- رسالہ نمبر (معیاری)
- 21611
- قرطبہ نمبر
- 21651
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 5، صفحہ 185
مسند (صحابی کا باب): حديث أبي ذر رضي الله عنه(مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا إسحاق بن سليمان قال سمعت أبا سنان يحدث عن وهب بن خالد الحمصي عن بن الديلمي قال وقع في نفسي شيء من القدر فأتيت زيد بن ثابت فسألته فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لو أن الله عذب أهل سماواته وأهل أرضه لعذبهم غير ظالم لهم ولو رحمهم كانت رحمته لهم خيرا من أعمالهم ولو كان لك جبل أحد أو مثل جبل أحد ذهبا أنفقته في سبيل الله ما قبله الله منك حتى تؤمن بالقدر وتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وأن ما أخطأك لم يكن ليصيبك وإنك إن مت على غير هذا دخلت النار
اردو ترجمہ
حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات
ابن دیلمی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابی بن کعب (رض) سے ملاقات کے لیے گیا اور عرض کیا کہ اے ابوالمنذر ؟ میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ وسوسے پیدار ہے ہیں آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کی برکت سے میرے دل سے یہ وسوسے دور ہوجائیں انھوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کردیں تو اللہ تعالیٰ پھر بھی ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے اور اگر ان پر رحم کردیں تو یہ رحمت ان کے اعمال سے بڑھ کر ہوگی اور اگر تم اللہ کے راستہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردو گے تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک تم تقدیر پر کامل ایمان نہ لے آؤ اور یہ یقین نہ کرلو کہ تمہیں جو چیز پیش آئی ہے وہ تم سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو چیز تم سے چوک گئی ہے وہ تم پر آ نہیں سکتی تھی، اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر ہوئی تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
إسناده قوي
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔