مسند احمد 21590

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
21590
قرطبہ نمبر
21630
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 5، صفحہ 182

مسند (صحابی کا باب): حديث أبي ذر رضي الله عنه(مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا يحيى بن سعيد ثنا شعبة ثنا عمر بن سليمان من ولد عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن عبد الرحمن بن أبان بن عثمان عن أبيه أن زيد بن ثابت خرج من عند مروان نحوا من نصف النهار فقلنا ما بعث إليه الساعة إلا لشيء سأله عنه فقمت إليه فسألته فقال أجل سألنا عن أشياء سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : نضر الله أمرأ سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره فإنه رب حامل فقه ليس بفقيه ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ثلاث خصال لا يغل عليهن قلب مسلم أبدا إخلاص العمل لله ومناصحة ولاة الأمر ولزوم الجماعة فإن دعوتهم تحيط من ورائهم وقال من كان همه الآخرة جمع الله شمله وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت نيته الدنيا فرق الله عليه ضيعته وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له وسألنا عن الصلاة الوسطى وهى الظهر

اردو ترجمہ

حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

ابان بن عثمان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت (رض) نصف النہار کے وقت مروان کے پاس سے نکلے ہم آپس میں کہنے لگے کہ مروان نے اس وقت اگر انھیں بلایا ہے تو یقیناً کچھ پوچھنے کے لیے ہی بلایا ہوگا، چنانچہ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال پوچھا تو انھوں نے فرمایا ہاں ! اس نے مجھ سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا تھا جو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہیں، میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو ہم سے کوئی حدیث سنے اسے یاد کرے اور آگے تک پہنچا دے کیونکہ بہت سے لوگ " جو فقہ کی بات اٹھائے ہوتے ہیں " خود فقیہ نہیں ہوتے، البتہ ایسے لوگوں تک بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہہ اور سمجھدار ہوتے ہیں۔ اور فرمایا جس شخص کا غم ہی آخرت ہو اللہ اس کے متفرقات کو جمع کردیتا ہے اور اس کے دل کو غنی کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر خود ہی آجاتی ہے اور جس شخص کا مقصد ہی دنیا ہو اللہ اس کے معاملات کو متقرق کردیتا ہے اس کی تنگدستی کو اس کی آنکھوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور دنیا پھر بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہوتی ہے۔ اور ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلوٰۃ وسطیٰ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز ظہر ہے۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده صحيح

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 1 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. ثنا
  7. عن
  8. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں

0 ہم الفاظ · 2 جزوی

یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔