اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راه پر ایک گروه کر دیتا۔ وه تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے
آدابِ اختلاف
اختلاف کیسے کیا جائے کہ جدائی نہ ہو — قرآن و سنت علم، نرمی اور بھائی چارے کو سلامت رکھتے ہوئے اختلاف کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں۔
1.اختلاف انسانی فطرت کا حصہ ہے
لوگ اختلاف کرتے رہیں گے۔ نصوص میں ملامت خلوص کے اختلاف پر نہیں بلکہ فرقہ بندی اور اختلاف کے دشمنی میں بدل جانے پر ہے۔
بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اسی لئے پیدا کیا ہے، اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا
اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروه بنا دیتا لیکن وه جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے
الاختلاف الخامس عشر إلى الاختلاف السادس والعشرين
الاختلاف السادس والأربعون إلى الاختلاف الحادي والخمسون
2.بہترین انداز میں بحث کرو
”اُن سے بہترین انداز میں بحث کرو۔“ نبی ﷺ نے جنت میں گھر کی ضمانت دی اُس کے لیے جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے۔
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے
اور اہل کتاب کے ساتھ بحﺚ ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمده ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ﻇالم ہیں اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جو ہم پر اتاری گئی ہے اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی، ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست
3.نرم بات اور نرم پہلو
فرعون تک سے موسیٰ و ہارون کو کہا گیا: ”اُس سے نرم بات کہو۔“ نرمی جس چیز میں ہو اُسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔
اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وه سمجھ لے یا ڈر جائے
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مقدام بن شریح بن بانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے ۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رفیق ہے، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے، اور اس پر وہ دیتا ہے، جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎ ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔
529 حديث ( الرفق راس الحكمة ) في ان الرفق
4.درست ہونے سے بڑھ کر بھائی چارہ
”مومن تو بھائی بھائی ہیں۔“ سب مل کر اللہ کی رسی تھامو اور تفرقہ نہ کرو؛ جو اختلاف بھائی چارہ کھو دے وہ پہلے ہی ہار گیا۔
(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے ۱؎۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ( کسی ظالم کے ) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا۔“
سالم نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے ( ظالموں کے ) سپرد کرتا ہے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ جو کسی مسلمان سے اس کی ایک تکلیف دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرتا ہے ۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس ( کے عیبوں ) کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
5.معاملہ قرآن و سنت کی طرف لوٹاؤ
”اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔“ فیصلے کا مرکز یہ نہیں کہ کون زور سے بولتا ہے بلکہ کتاب و سنت ہے۔
اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔
آپ سے پہلے بھی ہم مَردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو
6.بےجا تکفیر و تفسیق کا خطرہ
جو تمہیں سلام پیش کرے اُسے یہ نہ کہو ”تم مومن نہیں۔“ نبی ﷺ نے خبردار کیا کہ کسی بھائی کو کافر کہنا دونوں میں سے ایک پر لوٹتا ہے — یہ بےجا تکفیر سے تنبیہ ہے، اُس کی اجازت نہیں۔
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راه میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان واﻻ نہیں۔ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا لہٰذا تم ضرور تحقیق وتفتیش کر لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔
نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کو کافر قرار دے تو دونوں میں سے ایک ( ضرور ) کفر کے ساتھ واپس لوٹے گا
7.مخالف سے حسنِ ظن
”بہت سے گمانوں سے بچو۔“ جب مومنوں نے افواہ سنی تو اُن پر ملامت ہوئی کہ اپنوں سے اچھا گمان کیوں نہ رکھا — مخالف بھی اسی حسنِ ظن کا حقدار ہے۔
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے
اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو ۔
narrated abu huraira:the prophet (ﷺ) said, "beware of suspicion (about others), as suspicion is the falsest talk, and do not spy upon each other, and do not listen to the evil talk of the people about others' affairs, and do not have enmity with one another, but be brothers. and none should ask for the hand of a girl who is already engaged to his (muslim) brother, but one should wait till the first suitor marries her or leaves her
فإن حسن الظن بالمسلمين أهل الدين واجب، والتأويل لهم ما أمكن ضربة لازب، فالداخلون إلى الحرم الشريف، والمشاهدون لتلك الأبنية الشيطانية التي فرقت شمل1 الدين، وشتتت صلوات المسلمين معذورون عن الإنكار إلا بالقلب، كالمارين على المكاسين وعلى القبوريين.
8.علماء نے کیسے اختلاف کیا
”دین خیرخواہی کا نام ہے۔“ ائمہ نے بےشمار مسائل میں اختلاف کیا مگر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھی اور ایک دوسرے کی تعریف کی — فروع کا اختلاف کبھی اُن کے احترام کو نہ توڑ سکا۔
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
محمد بن عباد مکی، سفیان، سہیل، عطاء بن برید، تمیم داری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دین خیر خواہی کا نام ہے، ہم نے عرض کیا کس چیز کی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے ائمہ کی اور تمام مسلمانوں کی۔
9.بنیادوں پر اتحاد
اللہ کے ہاں دین اسلام ہے، مشترک بنیادوں پر قائم۔ مومن ایک عمارت ہیں جو ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں — اصولوں پر مضبوط، اور جہاں اختلاف کی گنجائش ہو وہاں فراخ دل۔
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے واﻻ ہے
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کردیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جو (بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دی ہے، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دیا تھا، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وه تو (ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیده بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وه اس کی صحیح ره نمائی کرتا ہے
في الأصول والفروع
ادب و منہج
یہ صفحہ اِس بارے میں ہے کہ ہم کیسے اختلاف کریں، یہ نہیں کہ کسی خاص جھگڑے میں کون حق پر ہے — یہ علماء کے اختلافات میں کوئی فریق نہیں بنتا۔ اِس کا مقصد باطنی ہے: قاری کو ایک انداز تھمانا، ہتھیار نہیں۔ اگر اِسے بحثیں جیتنے کے لیے استعمال کیا جائے بجائے اِس کے کہ اپنے موقف کو نرمی سے تھامنے کے لیے، تو یہ اُلٹا کر دیا گیا۔