مسند احمد 21612

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
21612
قرطبہ نمبر
21652
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 5، صفحہ 185

مسند (صحابی کا باب): حديث أبي ذر رضي الله عنه(مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا حسن بن موسى ثنا بن لهيعة ثنا عبد الله بن هبيرة قال سمعت قبيصة بن ذؤيب يقول إن عائشة أخبرت آل الزبير : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى عندها ركعتين بعد العصر فكانوا يصلونها قال قبيصة فقال زيد بن ثابت يغفر الله لعائشة نحن أعلم برسول الله صلى الله عليه وسلم من عائشة إنما كان ذلك لأن أناسا من الأعراب أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بهجير فقعدوا يسألونه ويفتيهم حتى صلى الظهر ولم يصل ركعتين ثم قعد يفتيهم حتى صلى العصر فانصرف إلى بيته فذكر أنه لم يصل بعد الظهر شيئا فصلاهما بعد العصر يغفر الله لعائشة نحن أعلم برسول الله صلى الله عليه وسلم من عائشة نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بعد العصر

اردو ترجمہ

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے آل زبیر کو بتایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے یہاں عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں (نفل کے طور پر) پڑھی ہیں، چنانچہ وہ لوگ بھی یہ دو رکعتیں پڑھنے لگے حضرت زید بن ثابت (رض) کو معلوم ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ (رض) کی بخشش فرمائے، حضرت عائشہ (رض) کی نسبت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم لوگ زیادہ جانتے ہیں دراصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ کچھ دیہاتی لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دوپہر کے وقت آئے اور سوالات کرنے بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں جوابات دیتے رہے پھر ظہر کی نماز پڑھی اور بعد کی دو سنتیں نہیں پڑھیں اور انھیں مسائل بتانے لگے یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا نماز پڑھ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر چلے گئے اس وقت یاد آیا کہ انھوں نے تو ابھی تک ظہر کے بعد کی سنتیں نہیں پڑھیں چنانچہ وہ دو رکعتیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد پڑھی تھیں اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ (رض) کی مغفرت فرمائے حضرت عائشہ (رض) کی نسبت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم لوگ زیادہ جانتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز عصر کے بعد نوافل سے منع فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (90٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَقُولُ إِنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهَا قَالَ قَبِيصَةُ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَائِشَةَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

6 راوی · 3 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. ثنا
  7. سمعت
  8. نبی کریم ﷺ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔