ظهر من قول القائل: "بسم الله"، على من بطن من مراده الذي هو محذوف. وذلك أن الباء من "بسم الله" مقتضية فعلا يكون لها جالبًا، ولا فعلَ معها ظاهرٌ، فأغنت سامعَ القائل "بسم الله" معرفتُه بمراد قائله، عن إظهار قائل ذلك مُرادَه قولا إذْ كان كل ناطق به عند افتتاحه أمرًا، قد أحضرَ منطقُه به -إمّا معه، وإمّا قبله بلا فصْلٍ- ما قد أغنى سامِعَه عن دلالةٍ شاهدةٍ على الذي من أجله افتتح قِيلَه به [[في المطبوعة: "من إظهار"، "من دلالة شاهدة".]] . فصار استغناءُ سامع ذلك منه عن إظهار ما حذف منه، نظيرَ استغنائه - إذا سمع قائلا قيل له: ما أكلت اليوم؟ فقال: "طعامًا" - عن أن يكرّر المسئُولُ مع قوله "طعامًا"، أكلت، لما قد ظهر لديه من الدلالة على أن ذلك معناه [[معناه: أي ما يعنيه ويقصده.]] ، بتقدُّم مسألة السائل إياه عما أكل. فمعقول إذًا أنّ قول القائل إذا قال: "بسم الله الرحمن الرحيم" ثم افتتح تاليًا سورةً، أن إتباعه "بسم الله الرحمن الرحيم" تلاوةَ السورة، يُنبئ عن معنى قوله: "بسم الله الرحمن الرحيم" ومفهومٌ به أنه مريد بذلك: أقرأ بسم الله الرحمن الرحيم. وكذلك قوله: "بسم الله" عند نهوضه للقيام أو عند قعوده وسائر أفعاله، ينبئ عن معنى مراده بقوله "بسم الله"، وأنه أراد بقِيلِه "بسم الله"، أقوم باسم الله، وأقعد باسم الله. وكذلك سائر الأفعال. وهذا الذي قلنا في تأويل ذلك، هو معنى قول ابن عباس الذي:- ١٣٨ - حدثنا به أبو كريب، قال: حدثنا عثمان بن سعيد، قال: حدثنا بشرُ بن عُمَارة، قال: حدثنا أبو رَوْق، عن الضحّاك، عن عبد الله بن عباس، قال: إنَّ أول ما نزل به جبريلُ على محمد، قال: "يا محمد، قُل: أستعيذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم" ثم قال: "قل بسم الله الرحمن الرحيم". قال: قال له جبريل: قل بسم الله يا محمد، يقول: اقرأ بذكر الله ربك، وقم واقعد بذكر الله. [[الحديث ١٣٨- مضى مختصرًا، بهذا الإسناد ١٣٧. وفصلنا القول فيه هناك.]] قال أبو جعفر: فإن قال لنا قائل: فإن كان تأويلُ قوله "بسم الله" ما وصفتَ، والجالبُ الباءَ في "بسم الله" ما ذكرتَ، فكيف قيل "بسم الله"، بمعنى أقرأ باسم الله"، أو أقوم أو أقعد باسم الله؟ وقد علمتَ أن كلَّ قارئٍ كتابَ الله، فبعَوْن الله وتوفيقه قراءتُه، وأن كل قائم أو قاعد أو فاعلٍ فعلا فبالله قيامُه وقعودُه وفعلُه. وهَلا - إذْ كان ذلك كذلك - قيل "بسم الله الرحمن الرحيم" ولم يَقُل "بسم الله"؟ فإن قول القائل: أقوم وأقعد بالله الرحمن الرحيم، أو أقرأ بالله - أوضحُ معنى لسامعه من قوله "بسم الله"، إذ كان قوله أقوم "أقوم أو أقعد باسم الله"، يوهم سامعَه أن قيامه وقعوده بمعنى غيرِ الله. قيل له، وبالله التوفيق: إن المقصودَ إليه من معنى ذلك غيرُ ما توهَّمته في نفسك. وإنما معنى قوله "بسم الله": أبدأ بتسمية الله وذكره قبل كل شيء، أو أقرأ بتسميتي اللهَ، أو أقوم وأقعد بتسميتي اللهَ وذكرِه - لا أنه يعني بقِيلِه "بسم الله": أقوم بالله، أو أقرأ بالله، فيكونَ قولُ القائل: أقرأ بالله، أو أقوم أو أقعد بالله - أولى بوجه الصواب في ذلك من قوله "بسم الله". فإن قال: فإن كان الأمر في ذلك على ما وصفتَ، فكيف قيل: "بسم الله" وقد علمتَ أنّ الاسم اسمٌ، وأن التسمية مصدرٌ من قولك سَمَّيت؟ قيل: إن العربَ قد تخرج المصادرَ مبهمةً على أسماء مختلفة، كقولهم: أكرمتُ فلانًا كرامةً، وإنما بناءُ مصدر "أفعلتُ" - إذا أخرج على فعله - "الإفعالُ". وكقولهم: أهنت فلانًا هَوانًا، وكلّمته كلامًا. وبناء مصدر: "فعَّلت" التفعيل. ومن ذلك قول الشاعر: أَكُفْرًا بعد رَدِّ المَوْتِ عَنِّي ... وبعد عَطَائِكَ المِئَةَ الرِّتَاعَا [[الشعر للقطامي ديوانه: ٤١، ويأتي في تفسير آية سورة يوسف: ١٢ (ج ١٢ ص ٩٤ بولاق) . يقول لزفر بن الحارث الكلابي، وكان أسره في حرب، فمن عليه وأعطاه مئة من الإبل، ورد عليه ماله. يقول: أأكفر بما وليتني، وقد أعطيت ما أعطيت. والعطاء بمعنى الإعطاء، ولذلك نصب به "المئة". والرتاع جمع راتع: يعني الإبل ترتع في مرعى خصيب تذهب فيه وتجيء.]] يريد: إعطائك. ومنه قول الآخر: وَإن كانَ هذا البُخْلُ منْك سَجيةً ... لقد كُنْتُ في طَولِي رَجَاءكَ أَشْعَبَا [[لم أجد البيت. وأشعب: الطماع الذي يضرب به المثل في الطمع المستعر.]] يريد: في إطالتي رجاءك. ومنه قول الآخر: أَظُلَيْمُ إن مُصَابَكم رَجُلا ... أَهْدَى السّلامَ تحيَّةً ظُلْمُ [[الشعر للحارث بن خالد المخزومي، الأغاني ٩: ٢٢٥- ٢٢٦، وهذا البيت الذي من أجله أشخص الواثق إليه أبا عثمان المازني النحوي، وله قصة. انظر الأغاني ٩: ٢٣٤ وغيره، وفي المطبوعة: "أظلوم"، والصواب من المخطوطة، والأغاني وأمالي الشجري ١: ١٠٧ وغيرها. وهذه الشواهد السالفة استشهاد من الطبري على أن الأسماء تقوم مقام المصادر فتعمل عملها في النصب. وظليم: هي أم عمران، زوجة عبد الله بن مطيع، وكان الحارث ينسب بها، فلما مات زوجها تزوجها.]] يريد: إصابتكم. والشواهد في هذا المعنى تكثُرُ، وفيما ذكرنا كفاية، لمن وُفِّق لفهمه. فإذْ كان الأمر - على ما وصفنا، من إخراج العرب مصادرَ الأفعال على غير بناء أفعالها - كثيرًا، وكان تصديرها إياها على مخارج الأسماء موجودًا فاشيًا [[أراد بقوله: "تصديرها": أي جعلها مصادر تصدر عنها صوادر الأفعال، وذلك كقولك: ذهب ذهابًا، فذهب صدرت عن قولك "ذهاب"، ويعمل عندئذ عمل الفعل. وعنى أنهم يخرجون المصدر على وزن الاسم فيعمل عمله، كقولك "الكلام" هو اسم ما تتكلم به، ولكنهم قالوا: كلمته كلامًا، فوضعوه موضع التكليم، وأخرجوا من "كلم" مصدرًا على وزن اسم ما تتكلم به، وهو الكلام، فكان المصدر: "كلامًا".]] ، فبيِّنٌ بذلك صوابُ ما قلنا من التأويل في قول القائل "بسم الله"، أن معناه في ذلك عند ابتدائه في فعل أو قول: أبدأ بتسمية الله، قبل فعلي، أو قبل قولي. وكذلك معنى قول القائل عند ابتدائه بتلاوة القرآن: "بسم الله الرحمن الرحيم"، إنما معناه: أقرأ مبتدئًا بتسمية الله، أو أبتدئ قراءتي بتسمية الله. فجُعِل "الاسمُ" مكان التسمية، كما جُعل الكلامُ مكان التكليم، والعطاءُ مكان الإعطاء. وبمثل الذي قلنا من التأويل في ذلك، رُوِي الخبر عن عبد الله بن عباس. ١٣٩ - حدثنا أبو كريب، قال: حدثنا عثمان بن سعيد، قال: حدثنا بشر بن عُمَارة، قال: حدثنا أبو رَوْق، عن الضحاك، عن عبد الله بن عباس، قال: أوّل ما نزل جبريل على محمد ﷺ قال: "يا محمد، قل: أستعيذ بالسميع العليم من الشيطان الرجيم"، ثم قال: "قل: بسم الله الرحمن الرحيم". قال ابن عباس: "بسم الله"، يقول له جبريلُ: يا محمد، اقرأ بذكر الله ربِّك، وقم واقعد بذكر الله. [[الحديث ١٣٩- مضى هذا الخبر وتخريجه، برقم ١٣٧.]] وهذا التأويل من ابن عباس ينبئ عن صحة ما قلنا - من أنه يراد بقول القائل مفتتحًا قراءته: "بسم الله الرحمن الرحيم": أقرأ بتسمية الله وذكره، وأفتتح القراءة بتسمية الله، بأسمائه الحسنى وصفاته العُلَى - ويوضح فسادَ قول من زعم أن معنى ذلك من قائله: بالله الرحمن الرحيم أوّلِ كلِّ شيء [[قوله: "يوضح" ساقطة من المطبوعة. وفيها مكان: "أول كل. . . "، "في كل. . ".]] ، مع أن العباد إنما أُمِروا أن يبتدئوا عند فواتح أمورِهم بتسمية الله، لا بالخبر عن عظمته وصفاته، كالذي أمِروا به من التسمية على الذبائح والصَّيد، وعند المَطعم والمَشرب، وسائر أفعالهم. وكذلك الذي أمِروا به من تسميته عند افتتاح تلاوة تنزيل الله، وصدور رسائلهم وكتبهم. ولا خلاف بين الجميع من علماء الأمة، أن قائلا لو قال عند تذكيته بعض بهائم الأنعام [[التذكية: النحر والذبح. ذكيت الشاة تذكية: ذبحتها.]] "بالله"، ولم يقل "بسم الله"، أنه مخالف - بتركه قِيلَ: "بسم الله" ما سُنَّ له عند التذكية من القول. وقد عُلم بذلك أنه لم يُرِدْ بقوله "بسم الله" "بالله"، كما قال الزاعم أن اسمَ الله في قول الله: "بسم الله الرحمن الرحيم" هو الله. لأن ذلك لو كان كما زعم، لوجب أن يكون القائل عند تذكيته ذبيحتَه "بالله"، قائلا ما سُنَّ له من القول على الذبيحة. وفي إجماع الجميع على أنّ قائلَ ذلك تارك ما سُنَّ له من القول على ذبيحته - إذْ لم يقل "بسم الله" - دليلٌ واضح على فساد ما ادَّعى من التأويل في قول القائل: "بسم الله"، أنه مراد به "بالله"، وأن اسم الله هو الله. وليس هذا الموضع من مواضع الإكثار في الإبانة عن الاسم: أهُوَ المسمى، أمْ غيرُه، أم هو صفة له؟ فنطيل الكتاب به، وإنما هذا موضع من مواضع الإبانة عن الاسم المضاف إلى الله: أهو اسمٌ، أم مصدر بمعنى التسمية [[استجاد أبو جعفر رضي الله عنه خير الرأي لحجته. والذي كتبه قبل، وما يأتي بعد، من أقوم ما قيل في شرح هذا الموضع الذي لجت فيه العقول والأقلام. وبيان ما قال أبو جعفر: إن قولك "اسم" في "بسم الله"، إنما هو اسم مصدر (أو اسم حدث) ، أي هو في الأصل اسم لما تفعل من تسميتك الشيء، مثل "الكلام" اسم حدث لما تفعل من التكليم، ومثل "العطاء" اسم حدث لما تفعل من الإعطاء، ومثل "الغسل"، اسم حدث لما تفعل من الاغتسال. وكأن أصله من قولك "سموت الشيء سموا"، فأماتوا فعله الثلاثي وبقي مصدره، "سمو"، فحذفوا واوه المتطرفة، فصار "سم" فأعاضوه منها ألفًا في أوله، فصار "اسم"، كما كان قولك: "كلام" من فعل ثلاثي هو "كلم كلامًا"، على مثال "ذهب ذهابًا"، فأماتوا الفعل الثلاثي وبقي مصدره "كلام"، فجعلوه اسم حدث لما تفعل من التكليم، ثم أخرجوا مصدر الرباعي على مخرج اسم هذا الحدث، فقالوا: "كلم يكلم كلامًا"، بمعنى "كلم يكلم تكليمًا". فكذلك فعلوا في قولهم "سمى يسمى تسمية": أخرجوا لهذا الرباعي مصدرًا على مخرج اسم الحدث وهو "اسم"، فقالوا: "سمى يسمى اسمًا"؛ بمعنى "سمى يسمى تسمية". فقولك "كلام" بمعنى "تكليم" وقولك "اسم" بمعنى "تسمية" صُدِّرا على مخارج أسماء الأحداث. وإذن فالمضاف إلى اسمه تعالى في قولك "بسم الله" وأشباهها، إنما هو مصدر صدر على مخرج اسم الحدث، وهو اسم، من فعل رباعي هو "سمى يسمي"، فكان بمعنى مصدره وهو "تسمية". وهو في هذا المكان وأمثاله بمعنى المصدر "تسمية"، لا بمعنى اسم الحدث لما تفعل من التسمية. (انظر: ١٢٣- ١٢٤، كلام الطبري في "أله") . وهذا الذي قاله أبو جعفر رضي الله عنه أبرع ما قيل في شرح هذا الحرف من كلام العرب. وقد أحسن النظر وأدقه، حتى خفي على جلة العلماء الذين تكلموا في شرح معنى "اسم" في "بسم الله" وأشباهها، فأغفلوه إغفالا لخفائه ووعورة مأتاه، وإلفهم للكلام في الذي افتتحوه من القول في "الاسم"، أهو المسمى أم غيره، أم هو صفة له، وما رسمه وما حده؟ وهذا باب غير الذي نحن فيه، فخلطوا فيه خلطًا، فجاء الطبري فمحص الحق تمحيصًا، وهو أرجح الآراء عندنا وأولاها بالتقديم، لمن وفق لفهمه، كما يقول أبو جعفر غفر الله له. وسيذكر بعد من الحجة ما يزيد المعنى وضوحًا وبيانًا. ولولا خوف الإطالة، لأتيت بالشواهد على ترجيح قول الطبري الذي أغفلوه، على كل رأي سبقه أو أتى بعده.]] ؟ فإن قال قائل: فما أنت قائلٌ في بيت لبيد بن ربيعة: إلَى الحَوْلِ، ثم اسْمُ السَّلام عليكُمَا، ... ومن يَبْكِ حَوْلا كاملا فَقَد اعتَذَرْ [[ديوانه، القصيدة رقم: ٢١، والخزانة ٢: ٢١٧، ثم يأتي في تفسير آية سورة التوبة: ٩٠ (١٠: ١٤٤ بولاق) ، وآية سورة الرعد: ٣٥ (١٣: ١٠٩) والشعر يقوله لابنتيه، إذ قال: تَمَنَّى ابنتَايَ أن يعيشَ أبُوهما ... وهَلْ أنا إلاَّ من ربيعة أو مُضَرْ! ثم أمرهما بأمره فقال قبل بيت الشاهد: فقُومَا فقولاَ بالذي قد علمتُما ... ولا تَخْمِشا وجْهًا ولا تَحْلِقا شَعَرْ وقولاَ: هو المرءُ الّذي لا خليلَه ... أَضاعَ، ولا خانَ الصديقَ، ولا غَدَرْ فقوله "إلى الحول. . " أي افعلا ذلك إلى أن يحول الحول. والحول: السنة كاملة بأسرها. وقوله "اعتذر" هنا بمعنى أعذر: أي بلغ أقصى الغاية في العذر.]] فقد تأوله مُقدَّم في العلم بلغة العرب، أنه معني به: ثم السلام عليكما، وأن اسمَ السلام هو السلام؟ [[هذا المقدم في العلم بلغة العرب، هو أبو عبيدة معمر بن المثنى، في كتابه مجاز القرآن: ١٦. وقد وقع بين ماضغى أسد! وهذا الذي يأتي كله تقريع مرير من أبي جعفر لأبي عبيدة.]] قيل له: لو جاز ذلك وصح تأويله فيه على ما تأوّل، لجاز أن يقال: رأيتُ اسم زيد، وأكلتُ اسمَ الطعام، وشربتُ اسمَ الشراب؛ وفي إجماع جميع العرب على إحالة ذلك ما ينبئ عن فساد تأويل من تأول قول لبيد: "ثمّ اسم السلام عليكما"، أنه أراد: ثم السلام عليكما، وادِّعائه أن إدخال الاسم في ذلك وإضافتَه إلى السلام إنما جاز، إذْ كان اسم المسمَّى هو المسمَّى بعينه. ويُسأل القائلون قولَ من حكينا قولَه هذا، فيقال لهم: أتستجيزون في العربية أن يقال: "أكلتُ اسمَ العسل"، يعني بذلك: أكلت العسل، كما جاز عندكم: اسم السلام عليك، وأنتم تريدون: السلامُ عليك؟ فإن قالوا: نعم! خرجوا من لسان العرب، وأجازوا في لغتها ما تخطِّئه جميع العرب في لغتها. وإن قالوا: لا سئلوا الفرقَ بينهما: فلن يقولوا في أحدهما قولا إلا أُلزموا في الآخر مثله. فإن قال لنا قائل: فما معنى قول لبيد هذا عندك؟ قيل له: يحتمل ذلك وجهين، كلاهما غير الذي قاله من حكينا قوله. أحدُهما: أن "السلام" اسمٌ من أسماء الله، فجائز أن يكون لبيد عنَى بقوله: "ثم اسم السلام عليكما"، ثم الزما اسمَ الله وذكرَه بعد ذلك، وَدَعَا ذكري والبكاءَ عليّ؛ على وجه الإغراء. فرفعَ الاسم، إذْ أخّر الحرفَ الذي يأتي بمعنى الإغراء. [[في المطبوعة: "إذا وأخر". وقوله "فرفع الاسم"، يعني ما في قول لبيد "ثم اسم"، وكان حقه أن ينصب على الإغراء لو قال: "ثم عليكما اسم السلام" بتقديم الإغراء.]] وقد تفعَلُ العرب ذلك، إذا أخّرت الإغراء وقدمت المُغْرَى به، وإن كانت قد تنصبُ به وهو مؤخَّر. ومن ذلك قول الشاعر: يَا أَيُّها المائحُ دَلوِي دُونَكا! ... إني رأيتُ النَّاس يَحْمدُونَكا! [[هذا رجز في خبر طويل، الخزانة ٣: ١٧ قيل هزءًا برجل ألقوه في بئر ثم رجزوا به. والمائح: هو الرجل الذي ينزل إلى قرار البئر إذا قل ماؤها، فيلقي الدلاء فيملؤها بيده ويميح لأصحابه.]] فأغرَى ب "دونك"، وهي مؤخرة، وإنما معناه: دونَك دلوي. فذلك قول لبيد: إلى الحوْلِ، ثمَّ اسمُ السَّلامُ عَلَيْكُمَا * يعني: عليكما اسمَ السلام، أي: الزما ذكر الله ودعا ذكري والوجدَ بي، لأن من بكى حَوْلا على امرئ ميّت فقد اعتذر. فهذا أحد وجهيه. والوجه الآخر منهما: ثم تسميتي اللهَ عليكما، كما يقول القائل للشيء يراه فيعجبه: "اسم الله عليك" يعوِّذه بذلك من السوء، فكأنه قال: ثم اسمُ الله عليكما من السوء، وكأنّ الوجه الأول أشبه المعنيين بقول لبيد. [[الأول بغير شك أولى الأقوال بالصواب. فإنه كان قد أمر ابنتيه - كما قدمنا في أبياته السالفة، أن تقوما لتنوحا عليه بما أمرهما من ندبه وتأبينه ورثائه، وأن تفعلا ذلك منذ يموت إلى أن يحول عليه الحول، فلا معنى بعد أن يلقي السلام عليهما، أي تحية المفارق، بعد الحول، فقد فارقهما منذ حول كامل. وأولى به أن يدعو لهما، أو يستكفهما عما أمرهما به، إذ قضتا ما أمرهما على الوجه الذي أحب، "ومن يبك حولا كاملا فقد اعتذر"، كأنه قال: كفا عندئذ عما أمرتكما، فإن من بكى حولا فقد بلغ أقصى ما يسعه العذر. فسياق الشعر يقطع بترجيح ما ذهب إليه الطبري عامة، وإلى الجزم بأن معنى "ثم اسم السلام عليكما" هو: الزما ذكر الله، ودعا ذكرى، والبكاء علي، والوجد بي.]] ويقال لمن وجه بيت لبيد هذا إلى أنّ معناه: ثم السلام عليكما، أترَى ما قلنا - من هذين الوجهين - جائزًا، أو أحدهما، أو غيرَ ما قلتَ فيه؟ فإن قال: لا! أبان مقدارَه من العلم بتصاريف وُجوه كلام العرب، وأغنى خصمه عن مناظرته. وإن قال: بَلَى! قيل له: فما برهانك على صحة ما ادَّعيت من التأويل أنه الصوابُ، دون الذي ذكرتَ أنه محتملُه - من الوجه الذي يلزمنا تسلميه لك؟ ولا سبيل إلى ذلك. وأما الخبر الذي:- ١٤٠ - حدثنا به إسماعيل بن الفضل، قال: حدثنا إبراهيم بن العلاء بن الضحاك [وهو يلقب بزبريق] قال: حدثنا إسماعيل بن عياش، عن إسماعيل بن يحيى، عن ابن أبي مُليكة، عمن حدثه، عن ابن مسعود - ومِسْعَرِ بن كِدَام، عن عطية، عن أبي سعيد - قال: قال رسول الله ﷺ: "إن عيسى ابن مريم أسلمته أمُّه إلى الكتَّاب ليعلِّمه، فقال له المعلم: اكتب "بسم" فقال له عيسى: وما "بسم"؟ فقال له المعلم: ما أدري! فقال عيسى: الباء بهاءُ الله، والسين: سناؤه، والميم: مملكته. [[الحديث ١٤٠- هذا حديث موضوع، لا أصل له. وهو أطول من هذا، وسيأتي بعضه برقمي ١٤٥، ١٤٧، فصل الطبري كل قسم منه في موضعه، وفيه زيادة أخرى، في تفسير كلمات "أبجد هوز". إلخ. رواه بطوله ابن حبان الحافظ، في كتاب المجروحين، في ترجمة إسماعيل بن يحيى بن عبد الله التيمي، رقم: ٤٤ ص٨٥، وقال في إسماعيل هذا: "كان ممن يروي الموضوعات عن الثقات، وما لا أصل له عن الأثبات، لا تحل الرواية عنه، ولا الاحتجاج به بحال". ثم ضرب مثلا من أكاذيبه، فروى الحديث بطوله، عن محمد بن يحيى بن رزين العطار عن إبراهيم بن العلاء بن الضحاك، بالإسناد الثاني الذي هنا، من حديث أبي سعيد الخدري. وذكره ابن كثير في التفسير ١: ٣٥ نقلا عن ابن مردويه، من حديث أبي سعيد وحده، جمع فيه الأقسام الثلاثة التي فرقت هنا. ثم أشار إلى رواية الطبري إياه. ثم قال: "وهذا غريب جدا، وقد يكون صحيحًا إلى من دون رسول الله ﷺ، وقد يكون من الإسرائيليات لا من المرفوعات"! وما أدري كيف فات الحافظ ابن كثير أن في إسناده هذا الكذاب، فتسقط روايته بمرة، ولا يحتاج إلى هذا التردد. وأما السيوطي، فقد ذكره في الدر المنثور ١: ٨، ونسبه لابن جرير وابن عدي في الكامل وابن مردويه وأبي نعيم في الحلية وابن عساكر في تاريخ دمشق والثعلبي، ولم يغفل عن علته؛ فذكر أنه "بسند ضعيف جدا". وترجم الذهبي في الميزان ١: ١١٧، وتبعه ابن حجر في لسان الميزان ١: ٤٤١- ٤٤٢ لإسماعيل بن يحيى هذا، وفي ترجمته: "قال صالح بن محمد جزرة: كان يضع الحديث. وقال الأزدي: ركن من أركان الكذب، لا تحل الرواية عنه. . . وقال أبو علي النيسابوري الحافظ والدارقطني والحاكم: كذاب". وقال ابن حجر: "مجمع على تركه". وذكر هو والذهبي هذا الحديث مثالا من أكاذيبه. ثم إن إسناده الأول، الذي رواه إسماعيل بن يحيى عن أبي مليكة، فيه أيضًا راو مجهول، وهو "من حدثه عن ابن مسعود". وإسناده الثاني، الذي رواه إسماعيل هذا عن مسعر بن كدام، فيه أيضًا "عطية بن سعد بن جنادة العوفي"، وهو ضعيف، ضعفه أحمد وأبو حاتم وغيرهما. والزيادة بين قوسين، في لقب إبراهيم بن العلاء من المخطوطة. و "زبريق": بكسر الزاي والراء بينهما ياء موحدة ساكنة. وهو لقب إبراهيم، فيما قيل. والصحيح أنه لقب أبيه، فقد قال البخاري في ترجمته في الكبير ١ / ١ / ٣٠٧: "زعم إبراهيم أن أباه كان يدعى زبريق". وقال ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل ١ / ١ / ١٢١: "إبراهيم بن العلاء. . . يعرف بابن الزبريق".]] فأخشى أنْ يكون غلطًا من المحدِّث، وأن يكون أراد [ب س م] ، على سبيل ما يعلَّم المبتدئ من الصبيان في الكتّاب حروف أبي جاد، فغلط بذلك، فوصَله، فقال: "بسم"، لأنه لا معنى لهذا التأويل إذا تُلي "بسم الله الرحمن الرحيم"، على ما يتلوه القارئ في كتاب الله، لاستحالة معناه على المفهوم به عند جميع العرب وأهل لسانها، إذا حُمِل تأويله على ذلك. القول في تأويل قوله جل ثناؤه: ﴿اللَّهِ﴾ . قال أبو جعفر: وأما تأويل قول الله تعالى ذكره "الله"، فإنه على معنى ما رُوي لنا عن عبد الله بن عباس-: هو الذي يَألَهه كل شيء، ويعبده كل خلْقٍ. ١٤١ - وذلك أنّ أبا كريب حدثنا، قال: حدثنا عثمان بن سعيد، قال: حدثنا بشر بن عُمَارة، قال: حدثنا أبو رَوْق، عن الضحاك، عن عبد الله بن عباس، قال: "الله" ذو الألوهية والمَعْبودية على خلقه أجمعين. [[الحديث ١٤١- إسناد هذا الخبر ضعيف، كما فصلنا القول فيه، في إسناد الخبر ١٣٧. وهذا الذي هنا نقله السيوطي في الدر المنثور ١: ٨ مع باقيه الآتي برقم ١٤٨ بالإسناد نفسه. ونسبه السيوطي لابن جرير (وكتب فيه: ابن جريج، خطأ مطبعيا) ، وابن أبي حاتم.]] فإن قال لنا قائل: فهل لذلك في "فعل ويفعل" أصل كان منه بناءُ هذا الاسم؟ قيل: أمّا سماعًا من العرب فلا ولكن استدلالا. فإن قال: وما دلّ على أن الألوهية هي العبادة، وأنّ الإله هو المعبود، وأنّ له أصلا في "فعل ويفعل". قيل: لا تمانع بين العرب في الحكم لقول القائل [[قوله "لا تمانع"، أي لا اختلاف بينهم، يدعو بعضهم إلى دفع ما يقوله الآخر. وسيأتي مثله في ص: ١٢٦.]] - يصف رجلا بعبادة، وبطلب مما عند الله جل ذكره: "تألَّه فلان" - بالصحة ولا خلاف. ومن ذلك قول رؤبة بن العجاج: للهِ دَرُّ الغانِيات المُدَّهِ [[ديوانه: ١٦٥. المده: جمع ماده. ومده فلانًا يمدهه مدهًا: نعت هيئته وجماله وأثنى عليه ومدحه. و "استرجعن": قلن" إنا لله وإنا إليه راجعون. يقلنها حسرة عليه كيف تنسك وهجر الدنيا، بعد الذي كان من شبابه وجماله وصبوته!]] سَبَّحْنَ واسْتَرْجَعْنَ مِن تَأَلُّهِي يعني: من تعبدي وطلبي اللهَ بعملي. ولا شك أنّ "التألُّه"، التفعُّل من: "ألَه يأله"، وأن معنى "أله" - إذا نُطق به:- عَبَدَ اللهَ. وقد جاء منه مصدر يدل على أن العرب قد نطقت منه ب "فعل يفعل" يغير زيادة. ١٤٢ - وذلك ما حدثنا به سفيان بن وكيع، قال حدثنا أبي، عن نافع بن عُمر، عن عَمرو بن دينار، عن ابن عباس: أنه قرأ ﴿وَيَذَرَكَ وإلاهَتَكَ﴾ [سورة الأعراف: ١٢٧] قال: عبادتَك، ويقال: إنه كان يُعبَد ولا يَعبُد. ١٤٣ - حدثنا سفيان، قال: حدثنا ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن محمد بن عمرو بن الحسن، عن ابن عباس: ﴿وَيَذَرَكَ وَإلاهَتَك﴾ ، قال: إنما كان فرعونُ يُعبَد ولا يَعبُد [[الخبران ١٤٢، ١٤٣- إسنادهما ضعيفان، من أجل "سفيان بن وكيع بن الجراح"، شيخ الطبري فيهما، وسفيان هذا: ضعيف، كان أبوه إمامًا حجة، وكان هو رجلا صالحًا، ولكن وراقه أفسد عليه حديثه، وأدخل عليه ما ليس من روايته. ونصحه العلماء أن يدعه فلم يفعل، فمن أجل ذلك تركوه. قال ابن حبان في كتاب المجروحين، رقم ٤٧٠ ص٢٣٨- ٢٣٩: "فمن أجل إصراره على ما قيل له استحق الترك". وهذان الخبران، سيذكرهما الطبري في تفسير آية سورة الأعراف: ١٢٧ (٩: ١٨ بولاق) ، وهناك شيء من التحريف في أحدهما. ونقل معناهما السيوطي في الدر المنثور ٣: ١٠٧. والقراءة الصحيحة المعروفة: ﴿ويذرك وآلهتك﴾ . وأما هذه القراءة "وإلاهتك"، فقد نقلها صاحب إتحاف البشر: ٢٢٩ عن ابن محيصن والحسن. ونقلها ابن خالويه في كتاب القراءات الشاذة: ٤٥ عن علي وابن مسعود وابن عباس. وذكرها أبو حيان في البحر ٤: ٣٦٧ عن هؤلاء الثلاثة "وأنس وجماعة غيرهم".]] وكذلك كان عبدُ الله يقرؤها ومجاهد. ١٤٤ - حدثنا القاسم قال: حدثنا الحسين بن داود، قال: أخبرني حجاج، عن ابن جريج، عن مجاهد: قوله "ويذرَكَ وإلاهتك" قال: وعبادتَك [[الخبر ١٤٤- الحسين بن داود: اسمه "الحسين" ولقبه "سنيد"، بضم السين المهملة وفتح النون. واشتهر بهذا اللقب، وترجم به في التهذيب ٤: ٢٤٤- ٢٤٥، وفي الجرح والتعديل ٣ / ١ / ٣٢٦. وحجاج: هو ابن محمد المصيصي، من شيوخ الإمام أحمد. وهذا الأثر عن مجاهد، سيرويه الطبري في تفسير آية الأعراف (٩: ١٨ بولاق) - بإسناد آخر.]] ولا شك أن الإلاهة - على ما فسره ابن عباس ومجاهد - مصدرٌ من قول القائل: ألَه اللهَ فلانٌ إلاهةً، كما يقال: عَبَد الله فلانٌ عبادةً، وعَبَرَ الرؤيا عبارةً. فقد بين قول ابن عباس ومجاهد هذا: أنّ "أله" عَبد، وأن "الإلاهة" مصدرُه. فإن قال: فإن كان جائزًا أن يقال لمن عبد الله: ألهه - على تأويل قول ابن عباس ومجاهد - فكيف الواجبُ في ذلك أن يقال، إذا أراد المخبر الخبرَ عن استيجاب الله ذلك على عَبْده؟ قيل: أما الروايةُ فلا رواية فيه عندنا، ولكن الواجب - على قياس ما جاء به الخبرُ عن رسول الله ﷺ الذي:- ١٤٥ - حدثنا به إسماعيل بن الفضل، حدثنا إبراهيم بن العلاء، قال: حدثنا إسماعيل بن عياش، عن إسماعيل بن يحيى، عن ابن أبي مُليكة، عمن حدثه عن ابن مسعود - ومِسْعَر بن كِدَام، عن عطية العَوْفي، عن أبي سعيد - قال: قال رسول الله ﷺ: إنّ عيسى أسلمَتْه أمه إلى الكتّاب ليعلّمه فقال له المعلم اكتب "الله" فقال له عيسى: "أتدري ما الله؟ الله إلهُ الآلهة [[الحديث ١٤٥- هو حديث لا أصل له. وهو جزء من الحديث الموضوع الذي روى الطبري بعضه فيما مضى ١٤٠، بهذا الإسناد. وفصلنا القول فيه هناك.]] ". - أن يقال [[قوله: "أن يقال" من تمام قوله في السطر الثالث "ولكن الواجب-" خبر لكن.]] ، الله جل جلاله ألَهَ العبدَ، والعبدُ ألَهَه. وأنْ يكون قولُ القائل "الله" - من كلام العرب أصله "الإله". فإن قال: وكيف يجوز أن يكون ذلك كذلك، مع اختلاف لفظيهما؟ قيل: كما جاز أن يكون قوله: ﴿لكِنَّ هُوَ اللهُ رَبِّي﴾ [سورة الكهف: ٣٨] أصله: لكن أنا، هو الله ربي، كما قال الشاعر: وَتَرْمِينَنِي بالطَّرْف، أَيْ أَنتَ مُذْنبٌ ... وتَقْلينَني، لكِنَّ إياكِ لا أَقْلِي [[الأضداد لابن الأنباري: ١٦٣، والخزانة ٤: ٤٩٠، وقال: "لم أقف على تتمته وقائله، مع أنه مشهور، قلما خلا منه كتاب نحوي، والله أعلم".]] يريد: لكن أنا إياك لا أقلي، فحذَف الهمزة من "أنا" فالتقت نون "أنا" "ونون "لكنْ" وهي ساكنة، فأدغمت في نون "أنا" فصارتا نونًا مشددة. فكذلك "الله" أصله "الإله"، أسقطت الهمزةُ التي هي فاء الاسم، فالتقت اللام التي هي عين الاسم، واللام الزائدة التي دخلت مع الألف الزائدة وهي ساكنة، فأدغمت في الأخرى التي هي عين الاسم، فصارتا في اللفظ لامًا واحدة مشددة، كما وصفنا من قول الله ﴿لكنَّ هوَ الله رَبي﴾ . القول في تأويل قوله جل ثناؤه: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ . قال أبو جعفر: وأما "الرحمن"، فهو فَعلان، من رَحم، و "الرحيم" فعيل منه. والعرب كثيرًا ما تبني الأسماء من "فَعِل يفْعَل" على "فعلان"، كقولهم من غَضِب: غَضبان، ومن سَكر: سكران، ومن عَطش: عطشان. فكذلك قولهم "رَحمن" من رَحِمَ، لأن "فعِلَ" منه: رَحم يرْحم. وقيل "رحيم"، وإن كانت عَين "فعِل" منها مكسورة، لأنه مدح. ومن شأن العرب أن يحملوا أبنية الأسماء - إذا كان فيها مدح أو ذم - على "فعيل"، وإن كانت عين "فعل" منها مكسورةً أو مفتوحةً، كما قالوا من "علم" عالم وعليم، ومن "قدَر" قادر وقدير. وليس ذلك منها بناء على أفعالها، لأن البناء من "فَعِل يفْعَل" و "فعَل يفعِل" فاعلٌ. فلو كان "الرحمن والرحيم" خارجين عن بناء أفعالهما لكانت صورتهما "الراحم". فإن قال قائل: فإذا كان الرحمن والرحيم اسمين مشتقين من الرحمة، فما وجهُ تكرير ذلك، وأحدهما مؤدٍّ عن معنى الآخر؟ قيل له: ليس الأمر في ذلك على ما ظننتَ، بل لكل كلمة منهما معنى لا تؤدي الأخرى منهما عنها. فإن قال: وما المعنى الذي انفردت به كل واحدة منهما، فصارت إحداهما غير مؤدية المعنى عن الأخرى؟ قيل: أما من جهة العربية، فلا تَمانُع [[لا تمانع: أي لا اختلاف بينهم، يدعو بعضهم إلى دفع ما يقوله الآخر.]] بين أهل المعرفة بلغات العرب، أنّ قول القائل: "الرحمن" - عن أبنية الأسماء من "فَعِل يفعَل" - أشدُّ عدولا من قوله "الرّحيم". ولا خلاف مع ذلك بينهم، أنّ كل اسم كان له أصل في "فَعِلَ يفعَل" - ثم كان عن أصله من "فَعِل يفعَلُ" أشد عدولا - أنّ الموصوف به مفضَّل على الموصوف بالاسم المبني على أصله من "فَعِل يفعَل"، إذا كانت التسمية به مدحًا أو ذمًّا. فهذا ما في قول القائل "الرحمن"، من زيادة المعنى على قوله "الرحيم" في اللغة. وأما من جهة الأثر والخبر، ففيه بين أهل التأويل اختلاف:- ١٤٦ - فحدثني السري بن يحيى التميمي، قال: حدثنا عثمان بن زفر، قال: سمعت العَرْزَمي يقول: "الرحمن الرحيم"، قال: الرحمن بجميع الخلق، الرّحيم، قال: بالمؤمنين. [[الأثر ١٤٦- نقله ابن كثير في التفسير ١: ٤٠ عن هذا الموضع. و "السري بن يحيى ابن السري التميمي الكوفي"، شيخ الطبري، لم نجد له ترجمة إلا في الجرح والتعديل لابن أبي حاتم ٢ / ١ / ٢٨٥، وقال: "لم يقض لنا السماع منه، وكتب إلينا بشيء من حديثه، وكان صدوقًا". و "العرزمي" المرويُّ عنه هذا الكلام هنا: ضعيف جدا، قال الإمام أحمد في المسند ٦٩٣٨: "لا يساوي حديثه شيئًا". وهو "محمد بن عبيد الله بن أبي سليمان العرزمي". وأما عمه "عبد الملك بن أبي سليمان العرزمي"، فإنه تابعي ثقة، ولكنه قديم، مات سنة ١٤٥، فلم يدركه "عثمان بن زفر" المتوفى سنة ٢١٨. و "العرزمي" بفتح العين المهملة وسكون الراء وبعدها زاي، نسبة إلى "عرزم". ووقع هنا في الطبري وابن كثير "العرزمي"، بتقديم الزاي على الراء، وهو تصحيف.]] ١٤٧ - حدثنا إسماعيل بن الفضل، قال: حدثنا إبراهيم بن العلاء، قال: حدثنا إسماعيل بن عياش، عن إسماعيل بن يحيى، عن ابن أبي مُليكة، عمن حدثه، عن ابن مسعود - ومسعر بن كدام، عن عطية العَوفي، عن أبي سعيد - يعني الخدريّ - قال: قال رسول الله ﷺ: "إنّ عيسى ابن مريم قال: الرحمن رَحمنُ الآخرة والدنيا، والرحيم رحيمُ الآخرة". [[الحديث ١٤٧- هذا إسناد ضعيف، بل إسنادان ضعيفان، كما فصلنا فيما مضى: ١٤٠، ١٤٥.]] فهذان الخبران قد أنبآ عن فرق ما بين تسمية الله جل ثناؤه باسمه الذي هو "رحمن"، وتسميته باسمه الذي هو "رحيم"، واختلاف معنى الكلمتين - وإن اختلفا في معنى ذلك الفرق، فدلّ أحدهما على أنّ ذلك في الدنيا، ودلّ الآخر على أنه في الآخرة. فإن قال: فأي هذين التأويلين أولى عندك بالصحة؟ قيل: لجميعهما عندنا في الصحة مخرج، فلا وجه لقول قائل: أيُّهما أولى بالصحة؟ وذلك أنّ المعنى الذي في تسمية الله بالرحمن، دون الذي في تسميته بالرحيم: هو أنه بالتسمية بالرحمن موصوف بعموم الرحمة جميعَ خلقه، وأنه بالتسمية بالرحيم موصوف بخصوص الرحمة بعضَ خلقه، إما في كل الأحوال، وإما في بعض الأحوال. فلا شك - إذا كان ذلك كذلك - أنّ ذلك الخصوص الذي في وصفه بالرحيم لا يستحيل عن معناه، في الدنيا كان ذلك أو في الآخرة، أو فيهما جميعًا. فإذا كان صحيحًا ما قلنا من ذلك - وكان الله جل ثناؤه قد خصّ عباده المؤمنين في عاجل الدنيا بما لطف بهم من توفيقه إياهم لطاعته، والإيمان به وبرسله، واتباع أمره واجتناب معاصيه، مما خُذِل عنه من أشرك به، وكفر وخالف ما أمره به، وركب معاصيَه؛ وكان مع ذلك قد جعلَ، جَلَّ ثناؤه، ما أعد في آجل الآخرة في جناته من النعيم المقيم والفوز المبين، لمن آمن به، وصدّق رسله، وعمل بطاعته، خالصًا، دون من أشرك وكفر به - [[جواب قوله "فإذ كان صحيحًا. . . " وما بينهما فصل.]] كان بيِّنًا إن الله قد خص المؤمنين من رحمته في الدنيا والآخرة، مع ما قد عمَّهم به والكفارَ في الدنيا من الإفضال والإحسان إلى جميعهم، في البَسْط في الرزق، وتسخير السحاب بالغَيْثِ، وإخراج النبات من الأرض، وصحة الأجسام والعقول، وسائر النعم التي لا تُحصى، التي يشترك فيها المؤمنون والكافرون. فربُّنا جل ثناؤه رحمنُ جميع خلقه في الدنيا والآخرة، ورحيمُ المؤمنين خاصةً في الدنيا والآخرة. فأما الذي عمّ جميعَهم به في الدنيا من رحمته فكان رَحمانًا لهم به، فما ذكرنا مع نظائره التي لا سبيل إلى إحصائها لأحد من خلقه، كما قال جل ثناؤه: ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ الله لا تُحْصُوهَا﴾ [سورة إبراهيم: ٣٤، وسورة النحل: ١٨] . وأما في الآخرة، فالذي عمّ جميعهم به فيها من رحمته، فكان لهم رحمانًا، تسويته بين جميعهم جل ذكرُه في عَدله وقضائه، فلا يظلم أحدًا منهم مِثْقال ذَرّة، وإن تَكُ حسنةً يُضاعفها ويُؤتِ من لَدُنْهُ أجرًا عظيما، وتُوفَّى كُلُّ نَفْسٍ ما كَسَبَتْ. فذلك معنى عمومه في الآخرة جميعَهم برحمته، الذي كان به رحمانًا في الآخرة. وأما ما خص به المؤمنين في عاجل الدنيا من رحمته، الذي كان به رحيما لهم فيها، كما قال جل ذكره: ﴿وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: ٤٣] فما وصفنا من اللطف لهم في دينهم، فخصّهم به، دونَ من خذَله من أهل الكفر به. وأمَّا ما خصّهم به في الآخرة، فكان به رحيما لهم دون الكافرين، فما وصفنا آنفًا مما أعدَّ لهم دون غيرهم من النعيم، والكرامة التي تقصرُ عنها الأمانيّ. وأما القول الآخر في تأويله فهو ما:- ١٤٨ - حدثنا به أبو كريب، قال: حدثنا عثمان بن سعيد، قال: حدثنا بشر بن عمارة، قال: حدثنا أبو رَوْق، عن الضحاك، عن عبد الله بن عباس، قال: الرحمن، الفعلان من الرحمة، وهو من كلام العرب. قال: الرّحمن الرحيم: الرقيقُ الرفيقُ بمن أحبَّ أن يرحمه، والبعيد الشديد على من أحب أن يعنُف عليه. [[الحديث ١٤٨- نقله ابن كثير في التفسير ١: ٤١ عن هذا الموضع، وقد مضى الكلام في هذا الإسناد، وبيان ضعفه: ١٣٧، ١٤١. والذي في الدر المنثور ١: ٨- ٩ "على من أحب أن يضعف عليه العذاب"، والظاهر أنه تصرف من ناسخ أو طابع.]] وكذلك أسماؤه كلها. وهذا التأويل من ابن عباس، يدل على أن الذي به ربُّنا رحمن، هو الذي به رحيم، وإن كان لقوله "الرحمن" من المعنى، ما ليس لقوله "الرحيم". لأنه جعل معنى "الرحمن" بمعنى الرقيق على من رقَّ عليه، ومعنى "الرحيم" بمعنى الرفيق بمن رفق به. والقول الذي رويناه في تأويل ذلك عن النبي ﷺ وذكرناه عن العرْزَمي [[إشارة إلى ما مضى: ١٤٦، ووقع في الأصول هنا "العرزمي" أيضًا، بتقديم الزاي، وهو خطأ، كما بينا من قبل.]] ، أشبه بتأويله من هذا القول الذي رويناه عن ابن عباس. وإن كان هذا القول موافقًا معناه معنى ذلك، في أن للرحمن من المعنى ما ليس للرحيم، وأن للرحيم تأويلا غيرَ تأويل الرحمن. والقول الثالث في تأويل ذلك ما:- ١٤٩ - حدثني به عمران بن بَكَّار الكلاعي، قال: حدثنا يحيى بن صالح، قال: حدثنا أبو الأزهر نصر بن عمرو اللَّخمي من أهلِ فلَسْطين، قال: سمعت عطاء الخراساني يقول: كان الرحمن، فلما اختزلَ الرحمن من اسمه كان الرحمنَ الرحيمَ. [[الأثر ١٤٩- نقله السيوطي في الدر المنثور ١: ٩ ونسبه للطبري وحده. وعطاء الخراساني هو عطاء بن أبي مسلم، وهو ثقة، وضعفه بعض الأئمة. وهو كثير الرواية عن التابعين، وكثير الإرسال عن الصحابة، في سماعه منهم خلاف. وأما الراوي عنه "أبو الأزهر نصر بن عمرو اللخمي"، فإني لم أجد له ترجمة فيما بين يدي من المراجع، إلا قول الدولابي في الكنى والأسماء ١: ١١٠: "أبو الأزهر الفلسطيني نصر بن عمرو اللخمي، روى عنه يحيى بن صالح الوحاظي".]] والذي أراد، إن شاء الله، عطاءٌ بقوله هذا: أن الرحمن كان من أسماء الله التي لا يتسمَّى بها أحد من خَلْقِه، فلما تسمَّى به الكذابُ مسيلمة - وهو اختزاله إياه، يعني اقتطاعه من أسمائه لنفسه - أخبر الله جلّ ثناؤه أن اسمه "الرحمنُ الرحيمُ" ليفصِل بذلك لعباده اسمَهُ من اسم من قد تسمَّى بأسمائه، إذ كان لا يسمَّى أحد "الرحمن الرحيم"، فيجمع له هذان الاسمان، غيره جلّ ذكره. وإنما يتسمَّى بعضُ خَلْقه إما رحيما، أو يتسمَّى رَحمن. فأما "رحمن رحيم"، فلم يجتمعا قطّ لأحد سواهُ، ولا يجمعان لأحد غيره. فكأنّ معنى قول عطاء هذا: أن الله جل ثناؤه إنما فَصَل بتكرير الرحيم على الرحمن، بين اسمه واسم غيره من خلقِه، اختلف معناهما أو اتفقا. والذي قال عطاءٌ من ذلك غيرُ فاسد المعنى، بل جائز أن يكون جلّ ثناؤه خصّ نفسه بالتسمية بهما معًا مجتمعين، إبانةً لها من خلقه، ليعرف عبادُه بذكرهما مجموعينِ أنه المقصود بذكرهما دون مَنْ سواه من خلقه، مع مَا في تأويل كل واحد منهما من المعنى الذي ليس في الآخر منهما. وقد زعم بعضُ أهل الغَباء أنّ العرب كانت لا تعرف "الرحمن"، ولم يكن ذلك في لغتها [[لا يزال أهل الغباء في عصرنا يكتبونه، ويتبجحون بذكره في محاضراتهم وكتبهم، نقلا عن الذين يتتبعون ما سقط من الأقوال، وهم الأعاجم الذين يؤلفون فيما لا يحسنون باسم الاستشراق. ورد الطبري مفحم لمن كان له عن الجهل والخطأ رده تنهاه عن المكابرة.]] ولذلك قال المشركون للنبي ﷺ: ﴿وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا﴾ [سورة الفرقان: ٦٠] ، إنكارًا منهم لهذا الاسم، كأنه كان محالا عنده أن ينكر أهل الشرك ما كانوا عالمين بصحته، أوْ: لا وكأنه لم يتْلُ من كتاب الله قول الله ﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ﴾ - يعني محمدًا - ﴿كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ﴾ [سورة البقرة: ١٤٦] وهم مع ذلك به مكذِّبون، ولنبوته جاحدون! فيَعلمَ بذلك أنهم قد كانوا يدافعون حقيقةَ ما قد ثبت عندهم صحتُه، واستحكمتْ لديهم معرفتُه. وقد أنشد لبعض الجاهلية الجهلاء: أَلا ضربَتْ تلكَ الفتاةُ هَجِينَهَا ... أَلا قَضَبَ الرحْمَنُ رَبِّي يَمِينَهَا [[لم أجد قائل البيت. واستشهد به ابن سيده في المخصص ١٧: ١٥٢، وعلق على البيت محمد محمود التركزي الشنقيطي، وادعى أن البيت مصنوع، وأن "بعض الرجال الذين يحبون إيجاد الشواهد المعدومة لدعاويهم المجردة، صنعه ولفقه، وأن الوضع والصنعة ظاهران فيه ظهور شمس الضحى، وركاكته تنادي جهارًا بصحة وضعه وصنعته، والصواب وهو الحق المجمع عليه، أن الشاعر الجاهلي المشار إليه، هو الشنفرى الأزدي، وهذا البيت ليس في شعره"، وأنه ملفق من قول الشنفرى: أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي، والتَلهُّفُ ضَلَّةٌ ... بما ضَرَبَتْ كَفُّ الفَتَاةِ هَجِينَهَا والشنقيطي رحمه الله كان كثير الاستطالة، سريعًا إلى المباهاة بعلمه وروايته. والذي قاله من ادعاء الصنعة لا يقوم. وكفى بالبيت الذي يليه دليلا على فساد زعمه أن الدافع لصنعته: إيجاد الشواهد المعدومة، لدعاوى مجردة. وليس في البيت ركاكة ولا صنعة.]] وقال سلامة بن جَندلٍ السَّعْدي: [[في المخطوطة والمطبوعة: "الطهوي" مكان السعدي، وهو خطأ. ليس سلامة طهويا.]] عَجِلْتُمْ عَلَيْنَا عَجْلَتَيْنَا عَلَيْكُمُ ... وَمَا يَشَإ الرحْمَنُ يَعْقِدْ وَيُطْلِقِ [[ديوانه: ١٩، وقد جاء في طبقات فحول الشعراء: ١٣١ في نسب الشاعر: سلامة بن جندل بن عبد الرحمن"، وهذه رواية ابن سلام، وغيره يقول: "ابن عبد"، فإن صحت رواية ابن سلام، فهي دليل آخر قوي على فساد دعوى الشنقيطي.]] وقد زعم أيضًا بعضُ من ضعُفت معرفتُه بتأويل أهل التأويل، وقلَّت روايته لأقوال السلف من أهل التفسير، أنّ "الرحمن" مجازه: ذو الرحمة، و "الرحيم" مجازه: الرّاحم [[الذي عناه الطبري، هو أبو عبيدة معمر بن المثنى في كتابه "مجاز القرآن": ٢١، وقد نقل أكثر كلامه الآتي بنصه.]] ، ثم قال: قد يقدِّرون اللفظين من لفظٍ والمعنى واحد، وذلك لاتساع الكلام عندهم. قال: وقد فعلوا مثل ذلك فقالوا: ندمان ونَديم، ثم استشهد ببيتِ بُرْج بن مُسْهِر الطائي: وَنَدْمَانٍ يزيدُ الكأسَ طِيبًا، ... سَقَيْتُ وَقَدْ تَغَوَّرَتِ النُّجُومُ [[حماسة أبي تمام ٣: ١٣٥، والمؤتلف والمختلف للآمدي: ٦٢.]] واستشهد بأبياتٍ نظائره في النَّديم والنَّدمان، ففرق بين معنى الرحمن والرحيم في التأويل لقوله: الرحمن ذو الرحمة، والرحيم الراحم، وإن كان قد ترك بيان تأويل معنيَيْهما على صحته. ثم مثّل ذلك باللَّفظين يأتيان بمعنى واحد، فعاد إلى ما قد جعله بمعنيين، فجعله مثال ما هو بمعنى واحد مع اختلاف الألفاظ. ولا شك أن ذا الرحمة هو الذي ثَبت أن له الرحمة، وصحَّ أنها له صفة؛ وأن الراحم هو الموصوف بأنه سيرحم، أو قد رحم فانقضى ذلك منه، أو هو فيه. ولا دلالة له فيه حينئذ أن الرحمة له صفة، كالدلالة على أنها له صفة، إذا وُصِف بأنه ذو الرحمة. فأين معنى "الرحمن الرحيم" على تأويله، من معنى الكلمتين يأتيان مقدَّرتين من لفظ واحد باختلاف الألفاظ واتفاق المعاني؟ ولكن القول إذا كان غير أصل معتمد عليه، كان واضحًا عوارُه. وإن قال لنا قائل: ولم قدّم اسمَ الله الذي هو "الله"، على اسمه الذي هو "الرحمن"، واسمه الذي هو "الرحمن"، على اسمه الذي هو "الرحيم"؟ قيل: لأن من شأن العرب، إذا أرادوا الخبر عن مُخبَر عنه، أن يقدِّموا اسمه، ثم يتبعوه صفاتِه ونعوتَه. وهذا هو الواجب في الحُكم: أن يكون الاسم مقدَّمًا قبل نعته وصِفَته، ليعلم السامع الخبرَ، عمَّن الخبرُ. فإذا كان ذلك كذلك - وكانَ لله جلَّ ذكره أسماءٌ قد حرَّم على خلقه أن يتسمَّوا بها، خَصَّ بها نفسه دونهم، وذلك مثلُ "الله" و "الرحمن" و "الخالق"؛ وأسماءٌ أباحَ لهم أن يُسمِّيَ بعضهم بعضًا بها، وذلك: كالرحيم والسميع والبصير والكريم، وما أشبه ذلك من الأسماء - كان الواجب أن تقدَّم أسماؤه التي هي له خاصة دون جميع خلقه، ليعرف السامعُ ذلك مَنْ تَوجَّه إليه الحمد والتمجيدُ، ثم يُتبع ذلك بأسمائه التي قد تسمى بها غيره، بعد علم المخاطب أو السامع من توجَّه إليه ما يتلو ذلك من المعاني. فبدأ الله جل ذكره باسمه الذي هو "الله"، لأن الألوهية ليست لغيره جلّ ثناؤه من وجهٍ من الوجوه، لا من جهة التسمِّي به، ولا من جهة المعنى. وذلك أنا قد بينَّا أن معنى "الله" تعالى ذكره المعبود [[في المطبوعة: "أن معنى الله هو المعبود".]] ، ولا معبودَ غيرُه جل جلاله، وأن التسمِّي به قد حرّمه الله جل ثناؤه، وإن قصد المتسمِّي به ما يقصدُ المتسمِّي بسعيد وهو شقي، وبحسَنٍ وهو قبيح. أوَلا تَرى أنّ الله جلّ جلاله قال في غير آية من كتابه: ﴿أَإِلَهٌ مَعَ اللهِ﴾ فاستكبر ذلك من المقرِّ به، وقال تعالى في خُصوصه نَفسَه بالله وبالرحمن: ﴿قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى﴾ [سورة الإسراء: ١١٠] . ثم ثنَّى باسمه، الذي هو الرحمن، إذ كان قد مَنع أيضًا خلقه التسمي به، وإن كان من خلْقه من قد يستحق تسميته ببعض معانيه. وذلك أنه قد يجوز وصْف كثير ممّن هو دون الله من خلقه، ببعض صفات الرحمة. وغير جائز أن يستحق بعضَ الألوهية أحد دونه. فلذلك جاء الرحمن ثانيًا لاسمه الذي هو "الله". وأما اسمه الذي هو"الرحيم" فقد ذكرنا أنه مما هو جائز وصْف غيره به. والرحمة من صفاته جل ذكره، فكان - إذ كان الأمرُ على ما وصفنا - واقعًا مواقع نعوت الأسماء اللواتي هنّ توابعُها، بعد تقدم الأسماء عليها. فهذا وجه تقديم اسم الله الذي هو "الله"، على اسمه الذي هو "الرحمن"، واسمه الذي هو "الرحمن" على اسمه الذي هو "الرحيم". [[هذا الاحتجاج من أجود ما قيل، ودقته تدل على حسن نظر أبي جعفر فيما يعرض له. وتفسيره كله شاهد على ذلك. رحمة الله عليه.]] وقد كان الحسنُ البصريّ يقول في "الرحمن" مثل ما قلنا، أنه من أسماء الله التي مَنَعَ التسميَ بها العبادَ. [[غيروه في المطبوعة: "لعباده".]] ١٥٠ - حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا حماد بن مسعدة، عن عوف، عن الحسن، قال: "الرحمن" اسمٌ ممنوع. [[الأثر ١٥٠- نقله ابن كثير في التفسير ١: ٤١- ٤٢ عن هذا الموضع. والسيوطي في الدر المنثور ١: ٩، ونسبه للطبري وحده. و "عوف" الراويه عن الحسن: هو عوف بن أبي جميلة العبدي، المعروف بابن الأعرابي، وهو ثقة ثبت.]] مع أن في إجماع الأمة من منع التسمِّي به جميعَ الناس، ما يُغني عن الاستشهاد على صحة ما قلنا في ذلك بقول الحسن وغيره.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ يُقَالُ لَهَا: الْفَاتِحَةُ، أَيْ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ خَطًّا، وَبِهَا تُفْتَحُ [[في أ: "يفتتح".]] الْقِرَاءَةُ فِي الصَّلَاةِ [[في أ: "الصلوات".]] وَيُقَالُ لَهَا أَيْضًا: أُمُّ الْكِتَابِ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَكَرِهَ أَنَسٌ، وَالْحَسَنُ وَابْنُ سِيرِينَ كَرِهَا تَسْمِيَتَهَا بِذَلِكَ، قَالَ الْحَسَنُ وَابْنُ سِيرِينَ: إِنَّمَا ذَلِكَ اللَّوْحُ الْمَحْفُوظُ، وَقَالَ الْحَسَنُ: الْآيَاتُ الْمُحْكَمَاتُ: هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ، وَلِذَا كَرِهَا [[في أ: "كذا".]] -أَيْضًا -أَنْ يُقَالَ لَهَا أُمُّ الْقُرْآنِ وَقَدْ ثَبَتَ فِي [الْحَدِيثِ] [[زيادة من أ.]] الصَّحِيحِ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَصَحَّحَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ " وَيُقَالُ لَهَا: الْحَمْدُ، وَيُقَالُ لَهَا: الصَّلَاةُ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ [[في أ: "صلى الله عليه وسلم".]] عَنْ رَبِّهِ: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، قَالَ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي " الْحَدِيثَ. فَسُمِّيَتِ الْفَاتِحَةُ: صَلَاةً؛ لِأَنَّهَا شَرْطٌ فِيهَا. وَيُقَالُ لَهَا: الشِّفَاءُ؛ لِمَا رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا: " فَاتِحَةُ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سُمٍّ [[في أ: "اسم".]] ". وَيُقَالُ لَهَا: الرُّقْيَةُ؛ لِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ فِي الصَّحِيحِ حِينَ رَقَى بِهَا الرَّجُلَ السَّلِيمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ ". وَرَوَى الشَّعْبِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمَّاهَا: أَسَاسَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَأَسَاسُهَا [[في أ: "وأساسها".]] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَسَمَّاهَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: الْوَاقِيَةُ. وَسَمَّاهَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: الْكَافِيَةُ؛ لِأَنَّهَا تَكْفِي عَمَّا عَدَاهَا وَلَا يَكْفِي مَا سِوَاهَا عَنْهَا، كَمَا جَاءَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ الْمُرْسَلَةِ: " أُمُّ الْقُرْآنِ عِوَضٌ مِنْ غَيْرِهَا، وَلَيْسَ غَيْرُهَا عِوَضًا عَنْهَا " [[ورواه البيهقي في السنن الكبرى (٢/١٦٥) من طريق مكحول عن عبادة به مرسلا، ورواه الحاكم في المستدرك (١/٢٣٨) من طريق الزهري عن محمود بن الربيع عن عبادة به مرفوعا بهذا اللفظ، وهذا غير محفوظ. وقد جاء من طريق أخرى موصولة ذكرها الفاضل محمد طرهوني فى كتابه "موسوعة فضائل القرآن" (١/٤٠-٤٣)]] . وَيُقَالُ لَهَا: سُورَةُ الصَّلَاةِ وَالْكَنْزِ ذَكَرَهُمَا الزَّمَخْشَرِيُّ فِي كَشَّافِهِ. وَهِيَ مَكِّيَّةٌ، قَالَهُ [[في أ: "قال".]] ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَتَادَةُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ، وَقِيلَ مَدَنِيَّةٌ، قَالَهُ [[في أ: "قال".]] أَبُو هُرَيْرَةَ وَمُجَاهِدٌ وَعَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَالزُّهْرِيُّ. وَيُقَالُ: نَزَلَتْ مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً بِمَكَّةَ، وَمَرَّةً بِالْمَدِينَةِ، وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي﴾ [الْحِجْرِ: ٨٧] ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ [[في جـ: "والله تعالى أعلم".]] . وَحَكَى أَبُو اللَّيْثِ السَّمَرْقَنْدِيُّ أَنَّ نِصْفَهَا نَزَلَ بِمَكَّةَ وَنِصْفَهَا الْآخَرَ نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ، وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا، نَقْلَهُ الْقُرْطُبِيُّ عَنْهُ. وَهِيَ سَبْعُ آيَاتٍ بِلَا خِلَافٍ، [وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ: ثَمَانٌ، وَقَالَ حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ: سِتَّةٌ [[في أ: "ست".]] وَهَذَانَ شَاذَّانِ] [[زيادة من جـ.]] . وَإِنَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الْبَسْمَلَةِ: هَلْ هِيَ آيَةٌ مُسْتَقِلَّةٌ مِنْ أَوَّلِهَا كَمَا هُوَ عِنْدَ جُمْهُورِ قُرَّاءِ الْكُوفَةِ وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَخَلْقٌ مِنَ الْخَلَفِ، أَوْ بَعْضُ آيَةٍ أَوْ لَا تُعَدُّ مِنْ أَوَّلِهَا بِالْكُلِّيَّةِ، كَمَا هُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنَ الْقُرَّاءِ وَالْفُقَهَاءِ؟ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْوَالٍ، سَيَأْتِي تَقْرِيرُهُ [[في أ: "تقريرها".]] فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَبِهِ الثقة. قَالُوا: وَكَلِمَاتُهَا خَمْسٌ وَعِشْرُونَ كَلِمَةً، وَحُرُوفُهَا مِائَةٌ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ حَرْفًا. قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي أَوَّلِ كتاب التفسير: وسميت أم الكتب، أنه يُبْدَأُ بِكِتَابَتِهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَيُبْدَأُ بِقِرَاءَتِهَا فِي الصَّلَاةِ [[صحيح البخاري (٨/١٥٥) "فتح".]] وَقِيلَ: إِنَّمَا [[في أ: "أنها".]] سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِرُجُوعِ مَعَانِي الْقُرْآنِ كُلِّهِ [[في أ: "إليها".]] إِلَى مَا تَضَمَّنَتْهُ. قَالَ ابْنُ جَرِيرٍ: وَالْعَرَبُ تُسَمِّي كُلَّ جَامِعِ أَمْرٍ [[في أ: "كل أمر جامع أمرا"، وفي و: "كل جامع أمرا".]] أَوْ مُقَدَّمٍ لِأَمْرٍ -إِذَا كَانَتْ لَهُ تَوَابِعُ تَتْبَعُهُ هُوَ لَهَا إِمَامٌ جَامِعٌ -أُمًّا، فَتَقُولُ [[في أ: "فيقول".]] لِلْجِلْدَةِ الَّتِي تَجْمَعُ الدِّمَاغَ، أُمُّ الرَّأْسِ، وَيُسَمُّونَ لِوَاءَ الْجَيْشِ وَرَايَتَهُمُ الَّتِي يَجْتَمِعُونَ تَحْتَهَا أُمًّا، وَاسْتَشْهَدَ [[في أ: "واستشهدوا".]] بِقَوْلِ ذِي الرُّمَّةِ: عَلَى رَأْسِهِ أُمٌّ لَنَا نَقْتَدِي بِهَا ... جِمَاعُ أُمُورٍ لَيْسَ [[في أ، و: "لا".]] نَعْصِي لَهَا أَمْرَا [[تفسير الطبري (١/١٠٧) .]] يَعْنِي: الرُّمْحُ. قَالَ: وَسُمِّيَتْ مَكَّةُ: أُمَّ الْقُرَى لِتَقَدُّمِهَا أَمَامَ جَمِيعِهَا وَجَمْعِهَا مَا سِوَاهَا، وَقِيلَ: لِأَنَّ الْأَرْضَ دُحِيَتْ مِنْهَا. وَيُقَالُ لَهَا أَيْضًا: الْفَاتِحَةُ؛ لِأَنَّهَا تُفْتَتَحُ بِهَا الْقِرَاءَةُ، وَافْتَتَحَتِ الصَّحَابَةُ بِهَا كِتَابَةَ الْمُصْحَفِ الْإِمَامِ، وَصَحَّ تَسْمِيَتُهَا بِالسَّبْعِ الْمَثَانِي، قَالُوا: لِأَنَّهَا تُثَنَّى فِي الصَّلَاةِ، فَتُقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنْ كَانَ لِلْمَثَانِي مَعْنًى آخَرُ غَيْرُ هَذَا، كَمَا سَيَأْتِي بَيَانُهُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ [[في أ: "الله تعالى".]] . قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَهَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لِأُمِّ الْقُرْآنِ: " هِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَهِيَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ [[في جـ: "العظيم الذي أوتيته".]] " [[المسند (٢/٤٤٨) .]] . ثُمَّ رَوَاهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ بِهِ، وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ: حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " هِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي " [[تفسير الطبري (١/١٠٧) .]] . وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ مَرْدَوَيْهِ فِي تَفْسِيرِهِ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَارِثٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَوْصِلِيُّ، ثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعُ آيَاتٍ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِحْدَاهُنَّ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ، وهي أم الكتاب [[بعدها في أ، جـ: "وفاتحة الكتاب".]] " [[ورواه الثعلبي في تفسيره (١/ق ١٨) من طريق محمد بن حسان عن المعافى بن عمران عن عبد الحميد به، ورواه البيهقي في السنن الكبرى (٢/٤٥) من طريق نوح بن أبي بلال عن المقبري به.]] . وَقَدْ رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا بِنَحْوِهِ [[في أ: "نحوه".]] أَوْ مِثْلِهِ، وَقَالَ: كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ [[سنن الدارقطني (١/٣١٢) من طريق أبي بكر الحنفي عن عبد الحميد بن جعفر عن نوح به مرفوعا، ثم قال أبو بكر الحنفي: "ثم لقيت نوحا فحدثني سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة بمثله ولم يرفعه".]] . وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ عَنْ عَلِيٍّ [[شعب الإيمان للبيهقي برقم (٢٣٥٣) من طريق الثوري عن السدي عن عبد خير عن علي بن أبي طالب.]] وَابْنِ عَبَّاسٍ [[شعب الإيمان برقم (٢٣٥٦) من طريق الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس.]] وَأَبِي هُرَيْرَةَ [[شعب الإيمان برقم (٢٣٥٤) .]] أَنَّهُمْ فَسَّرُوا قَوْلَهُ تَعَالَى: ﴿سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي﴾ [الْحِجْرِ: ٨٧] بِالْفَاتِحَةِ، وَأَنَّ الْبَسْمَلَةَ هِيَ الْآيَةُ السَّابِعَةُ مِنْهَا، وَسَيَأْتِي تَمَامُ هَذَا عِنْدَ الْبَسْمَلَةِ. وَقَدْ رَوَى الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: لِمَ لَمْ تَكْتُبِ الْفَاتِحَةَ فِي مُصْحَفِكِ؟ قَالَ: لَوْ كَتَبْتُهَا لِكَتَبْتُهَا فِي أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ. قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: يَعْنِي حَيْثُ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: وَاكْتَفَيْتُ بِحِفْظِ الْمُسْلِمِينَ لَهَا عَنْ كِتَابَتِهَا. وَقَدْ قِيلَ: إِنَّ الْفَاتِحَةَ أَوَّلُ شَيْءٍ نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، كَمَا وَرَدَ فِي حَدِيثٍ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ [[دلائل النبوة للبيهقي (٢/١٥٨) وقال الحافظ ابن كثير في البداية والنهاية (٣/١٠) بعد أن أورده من طريق البيهقي: "وهو مرسل، وفيه غرابة وهو كون الفاتحة أول ما نزل".]] وَنَقْلَهُ الْبَاقِلَّانِيُّ أَحَدَ أَقْوَالٍ ثَلَاثَةٍ هَذَا [أَحَدُهَا] [[زيادة من جـ.]] وَقِيلَ: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ كَمَا فِي حَدِيثِ جَابِرٍ فِي الصَّحِيحِ [[صحيح البخاري برقم (٤٩٢٣، ٤٩٢٦، ٤٩٥٤) وصحيح مسلم برقم (١٦١) .]] . وَقِيلَ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [الْعَلَقِ: ١] وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، كَمَا سَيَأْتِي تَقْرِيرُهُ فِي مَوْضِعِهِ، وَاللَّهُ [[في أ، و: "وبالله".]] الْمُسْتَعَانُ. ذِكْرُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْفَاتِحَةِ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ المُعَلَّى، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَلَمْ أُجِبْهُ حَتَّى صلَّيت وَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي. قَالَ: " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٢٤] ثُمَّ قَالَ: " لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ". قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ: " لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ". قَالَ: " نَعَمْ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ: السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَعَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، بِهِ [[المسند (٣/٤٥٠) وصحيح البخاري برقم (٥٠٠٦) وبرقم (٤٤٧٤) .]] . وَرَوَاهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ التَّفْسِيرِ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ طُرُقٍ عَنْ شُعْبَةَ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٤٦٤٧، ٤٧٠٣) وسنن أبي داود برقم (١٤٥٨) وسنن النسائي (٢/١٣٩) وسنن ابن ماجة برقم (٣٧٨٥) .]] . وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ المُعَلَّى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَدْ وَقَعَ فِي الْمُوَطَّأِ لِلْإِمَامِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، مَا يَنْبَغِي التَّنْبِيهُ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ رَوَاهُ مالك عن العلاء بن عبد الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الحُرَقي: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَادَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ لَحِقَهُ، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ ﷺ يَدَهُ عَلَى يَدِي، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَلَّا تَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أُنْزِلَ [[في أ: "ما نزل".]] فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ [[في أ: "القرآن".]] مِثْلُهَا ". قَالَ أُبَيٌّ: فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْيِ رَجَاءَ ذَلِكَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي؟ قَالَ: " كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتَتَحْتَ [[في جـ، ط: "فتحت".]] الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى [[في جـ: "إلى".]] آخِرِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ " [[الموطأ (١/٨٣) .]] . فَأَبُو سَعِيدٍ هَذَا لَيْسَ بِأَبِي سَعِيدِ بْنِ المُعَلّى، كَمَا اعْتَقَدَهُ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي جَامِعِ الْأُصُولِ وَمَنْ تَبِعَهُ [[جامع الأصول (٨/٤٦٦) .]] ، فَإِنَّ ابْنَ الْمُعَلَّى صَحَابِيٌّ أَنْصَارِيٌّ، وَهَذَا تَابِعِيٌّ مِنْ مَوَالِي خُزَاعَةَ، وَذَاكَ الْحَدِيثُ مُتَّصِلٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا ظَاهِرُهُ أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ، إِنْ لَمْ يَكُنْ سَمِعَهُ أَبُو سَعِيدٍ هَذَا مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَإِنْ كَانَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ فَهُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. عَلَى أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ كَمَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا عفَّان، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: " يَا أُبَيُّ "، فَالْتَفَتَ ثُمَّ لَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ قَالَ: أُبَيُّ، فَخَفِّفْ. ثُمَّ انصرف إلى رسول الل هـ ﷺ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أيْ رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ " [قَالَ] [[زيادة من جـ، والمسند.]] " مَا مَنَعَكَ أيْ أُبَيُّ إِذْ [[في جـ، ط: "أن".]] دَعَوْتُكَ أَنْ تُجِيبَنِي؟ ". قَالَ: أيْ رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: " أَوَلَسْتَ تَجِدُ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ [[في هـ، أ: "أوحي إلي" والمثبت من جـ، ط، و، والمسند.]] ﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [الْأَنْفَالِ: ٢٤] ". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَعُودُ، قَالَ: " أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تُنَزَّلْ لَا فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ [[في أ: "القرآن".]] مِثْلُهَا؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنِّي لِأَرْجُو أَلَّا أَخْرُجَ مِنْ هَذَا الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا " قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِيَدِي يُحَدِّثُنِي، وَأَنَا أَتَبَطَّأُ [[في جـ، أ: "أتباطأ".]] ، مَخَافَةَ أَنْ يَبْلُغَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْحَدِيثَ، فَلِمَا دَنَوْنَا مِنَ الْبَابِ قُلْتُ: أيْ رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي [[في جـ: "وعدتني بها".]] قَالَ: " مَا تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟ ". قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ أُمَّ الْقُرْآنِ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلَهَا؛ إِنَّهَا السَّبْعُ المثاني ". وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِي، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ [[بداية المخطوطة ب.]] أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَهُ [[المسند (٢/٤١٢، ٤١٣) وسنن الترمذي برقم (٢٨٧٨) .]] ، وَعِنْدَهُ: إِنَّهَا مِنَ السَّبْعِ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ الَّذِي أُعْطِيتُهُ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [الْإِمَامِ] [[زيادة من جـ، ط، أ.]] أَحْمَدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي مَعْمَر، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَذَكَرَهُ مُطَوَّلًا بِنَحْوِهِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ [[زوائد المسند (٥/١١٤) .]] . وَقَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَمَّارٍ حُسَيْنِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي "، هَذَا لَفْظُ النَّسَائِيِّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ غَرِيبٌ. وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ [[في أ: "اليزيد".]] حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم وقد أَهَرَاقَ الْمَاءَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ. قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَمْشِي، وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ رَحْلَهُ، وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ، فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا، فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقَدْ تَطَهَّرَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ [[في جـ، ط: "وعليك".]] السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بأَخْير سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " اقْرَأِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، حَتَّى تَخْتِمَهَا " [[المسند (٤/١٧٧) .]] . هَذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ، وَابْنُ عَقِيلٍ تَحْتَجُّ [[في ط: "يحتج".]] بِهِ الْأَئِمَّةُ الْكِبَارُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ هَذَا هُوَ الصَّحَابِيُّ، ذَكَرَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ أَنَّهُ هُوَ الْعَبْدِيُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَيُقَالُ: إِنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَيَاضِيُّ، فِيمَا ذَكَرَهُ الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ [[وهو الذي رجحه الحافظ ابن حجر في كتابه "تعجيل المنفعة" (ص ١٤٥) .]] . وَاسْتَدَلُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ وَأَمْثَالِهِ عَلَى تَفَاضُلِ بَعْضِ الْآيَاتِ وَالسُّوَرِ عَلَى بَعْضٍ، كَمَا هُوَ الْمَحْكِيُّ عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْعُلَمَاءِ، مِنْهُمْ: إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِيِّ، وَابْنُ الْحِصَارِ مِنَ الْمَالِكِيَّةِ. وَذَهَبَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى إِلَى أَنَّهُ لَا تَفَاضُلَ فِي ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْجَمِيعَ كَلَامُ اللَّهِ، وَلِئَلَّا يُوهِمَ التفضيل نقص الْمُفَضَّلِ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ الْجَمِيعُ فَاضِلًا نَقَلَهُ القُرطُبي عَنِ الْأَشْعَرِيِّ، وَأَبِي بَكْرٍ الْبَاقِلَّانِيِّ، وَأَبِي حَاتِمِ بْنِ حِبَّانِ الْبَسْتِيِّ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَرِوَايَةٌ عَنِ الْإِمَامِ مَالِكٍ [أَيْضًا] [[زيادة من جـ، ط، أ، و.]] . حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا فِي مَسِيرٍ لَنَا، فَنَزَلْنَا، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ، وَإِنَّ نَفَرَنَا غُيَّب، فَهَلْ مِنْكُمْ [[في جـ، ط: "معكم".]] رَاقٍ؟ فَقَامَ مَعَهَا رجل ما كنا نَأبِنُه برقية، فرقاه، فبرأ، فَأَمَرَ لَهُ بِثَلَاثِينَ شَاةً، وَسَقَانَا لَبَنًا، فَلَمَّا رَجَعَ [[في جـ: "رجعنا".]] قُلْنَا لَهُ: أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً، أَوْ كُنْتَ تَرْقِي؟ قَالَ: لَا مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، قُلْنَا: لَا تُحَدِّثُوا شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ، أَوْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ [[في طـ: "النبي".]] ﷺ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَاهُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: " وَمَا كَانَ يُدْريه أَنَّهَا رُقْيَةٌ، اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ ". وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِهَذَا. وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَبُو دَاوُدَ مِنْ رِوَايَةِ هِشَامٍ، وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، بِهِ [[صحيح البخاري برقم (٥٠٠٧) وصحيح مسلم برقم (٢٢٠١) .]] . وَفِي بَعْضِ رِوَايَاتِ مُسْلِمٍ لِهَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ هُوَ الَّذِي رَقَى ذَلِكَ السَّلِيمَ، يَعْنِي: اللَّدِيغَ يُسَمُّونَهُ بِذَلِكَ تَفَاؤُلًا. حَدِيثٌ آخَرُ: رَوَى مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ، وَالنَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ سَلَّامِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ، إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا فَوْقَهُ، فَرَفَعَ جِبْرِيلُ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ قَدْ فُتِحَ مِنَ السَّمَاءِ، مَا فُتِحَ قَطُّ. قَالَ: فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: أبشر بنورين قد أوتيتهما لم يؤتهما نبي قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَلَنْ تَقْرَأَ حَرْفًا مِنْهُمَا إِلَّا أُوتِيتَهُ. وَهَذَا لَفْظُ النَّسَائِيِّ. وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ حَدِيثٌ آخَرُ: قَالَ مُسْلِمٌ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، هُوَ ابْنُ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الحُرَقي [[في "أ": الحرمي".]] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا أُمَّ [[في جـ، ط، ب: "بأم".]] الْقُرْآنِ فَهِيَ خِداج -ثَلَاثًا-غَيْرُ تَمَامٍ ". فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٢] ، قَالَ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قال: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٣] ، قَالَ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٤] ، قَالَ [[في جـ، ط: "قال الله".]] مَجَّدَنِي عَبْدِي " -وَقَالَ مَرَّةً: " فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي -فَإِذَا قَالَ: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٥] ، قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ* صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ﴾ [الْفَاتِحَةِ: ٦، ٧] ، قَالَ [[في جـ، ط، ب: "آمين قال".]] هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ [[صحيح مسلم برقم (٣٩٥) وسنن النسائي الكبرى برقم (٨٠١٣) .]] . وَقَدْ رَوَيَاهُ -أَيْضًا-عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٣٩٥) وسنن النسائي (٢/١٣٥) .]] وَفِي هَذَا السِّيَاقِ: " فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ". وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ، وَقَدْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْج، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ هَكَذَا [[صحيح مسلم برقم (٣٩٥) .]] . وَرَوَاهُ -أَيْضًا-مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي السَّائِبِ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [[صحيح مسلم برقم (٣٩٥) .]] . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَة عَنْهُ فَقَالَ: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ، مَنْ قَالَ: عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ [[سنن الترمذي برقم (٢٩٥٣) .]] . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مُطَوَّلًا [[لم أقع عليه في المطبوع من المسند، وذكره الحافظ ابن حجر في أطراف المسند (١/٢٣٠) .]] . قَالَ [[في جـ، ط، ب: "وقال".]] ابْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَنْبسة بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُطَرَّف بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قال اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلَهُ مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ قَالَ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ قَالَ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي. ثُمَّ قَالَ: هَذَا لِي وَلَهُ مَا بقي " [[تفسير الطبري (١/٢٠١) ورواه ابن أبي حاتم في تفسيره (١/١٧) من طريق زيد بن الحباب به، وفي إسناده انقطاع، سعد بن إسحاق لم يسمع من جابر، وقد حاول الشيخ أحمد شاكر إثبات اتصاله في حاشيته على الطبري ولكن لا يسلم له بما قال، والله أعلم.]] وهذا غريب من هذا الوجه. ثُمَّ الْكَلَامُ عَلَى مَا يَتَعَلَّقُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِمَّا يَخْتَصُّ بِالْفَاتِحَةِ [[في جـ، ط، ب، أ، و: "مما يختص بحكم الفاتحة".]] مِنْ وُجُوهٍ: أَحَدُهَا: أَنَّهُ قَدْ أَطْلَقَ فِيهِ لَفْظَ الصَّلَاةِ، وَالْمُرَادُ الْقِرَاءَةُ كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ١١٠] ، أَيْ: بِقِرَاءَتِكَ كَمَا جَاءَ مُصَرَّحًا بِهِ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [[صحيح البخاري برقم (٧٤٩٠) وصحيح مسلم برقم (٤٤٦) .]] وَهَكَذَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " ثُمَّ بَيَّنَ تَفْصِيلَ هَذِهِ الْقِسْمَةِ فِي قِرَاءَةِ الفاتحة فَدَلَّ عَلَى عِظَمِ [[في جـ، ط، ب: "عظمة".]] الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَّهَا مِنْ أَكْبَرِ أَرْكَانِهَا، إِذْ أُطْلِقَتِ الْعِبَادَةُ وَأُرِيدَ بِهَا [[في جـ، ط، ب: "به".]] جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْهَا وَهُوَ الْقِرَاءَةُ؛ كَمَا أَطْلَقَ لَفْظَ الْقِرَاءَةِ وَالْمُرَادُ بِهِ الصَّلَاةُ فِي قَوْلِهِ: ﴿وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٧٨] ، وَالْمُرَادُ صَلَاةُ الْفَجْرِ، كَمَا جَاءَ مُصَرَّحًا بِهِ فِي الصَّحِيحَيْنِ: مِنْ أَنَّهُ يَشْهَدُهَا مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ، فَدَلَّ هَذَا كُلُّهُ عَلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ، وَهُوَ اتِّفَاقٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ. وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فِي مَسْأَلَةٍ نَذْكُرُهَا فِي الْوَجْهِ الثَّانِي، وَذَلِكَ أَنَّهُ هَلْ يَتَعَيَّنُ لِلْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ، أَمْ تُجْزِئُ هِيَ أَوْ غَيْرُهَا؟ عَلَى قَوْلَيْنِ مَشْهُورَيْنِ، فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمَنْ وَافَقَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهَا لَا تَتَعَيَّنُ، بَلْ مَهْمَا قَرَأَ بِهِ مِنَ الْقُرْآنِ أَجْزَأَهُ فِي الصَّلَاةِ، وَاحْتَجُّوا بِعُمُومِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [الْمُزَّمِّلِ: ٢٠] ، وَبِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ الْمُسِيءِ صَلَاتَهُ [[في جـ، ط: "المسيء في صلاته".]] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لَهُ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " [[صحيح البخاري برقم (٧٩٣) وصحيح مسلم برقم (٣٩٧) .]] قَالُوا: فَأَمَرَهُ بِقِرَاءَةِ مَا تَيَسَّرَ، وَلَمْ يُعَيِّنْ لَهُ الْفَاتِحَةَ وَلَا غَيْرَهَا، فَدَلَّ عَلَى مَا قُلْنَاهُ. وَالْقَوْلُ الثَّانِي: أَنَّهُ تَتَعَيَّنُ قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ فِي الصَّلَاةِ، وَلَا تُجْزِئُ الصَّلَاةُ بِدُونِهَا، وَهُوَ قَوْلُ بَقِيَّةِ الْأَئِمَّةِ: مَالِكٌ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَأَصْحَابُهُمْ وَجُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ؛ وَاحْتَجُّوا عَلَى ذَلِكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ الْمَذْكُورِ، حَيْثُ قَالَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاج " وَالْخِدَاجُ هُوَ: النَّاقِصُ كَمَا فسَّر بِهِ فِي الْحَدِيثِ: " غَيْرُ تَمَامٍ ". وَاحْتَجُّوا -أَيْضًا-بِمَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " [[صحيح البخاري برقم (٧٥٦) وصحيح مسلم برقم (٣٩٤) .]] . وَفِي صَحِيحِ ابْنِ خُزَيْمَةَ وَابْنِ حِبَّانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " [[صحيح ابن خزيمة برقم (٤٩٠) وصحيح ابن حبان برقم (٤٥٩) "موارد".]] وَالْأَحَادِيثُ فِي هَذَا الْبَابِ كَثِيرَةٌ، وَوَجْهُ الْمُنَاظَرَةِ هَاهُنَا يَطُولُ ذِكْرُهُ، وَقَدْ أَشَرْنَا إِلَى مَأْخَذِهِمْ فِي ذَلِكَ، رَحِمَهُمُ اللَّهُ. ثُمَّ إِنَّ مَذْهَبَ الشَّافِعِيِّ وَجَمَاعَةٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّهُ تَجِبُ قِرَاءَتُهَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ. وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا تَجِبُ قِرَاءَتُهَا فِي مُعْظَمِ الرَّكَعَاتِ، وَقَالَ الْحَسَنُ وَأَكْثَرُ الْبَصْرِيِّينَ: إِنَّمَا تجب قراءتها في ركعة واحدة من الصَّلَوَاتِ، أَخْذًا بِمُطْلَقِ الْحَدِيثِ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ". وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَصْحَابُهُ وَالثَّوْرِيُّ وَالْأَوْزَاعِيُّ: لَا تَتَعَيَّنُ [[في جـ، ط: "لا يتعين".]] قِرَاءَتُهَا، بَلْ لَوْ قَرَأَ بِغَيْرِهَا أَجْزَأَهُ لِقَوْلِهِ: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ [الْمُزَّمِّلِ: ٢٠] ، [كَمَا تَقَدَّمَ] [[زيادة من جـ، ط.]] وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدِ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا " [[سنن ابن ماجة برقم (٨٣٩) وقال البوصيري في الزوائد (١/٢٩١) : "هذا إسناد ضعيف، أبو سفيان السعدي واسمه طريف بن شهاب، وقيل: ابن سعد، قال ابن عبد البر: أجمعوا على ضعفه". وأبو سفيان قد توبع، تابعه قتادة، فرواه عن أبي نضرة عن أبي سعيد مرفوعا بلفظ: "أمرنا أن نقرأ بفاتحة الكتاب وما تيسر" أخرجه أبو داود في السنن برقم (٨١٨) .]] . وَفِي صِحَّةِ هَذَا نَظَرٌ، وَمُوَضِّحُ [[في جـ، ط: "وموضع".]] تَحْرِيرِ هَذَا كُلِّهِ فِي كِتَابِ الْأَحْكَامِ الْكَبِيرِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. الْوَجْهُ الثَّالِثُ: هَلْ تَجِبُ قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ عَلَى الْمَأْمُومِ؟ فِيهِ ثَلَاثَةُ أَقْوَالٍ لِلْعُلَمَاءِ: أَحَدُهَا: أَنَّهُ تَجِبُ عَلَيْهِ قِرَاءَتُهَا، كَمَا تَجِبُ عَلَى إِمَامِهِ؛ لِعُمُومِ الْأَحَادِيثِ الْمُتَقَدِّمَةِ. وَالثَّانِي: لَا تَجِبُ عَلَى الْمَأْمُومِ قِرَاءَةٌ بِالْكُلِّيَّةِ لَا الْفَاتِحَةُ وَلَا غَيْرُهَا، لَا فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ وَلَا السِّرِّيَّةِ، لِمَا رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي مُسْنَدِهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ " وَلَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ [[راه أحمد في المسند (٣/٣٣٩) وقد أطنب الإمام الزيلعي في الكلام على طرق هذا الحديث في كتابه "نصب الراية" (٢/٦-١٤) مما أغنى عن ذكره هاهنا.]] . وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ وَهَبِ بْنِ كَيْسَان، عَنْ جَابِرٍ مِنْ كَلَامِهِ [[راه البيهقي في السنن الكبرى (٢/١٦٠) من طريق مالك، وقال: "هذا هو الصحيح عن جابر من قوله: غير مرفوع".]] . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ طُرُقٍ، وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْهَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَالْقَوْلُ الثَّالِثُ: أَنَّهُ تَجِبُ الْقِرَاءَةُ عَلَى الْمَأْمُومِ فِي السِّرِّيَّةِ، لِمَا [[في جـ: "كما".]] تَقَدَّمَ، وَلَا تَجِبُ [[في جـ، ط، ب: "ولا تجب ذلك".]] فِي الْجَهْرِيَّةِ لِمَا ثَبَتَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ؛ فَإِذَا كبَّر فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ [[صحيح مسلم برقم (٤١٤) .]] . وَهَكَذَا رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ؛ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " [[سنن أبي داود برقم (٦٠٤) وسنن النسائي (٢/١٤١، ١٤٢) وسنن ابن ماجة برقم (٨٤٦) قال أبو داود: "وهذه الزيادة: "وإذا قرأ فأنصتوا" ليست بمحفوظة، الوهم عندنا من أبي خالد". وقد صحح هذه الزيادة مسلم في صحيحه، وتعقبه الدارقطني في التتبع (ص ٢٣٩) . وانظر جواب أبي مسعود الدمشقي في: حاشية التتبع، وللشيخ ناصر الألباني بحث حول هذه الزيادة في الإرواء (٢/١٢١) وهو حسن.]] . وَقَدْ صَحَّحَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَيْضًا، فَدَلَّ هَذَانِ الْحَدِيثَانِ عَلَى صِحَّةِ هَذَا الْقَوْلِ وَهُوَ قَوْلٌ قَدِيمٌ لِلشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، وَرِوَايَةٌ عَنِ الإمام أحمد بن حنبل [[في جـ: "أحمد".]] . وَالْغَرَضُ مِنْ ذِكْرِ هَذِهِ الْمَسَائِلِ هَاهُنَا بَيَانُ اخْتِصَاصِ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ بِأَحْكَامٍ لَا تَتَعَلَّقُ بِغَيْرِهَا مِنَ السُّوَرِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ الْبَزَّارُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ [[في جـ: "سعد".]] الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الجَوْني، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِذَا وَضَعْتَ جَنْبَكَ عَلَى الْفِرَاشِ، وَقَرَأْتَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ فَقَدْ أَمِنْتَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْمَوْتَ " [[مسند البزار برقم (٣١٠٩) "كشف الأستار" وفيه غسان بن عبيد، قال ابن عدي: "الضعف على أحاديثه بين".]] الْكَلَامُ عَلَى تَفْسِيرِ الِاسْتِعَاذَةِ [[في ط، أ: "الكلام على تفسير أحكام الاستعاذة، وفي جـ: "الكلام على تفسيرها".]] قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ * وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [الْأَعْرَافِ: ١٩٩، ٢٠٠] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ * وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ: ٩٦ -٩٨] وَقَالَ تَعَالَى: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ * وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [فُصِّلَتْ: ٣٤ -٣٦] . فَهَذِهِ ثَلَاثُ آيَاتٍ لَيْسَ لَهُنَّ رَابِعَةٌ فِي مَعْنَاهَا، وَهُوَ أَنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِمُصَانَعَةِ الْعَدُوِّ الْإِنْسِيِّ وَالْإِحْسَانِ إِلَيْهِ، لِيَرُدَّهُ عَنْهُ طبعُهُ الطَّيب الْأَصْلِ [[في جـ: "الأصيل".]] إِلَى الْمُوَادَّةِ [[في جـ، أ، ط: "الموالاة".]] وَالْمُصَافَاةِ، وَيَأْمُرُ بِالِاسْتِعَاذَةِ بِهِ مِنَ الْعَدُوِّ الشَّيْطَانِيِّ لَا مَحَالَةَ؛ إِذْ لَا يَقْبَلُ مُصَانَعَةً وَلَا إِحْسَانًا وَلَا يَبْتَغِي غَيْرَ هَلَاكِ ابْنِ آدَمَ، لِشِدَّةِ الْعَدَاوَةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ آدَمَ مِنْ قَبْلُ؛ كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٢٧] وَقَالَ: ﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ﴾ [فَاطِرٍ: ٦] وَقَالَ ﴿أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلا﴾ [الْكَهْفِ: ٥٠] ، وَقَدْ أَقْسَمَ لِلْوَالِدِ إِنَّهُ لَمِنَ النَّاصِحِينَ، وَكَذَبَ، فَكَيْفَ مُعَامَلَتُهُ لَنَا وَقَدْ قَالَ: ﴿فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ * إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ﴾ [ص: ٨٢، ٨٣] ، وَقَالَ [[في جـ، ط: "وقال الله".]] تَعَالَى: ﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ * إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ [النَّحْلِ: ٩٨، ٩٩] قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَ الْقُرَّاءِ وَغَيْرِهِمْ: نَتَعَوَّذُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ، وَاعْتَمَدُوا عَلَى ظَاهِرِ سِيَاقِ الْآيَةِ، وَلِدَفْعِ الْإِعْجَابِ بَعْدَ فَرَاغِ الْعِبَادَةِ؛ وَمِمَّنْ ذَهَبَ إِلَى ذَلِكَ حَمْزَةُ فِيمَا ذَكَرَهُ [[في جـ، ط: "فيما نقله".]] ابْنُ قَلُوقَا عَنْهُ، وَأَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ، حَكَى ذَلِكَ أَبُو الْقَاسِمِ يُوسُفُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ جُبارة الْهُذَلِيُّ الْمَغْرِبِيُّ فِي كِتَابِ " الْكَامِلِ ". وَرُوِي عَنْ أبي هريرة -أيضا-وهو غريب. [وَنَقْلَهُ فَخْرُ الدِّينِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الرَّازِيُّ [[في و: "الدينوري".]] فِي تَفْسِيرِهِ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَدَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيِّ الظَّاهِرِيِّ، وَحَكَى الْقُرْطُبِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْعَرَبِيِّ عَنِ الْمَجْمُوعَةِ عَنْ مَالِكٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، أَنَّ الْقَارِئَ يَتَعَوَّذُ بعد الفاتحة، واستغربه ابن العربي. وحكى قول ثالث وَهُوَ الِاسْتِعَاذَةُ أَوَّلًا وَآخِرًا جَمْعًا بَيْنَ الدَّلِيلَيْنِ نَقَلَهُ فَخْرُ الدِّينِ [[تفسير القرطبي (١/٨٨) .]] ] [[زيادة من ط، أ، و.]] . وَالْمَشْهُورُ الَّذِي عَلَيْهِ الْجُمْهُورُ أَنَّ الِاسْتِعَاذَةَ لِدَفْعِ الْوَسْوَاسِ فِيهَا، إِنَّمَا تَكُونُ قَبْلَ التِّلَاوَةِ، وَمَعْنَى الْآيَةِ عِنْدَهُمْ: ﴿فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [النَّحْلِ: ٩٨] أَيْ: إِذَا أَرَدْتَ الْقِرَاءَةَ كَقَوْلِهِ: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ﴾ الْآيَةَ [الْمَائِدَةِ: ٦] أَيْ: إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ الْأَحَادِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِذَلِكَ؛ قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ آتَشَ [[في جميع النسخ والمسند: "أنس" والصواب ما أثبتناه.]] حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم إذا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وكبَّر قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ". وَيَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا [[في جـ، ب، و: "ويقول: الله أكبر".]] اللَّهُ " ثَلَاثًا، ثُمَّ يَقُولُ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزه ونَفْخِه ونَفْثه ". وَقَدْ رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ الْأَرْبَعَةِ مِنْ رِوَايَةِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، وَهُوَ الرِّفَاعِيُّ [[المسند (٣/٥٠) وسنن أبي داود برقم (٧٧٥) وسنن الترمذي برقم (٢٤٢) وسنن النسائي (٢/١٣٢) وسنن ابن ماجة برقم (٨٠٤) .]] ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هُوَ أَشْهَرُ حَدِيثٍ فِي هَذَا الْبَابِ. وَقَدْ فسَر الْهَمْزَ بِالْمَوْتَةِ وَهِيَ الْخَنْقُ، والنَّفخ بِالْكِبْرِ، وَالنَّفْثَ بِالشِّعْرِ. كَمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرّة، عَنْ عَاصِمٍ العَنزيّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، ثَلَاثًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزه ونَفْخه ونفْثه ". قَالَ عَمْرٌو: وَهَمْزُهُ الْمَوْتَةُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ [[سنن أبي داود برقم (٧٦٤) وسنن ابن ماجه برقم (٨٠٧) ورواه ابن حبان في صحيحه برقم (٤٤٣) من طريق شعبة به.]] . وَقَالَ ابْنُ مَاجَهْ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضيل، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وهَمْزه وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ ". قَالَ: هَمْزُهُ: الْمَوْتَةُ، ونَفْثُه: الشِّعْرُ، ونفخه: الكِبْر [[سنن ابن ماجة برقم (٨٠٨) ورواه ابن خزيمة في صحيحه برقم (٤٧٢) من طريق محمد بن فضيل به، وقال البوصيري في الزوائد (١/٢٨٥) : "هذا إسناد ضعيف، عطاء بن السائب اختلط بآخره، وسمع منه محمد بن الفضيل بعد الاختلاط".]] . وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كبَّر ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ "، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَالَ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ [[المسند (٥/٢٥٣) .]] . وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى الْمَوْصِلِيُّ فِي مُسْنَدِهِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْبَرِيدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: تَلَاحَى رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَتَمزّع أَنْفُ أَحَدِهِمَا غَضَبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنِّي لِأَعْلَمُ شَيْئًا لَوْ قَالَهُ ذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ". وَكَذَا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيِّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ [[في أ: "الجعدية".]] ، بِهِ [[سنن النسائي الكبرى برقم (١٠٢٢٣) .]] . وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ زَائِدَةَ، وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ عَنْ بُنْدَار، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَالنَّسَائِيُّ -أَيْضًا-مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، ثَلَاثَتُهُمْ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: استَب رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى خُيّل إِلَيَّ أَنَّ أَحَدَهُمَا يَتَمزّع أَنْفُهُ مِنْ شِدَّةِ غَضَبِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " إِنِّي لِأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ مِنَ الْغَضَبِ " قَالَ: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ". قَالَ: فَجَعَلَ مُعَاذٌ يَأْمُرُهُ، فَأَبَى [وَمَحَكَ] [[زيادة من جـ، ب، أوأبي داود، وفي أ: و "ومحل".]] ، وَجَعَلَ يَزْدَادُ غَضَبًا. وَهَذَا لَفْظُ أَبِي دَاوُدَ [[المسند (٥/٢٤٤) وسنن أبي داود برقم (٤٧٨٠) وسنن الترمذي برقم (٣٤٥٢) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٢٢١، ١٠٢٢٢) .]] . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: مُرْسَلٌ، يَعْنِي أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَلْقَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ سَنَةِ عِشْرِينَ. قُلْتُ: وَقَدْ يَكُونُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَمِعَهُ مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، كَمَا تَقَدَّمَ وَبَلَّغَهُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، فَإِنَّ هَذِهِ الْقِصَّةَ شَهِدَهَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَد: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ، فَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مغضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " إِنِّي لِأَعْلَمُ كَلِمَةً لو قالها لذهب عنه ما يجد، لَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ [[في جـ، ط: "النبي".]] ﷺ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ [[صحيح البخاري برقم (٦١١٥) .]] . وَقَدْ رَوَاهُ -أَيْضًا-مَعَ مُسْلِمٍ، وَأَبِي دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيِّ، مِنْ طُرُقٍ مُتَعَدِّدَةٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهِ [[صحيح مسلم برقم (٢٦١٠) وسنن أبي داود برقم (٤٧٨١) وسنن النسائي الكبرى برقم (١٠٢٢٤، ١٠٢٢٥) .]] . وَقَدْ جَاءَ فِي الِاسْتِعَاذَةِ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ يَطُولُ ذِكْرُهَا هَاهُنَا، وَمَوْطِنُهَا كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَفَضَائِلِ الْأَعْمَالِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَوَّلَ مَا نَزَلَ بِالْقُرْآنِ على رسول الله صلى الله عليه وسلم أَمَرَهُ بِالِاسْتِعَاذَةِ، كَمَا قَالَ الْإِمَامُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ جَرِيرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عِمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَوَّلُ مَا نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اسْتَعِذْ. قَالَ: " أَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " ثُمَّ قَالَ: قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. ثُمَّ قَالَ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَهِيَ أَوَّلُ سُورَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ، بِلِسَانِ جِبْرِيلَ [[تفسير الطبري (١/١١٣) .]] . وَهَذَا الْأَثَرُ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا ذَكَرْنَاهُ لِيُعْرَفَ، فَإِنَّ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفًا وَانْقِطَاعًا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. مَسْأَلَةٌ: وَجُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّ الِاسْتِعَاذَةَ مُسْتَحَبَّةٌ لَيْسَتْ بِمُتَحَتِّمَةٍ يَأْثَمُ تَارِكُهَا، وَحَكَى فَخْرُ الدِّينِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وُجُوبَهَا فِي الصَّلَاةِ وَخَارِجِهَا كُلَّمَا أَرَادَ الْقِرَاءَةَ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: إِذَا تَعَوَّذَ مَرَّةً وَاحِدَةً فِي عُمْرِهِ فَقَدْ كَفَى فِي إِسْقَاطِ الْوُجُوبِ، وَاحْتَجَّ فَخْرُ الدِّينِ لِعَطَاءٍ بِظَاهِرِ الْآيَةِ: ﴿فَاسْتَعِذْ﴾ وَهُوَ أَمْرٌ ظَاهِرُهُ الْوُجُوبُ وَبِمُوَاظَبَةِ النَّبِيِّ ﷺ عَلَيْهَا، وَلِأَنَّهَا تَدْرَأُ شَرَّ الشَّيْطَانِ وَمَا لَا يَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِهِ فَهُوَ وَاجِبٌ، وَلِأَنَّ الِاسْتِعَاذَةَ أَحْوَطُ وَهُوَ أَحَدُ مَسَالِكِ الْوُجُوبِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: كَانَتْ وَاجِبَةٌ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ دُونَ أُمَّتِهِ، وَحُكِيَ عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ لَا يَتَعَوَّذُ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَيَتَعَوَّذُ لِقِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْهُ. مَسْأَلَةٌ: وقال الشافعي في الإملاء، يجهر بالتعوذ، وَإِنْ أَسَرَّ فَلَا يَضُرُّ، وَقَالَ فِي الْأُمِّ بِالتَّخْيِيرِ لِأَنَّهُ أَسَرَّ ابْنُ عُمَرَ وَجَهَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَاخْتَلَفَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِيمَا عَدَا الرَّكْعَةِ الْأُولَى: هَلْ يُسْتَحَبُّ التَّعَوُّذُ فِيهَا؟ عَلَى قَوْلَيْنِ، وَرَجَّحَ عَدَمَ الِاسْتِحْبَابِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. فَإِذَا قَالَ الْمُسْتَعِيذُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ كَفَى ذَلِكَ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَأَبِي حَنِيفَةَ وَزَادَ [[في أ: "وقرأ".]] بَعْضُهُمْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ، وَقَالَ آخَرُونَ: بَلْ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، قَالَهُ الثَّوْرِيُّ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَحُكِيَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ يَقُولُ: أَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ لِمُطَابَقَةِ أَمْرِ الْآيَةِ وَلِحَدِيثِ الضَّحَّاكِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْمَذْكُورِ، وَالْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ، كَمَا تَقَدَّمَ، أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ مِنْ هَذَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. مَسْأَلَةٌ: ثُمَّ الِاسْتِعَاذَةُ فِي الصَّلَاةِ إِنَّمَا هِيَ لِلتِّلَاوَةِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ. وقال أبو يوسف: بَلْ لِلصَّلَاةِ، فَعَلَى هَذَا يَتَعَوَّذُ الْمَأْمُومُ وَإِنْ كَانَ لَا يَقْرَأُ، وَيَتَعَوَّذُ فِي الْعِيدِ بَعْدَ الْإِحْرَامِ وَقَبْلَ تَكْبِيرَاتِ الْعِيدِ، وَالْجُمْهُورُ بَعْدَهَا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ. وَمِنْ لَطَائِفِ الِاسْتِعَاذَةِ أَنَّهَا طَهَارَةٌ لِلْفَمِ مِمَّا كَانَ يَتَعَاطَاهُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَتَطْيِيبٌ لَهُ وَتَهَيُّؤٌ لِتِلَاوَةِ كَلَامِ اللَّهِ وَهِيَ اسْتِعَانَةٌ بِاللَّهِ وَاعْتِرَافٌ لَهُ بِالْقُدْرَةِ وَلِلْعَبْدِ بِالضَّعْفِ وَالْعَجْزِ عَنْ مُقَاوَمَةِ هَذَا الْعَدُوِّ الْمُبِينِ الْبَاطِنِيِّ الَّذِي لَا يَقْدِرُ عَلَى مَنْعِهِ وَدَفْعِهِ إِلَّا اللَّهُ الَّذِي خَلَقَهُ، وَلَا يَقْبَلُ مُصَانَعَةً، وَلَا يُدَارَى بِالْإِحْسَانِ، بِخِلَافِ الْعَدُوِّ مِنْ نَوْعِ الْإِنْسَانِ كَمَا دَلَّتْ عَلَى ذَلِكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ فِي ثَلَاثٍ مِنَ الْمَثَانِي، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلا﴾ [الْإِسْرَاءِ: ٦٥] ، وَقَدْ نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ لِمُقَاتَلَةِ الْعَدُوِّ الْبَشَرِيِّ يَوْمَ بَدْرٍ، وَمَنْ قَتَلَهُ الْعَدُوُّ الْبَشَرِيُّ كَانَ شَهِيدًا، وَمِنْ قَتَلَهُ الْعَدُوُّ الْبَاطِنِيُّ كَانَ طرِيدًا، وَمَنْ غَلَبَهُ الْعَدُوُّ الظَّاهِرُ كَانَ مَأْجُورًا، وَمَنْ قَهَرَهُ الْعَدُوُّ الْبَاطِنُ كَانَ مَفْتُونًا أَوْ مَوْزُورًا، وَلَمَّا كَانَ الشَّيْطَانُ يَرَى الْإِنْسَانَ مِنْ حَيْثُ لَا يَرَاهُ اسْتَعَاذَ مِنْهُ بِالَّذِي يَرَاهُ وَلَا يَرَاهُ الشيطان. فصل: والاستعاذة هِيَ الِالْتِجَاءُ إِلَى اللَّهِ وَالِالْتِصَاقُ بِجَنَابِهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ، وَالْعِيَاذَةُ تَكُونُ لِدَفْعِ الشَّرِّ، وَاللِّيَاذُ يَكُونُ لِطَلَبِ جَلْبِ الْخَيْرِ كَمَا قَالَ الْمُتَنَبِّي: يَا مَنْ أَلُوذُ بِهِ فِيمَا أُؤَمِّلُهُ ... وَمَنْ أَعُوذُ بِهِ مِمَّنْ أُحَاذِرُهُ لَا يَجْبُرُ النَّاسُ عَظْمًا أَنْتَ كَاسِرُهُ ... وَلَا يَهِيضُونَ عَظْمًا أَنْتَ جَابِرُهُ [[ذكر البيتين الحافظ ابن كثير في البداية والنهاية (١١/٢٧٥) وقال: "وقد بلغني عن شيخنا العلامة شيخ الإسلام أحمد بن تيمية -رحمه الله- أنه كان ينكر على المتنبي هذه المبالغة في مخلوق ويقول: إنما يصلح هذا لجناب الله -سبحانه وتعالى- وأخبرني العلامة شمس الدين ابن القيم -رحمه الله- أنه سمع الشيخ تقي الدين المذكور يقول: ربما قلت هذين البيتين في السجود أدعو الله بما تضمناه من الذل والخضوع".]] فَصْلٌ مَعْنَى الِاسْتِعَاذَةِ وَمَعْنَى أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، أَيْ: أَسْتَجِيرُ بِجَنَابِ اللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ أَنْ يَضُرَّنِي فِي دِينِي أَوْ دُنْيَايَ، أَوْ يَصُدَّنِي عَنْ فِعْلِ مَا أُمِرْتُ بِهِ، أَوْ يَحُثَّنِي عَلَى فِعْلِ مَا نُهِيتُ عَنْهُ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يكفُّه عَنِ الْإِنْسَانِ إِلَّا اللَّهُ؛ وَلِهَذَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِمُصَانَعَةِ شَيْطَانِ الْإِنْسِ وَمُدَارَاتِهِ [[في جـ: "بمداراته".]] بِإِسْدَاءِ الْجَمِيلِ إِلَيْهِ، لِيَرُدَّهُ طَبْعُهُ عمَّا هُوَ فِيهِ مِنَ الْأَذَى، وَأَمَرَ بِالِاسْتِعَاذَةِ بِهِ مِنْ شَيْطَانِ الْجِنِّ لِأَنَّهُ لَا يَقْبَلُ رَشْوَةً وَلَا يُؤَثِّرُ فِيهِ جَمِيلٌ؛ لِأَنَّهُ شِرِّيرٌ بِالطَّبْعِ وَلَا يَكُفُّهُ عَنْكَ إِلَّا الَّذِي خَلَقَهُ، وَهَذَا الْمَعْنَى فِي ثَلَاثِ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَا أَعْلَمُ لَهُنَّ رَابِعَةً، قَوْلُهُ فِي الْأَعْرَافِ: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِين﴾ [الْأَعْرَافِ: ١٩٩] ، فَهَذَا فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِمُعَامَلَةِ الْأَعْدَاءِ مِنَ الْبَشَرِ، ثُمَّ قَالَ: ﴿وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [الْأَعْرَافِ: ٢٠٠] ، وَقَالَ تَعَالَى فِي سُورَةِ " قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ": ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ * وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ﴾ [الْمُؤْمِنُونَ: ٩٦ -٩٨] ، وَقَالَ تَعَالَى فِي سُورَةِ " حم السَّجْدَةِ ": ﴿وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ * وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ * وَإِمَّا يَنزغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نزغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [فُصِّلَتْ: ٣٤ -٣٦] . والشيطان فِي لُغَةِ الْعَرَبِ مُشْتَقٌّ مِنْ شَطَن إِذَا بَعُدَ، فَهُوَ بَعِيدٌ بِطَبْعِهِ عَنْ طِبَاعِ الْبَشَرِ، وَبَعِيدٌ بِفِسْقِهِ عَنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَقِيلَ: مُشْتَقٌّ مِنْ شَاطَ لِأَنَّهُ مَخْلُوقٌ مِنْ نَارٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: كِلَاهُمَا صَحِيحٌ فِي الْمَعْنَى، وَلَكِنَّ الْأَوَّلَ أَصَحُّ، وَعَلَيْهِ يَدُلُّ كَلَامُ الْعَرَبِ؛ قَالَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ فِي ذِكْرِ مَا أُوتِيَ سُلَيْمَانُ، عَلَيْهِ [[في جـ، ب: "عليه الصلاة والسلام".]] السَّلَامُ: أَيُّمَا شاطِنٍ عَصَاهُ عَكَاهُ ... ثُمَّ يُلْقى فِي السِّجْن وَالْأَغْلَالِ [[البيت في تفسير الطبري (١/١١٢) واللسان، مادة "عكا" ومادة "شطن".]] فَقَالَ: أَيُّمَا شَاطِنٍ، وَلَمْ يَقُلْ: أَيُّمَا شَائِطٍ. وَقَالَ النَّابِغَةُ الذُّبْيَانِيُّ -وَهُوَ: زِيَادُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ ضَبَابِ بْنِ يَرْبُوعَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ ذُبْيان-: نَأَتْ بِسُعَادٍ عَنْكَ نَوًى شَطُونُ ... فَبَانَتْ والفؤادُ بِهَا رَهِينُ [[البيت في تفسير الطبري (١/١١٢) .]] يَقُولُ: بَعُدَتْ بِهَا طَرِيقٌ بَعِيدَةٌ. [وَقَالَ سِيبَوَيْهِ: الْعَرَبُ تَقُولُ: تَشَيْطَنَ فُلَانٌ إِذَا فَعَل فِعْل الشَّيْطَانِ وَلَوْ كَانَ مِنْ شَاطَ لَقَالُوا: تَشَيَّطَ] [[زيادة من جـ، ط.]] . وَالشَّيْطَانُ [[في جـ، ط، ب: "فالشيطان".]] مُشْتَقٌّ مِنَ الْبُعْدِ عَلَى [[في جـ، ط: "وهو".]] الصَّحِيحِ؛ وَلِهَذَا يُسَمُّونَ كُلَّ مَا [[في جـ، ط، ب: "من".]] تَمَرَّدَ مِنْ جِنِّيٍّ وَإِنْسِيٍّ وَحَيَوَانٍ شَيْطَانًا، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الإنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا﴾ [الْأَنْعَامِ: ١١٢] . وَفِي مُسْنَدِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ "، فقلت: أو للإنس شَيَاطِينُ؟ قَالَ: " نَعَمْ " [[المسند (٥/١٧٨) .]] . وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ -أَيْضًا-قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ وَالْأَصْفَرِ [[في جـ، ط، ب، أ، و: "من الأصفر".]] فَقَالَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " [[رواه الطبري في تفسيره (١/١١١) .]] . وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَكِبَ برْذونًا، فَجَعَلَ يتبخْتر به، فجعل لا يَضْرِبُهُ فَلَا يَزْدَادُ إِلَّا تَبَخْتُرًا، فَنَزَلَ عَنْهُ، وَقَالَ: مَا حَمَلْتُمُونِي [[في ب: "ما حملتمون".]] إِلَّا عَلَى شَيْطَانٍ، مَا نَزَلْتُ عَنْهُ حَتَّى أَنْكَرْتُ نَفْسِي. إِسْنَادُهُ [[في ط، ب، أ، و: "إسناد".]] صَحِيحٌ [[رواه الطبري في تفسيره (١/١١١) .]] . والرّجيم: فَعِيلٌ بِمَعْنَى مَفْعُولٍ، أَيْ: أَنَّهُ مَرْجُومٌ مَطْرُودٌ عَنِ الْخَيْرِ كُلِّهِ، كَمَا قَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ﴾ [الْمُلْكِ: ٥] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ * وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ * لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلإ الأعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ * دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ * إِلا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴾ [الصَّافَّاتِ: ٦ -١٠] ، وَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ * وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ * إِلا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ﴾ [الْحِجْرِ: ١٦ -١٨] ، إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الْآيَاتِ. [وَقِيلَ: رَجِيمٌ بِمَعْنَى رَاجِمٍ؛ لِأَنَّهُ يَرْجُمُ النَّاسَ بِالْوَسَاوِسِ وَالرَّبَائِثِ وَالْأَوَّلُ أَشْهَرُ] [[زيادة من جـ، ط، أ، و.]] . [[اختُصِرَ كلام المؤلف لشدة طوله]]
ہر عبارت اسی کتاب کی اپنی ہے، بعینہٖ، اپنے حوالے کے ساتھ۔ یہ صفحہ نہ ان کا خلاصہ بناتا ہے، نہ انہیں ملاتا ہے، اور نہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مفسرین آپس میں متفق ہیں یا مختلف — یہ پرکھ پڑھنے والے اور اہلِ علم کی ہے۔