مسند احمد 21589

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
21589
قرطبہ نمبر
21629
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 5، صفحہ 182

مسند (صحابی کا باب): حديث أبي ذر رضي الله عنه(مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا يحيى بن سعيد ثنا سفيان ثنا أبو سنان سعيد بن سنان ثنا وهب بن خالد عن بن الديلمي قال : لقيت أبي بن كعب فقلت يا أبا المنذر انه قد وقع في نفسي شيء من هذا القدر فحدثني بشيء لعله يذهب من قلبي قال لو أن الله عذب أهل سمواته وأهل أرضه لعذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم كانت رحمته لهم خيرا من أعمالهم ولو أنفقت جبل أحد ذهبا في سبيل الله عز وجل ما قبله الله منك حتى تؤمن بالقدر وتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وما أخطأك لم يكن ليصيبك ولو مت على غير ذلك لدخلت النار قال فأتيت حذيفة فقال لي مثل ذلك وأتيت بن مسعود فقال لي مثل ذلك وأتيت زيد بن ثابت فحدثني عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك

اردو ترجمہ

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

ابن دیلمی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابی بن کعب (رض) سے ملاقات کے لیے گیا اور عرض کیا کہ اے ابوالمنذر ؟ میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ وسوسے پیدار ہو رہے ہیں آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کی برکت سے میرے دل سے یہ وسوسے دور ہوجائیں انھوں نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کردیں تو اللہ تعالیٰ پھر بھی ان پر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے اور اگر ان پر رحم کردیں تو یہ رحمت ان کے اعمال سے بڑھ کر ہوگی اور اگر تم اللہ کے راستہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردو گے تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک تم تقدیر پر کامل ایمان نہ لے آؤ اور یہ یقین نہ کرلو کہ تمہیں جو چیز پیش آئی ہے وہ تم سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو چیز تم سے چوک گئی ہے وہ تم پر آ نہیں سکتی تھی، اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر ہوئی تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔ پھر میں حضرت حذیفہ (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا۔ پھر میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا۔ پھر میں حضرت زید بن ثابت کے پاس آیا تو انھوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کیا۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده قوي

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 1 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. ثنا
  7. ثنا
  8. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں

3 ہم الفاظ · 0 جزوی · 4 متون کا گروہ

یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔

وہی روایت (الفاظ ملتے ہیں)