لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے
کسبِ حلال
پیسہ کہاں سے آتا ہے یہ طے کرتا ہے کہ اُس پر کھڑی عبادت قبول ہوگی یا نہیں۔ قرآن و سنت کمانے، خرچ کرنے، اور رازق پر بھروسے کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں۔
1.حلال کی طلب بذاتِ خود عبادت
”زمین کی حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔“ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ پاک ہے اور صرف پاک کو قبول کرتا ہے؛ اور کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا۔
پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو
وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ثور نے خبر دی، انہیں خالد بن معدان نے اور انہیں مقدام رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔
بے شک اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول کرتا ہے، اور بے شک اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا جو رسولوں کو دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ بال اور غبار آلود، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے: اے رب! اے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی غذا حرام ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا ک ہے اور پا ک ( مال ) کے سوا ( کو ئی ما ل ) قبو ل نہیں کرتا اللہ نے مو منوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : " اے پیغمبران کرام! پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے مومنو!جو پا ک رزق ہم نے تمھیں عنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا : " جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے ۔ ( دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے اے میرے رب اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام کا ہے اس کا پینا خرا م کا ہے اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے تو اس کی دعا کہا ں سے قبو ل ہو گی ۔)
4 باب في الكسب الطيب
طلب الحلال جهاد وقد روى القضاعي عن ابن عباس ، وأبو نعيم في الحلية : طلب الحلال جهاد ، وروى الطبراني عن ابن مسعود طلب الحلال فريضة.
2.پاکیزہ چیزیں کھاؤ
اللہ نے رسولوں اور مومنوں دونوں کو حکم دیا: پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو — گویا پاک کھانا اور نیک عمل ساتھ اٹھتے ہیں۔ جو گوشت حرام سے بنے، آگ اُس کی زیادہ حقدار ہے۔
اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو
اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں
اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا ک ہے اور پا ک ( مال ) کے سوا ( کو ئی ما ل ) قبو ل نہیں کرتا اللہ نے مو منوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : " اے پیغمبران کرام! پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے مومنو!جو پا ک رزق ہم نے تمھیں عنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا : " جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے ۔ ( دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے اے میرے رب اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام کا ہے اس کا پینا خرا م کا ہے اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے تو اس کی دعا کہا ں سے قبو ل ہو گی ۔)
خذ مثالا لذلك أكل الطيبات: أليس مباحا دون نزاع، منصوصا على إباحته بالدليل القطعي ثبوتا ودلالة؟
ومن أكل الطيبات بدون الشكر الواجب فهو مذموم قال تعالى QE@ أي عن شكر النعيم
3.پورا ناپ اور تول
”کم ناپنے والوں کے لیے تباہی ہے۔“ انصاف کے ساتھ پورا تول اور ناپ دو۔ نبی ﷺ نے فرمایا سچا امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہے؛ اور جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو
انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
ابوخلیل نے عبداللہ بن حارث سے ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور ( عیب وغیرہ ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہ ان کو قتادہ نے خبر دی کہ مجھے صالح ابوالخلیل نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن حارث نے، کہا کہ میں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ الگ نہ ہو جائیں انہیں اختیار باقی رہتا ہے۔ اب اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات صاف صاف بیان اور واضح کر دی، تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے کوئی بات چھپائی یا جھوٹ بولا تو ان کی خرید و فروخت میں سے برکت مٹا دی جاتی ہے۔
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع ( بیچنے والا ) اور مشتری ( خریدار ) جب تک جدا نہ ہوں ۱؎ دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، اگر وہ دونوں سچ کہیں اور سامان خوبی اور خرابی واضح کر دیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے عیب کو چھپایا اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان کی بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسی طرح ابوبرزہ اسلمی سے بھی مروی ہے کہ دو آدمی ایک گھوڑے کی بیع کرنے کے بعد اس کا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے، وہ لوگ ایک کشتی میں تھے۔ ابوبرزہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم دونوں جدا ہوئے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بائع اور مشتری کو جب تک ( مجلس سے ) جدا نہ ہوں اختیار ہے“، ۳- اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ جدائی قول سے ہو گی، یہی سفیان ثوری کا قول ہے، اور اسی طرح مالک بن انس سے بھی مروی ہے، ۴- اور ابن مبارک کا کہنا ہے کہ میں اس مسلک کو کیسے رد کر دوں؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد حدیث صحیح ہے، ۵- اور انہوں نے اس کو قوی کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إلا بيع الخيار» کا مطلب یہ ہے کہ بائع مشتری کو بیع کے واجب کرنے کے بعد اختیار دیدے، پھر جب مشتری بیع کو اختیار کر لے تو اس کے بعد اس کو بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہو گا، اگرچہ وہ دونوں جدا نہ ہوئے ہوں۔ اسی طرح شافعی وغیرہ نے اس کی تفسیر کی ہے، ۶- اور جو لوگ جسمانی جدائی ( تفرق بالابدان ) کے قائل ہیں ان کے قول کو عبداللہ بن عمرو کی حدیث تقویت دے رہی ہے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ( آگے ہی آ رہی ہے ) ۔
4.سود — وہ بڑھوتری جسے اللہ مٹا دیتا ہے
”اللہ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔“ جو تم سود میں دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھے، وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ نبی ﷺ نے کھانے، کھلانے، لکھنے اور گواہ سب پر لعنت کی۔
سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں
محق الربا: {يمحق الله الربا} .
فالجواب: أن هذا أجلى في محق الربا، والمخاطبون عوام.
5.ناحق لیا گیا مال
”ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔“ تجارت باہمی رضامندی سے ہو۔ نبی ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت کی؛ اور جو یتیم کا مال کھاتے ہیں وہ آگ نگل رہے ہیں۔
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ﻇلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حاﻻنکہ تم جانتے ہو
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے
جو لوگ ناحق ﻇلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وه اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وه دوزخ میں جائیں گے
وإما من أكل المال بالباطل.
وما أعطي فيها فهو من أكل المال بالباطل.
6.حرام لقمہ دعا کو کیسے روکتا ہے
نبی ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر میں پراگندہ حال آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے — ”اے رب، اے رب“ — جبکہ اُس کا کھانا، پینا اور لباس حرام ہے: ”تو یہ کیسے قبول ہو؟“ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے۔
اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں
اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو
it was narrated that an-nu'man bin bashir said:"i heard the messenger of allah [saw] say: 'that which is lawful is clear and that which is unlawful is clear, but between them there are matters which are doubtful.'" and sometimes he said: "but between them are matters that are not as clear. i will describe the likeness of that for you. allah, the mighty and sublime, has a sanctuary and the sanctuary of allah is that which he has forbidden. whoever grazes around the sanctuary will soon transgress into the sanctuary. and whoever approaches a matter that is unclear, he will soon wind up in the sanctuary." and sometimes he said: "he will soon transgress, and indeed whoever mixes in doubt, he will soon cross into it
an-nu'man bin bashir said:"i heard the messenger of allah say: "that which is lawful is plain and that which is unlawful is plain, and between them are matters which are not as clear. i will strike a parable for you about that: indeed allah, the mighty and sublime, has established a sanctuary, and the sanctuary of allah is that which he has forbidden. whoever approaches the sanctuary is bound to transgress upon it, or he said: 'whoever grazes around the sanctuary will soon transgress upon it, and whoever indulges in matters that are not clear, he will soon transgress beyond the limits
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ( جن کی حلت و حرمت میں شک ہے ) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اللہ نے ( اپنے لیے ) محفوظ جگہ ( چراگاہ ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں ( یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے ۔
"الحلال بين، والحرام بين، وبينها أمور مشتبهات".
"الحلال بين، والحرام بين، وبينها أمور مشتبهات".
7.اللہ ہی رازق ہے — کماؤ، اور بھروسا کرو
زمین پر کوئی جاندار نہیں مگر اُس کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔ اگر تم اللہ پر ویسا بھروسا کرو جیسا اُس کا حق ہے، وہ تمہیں پرندوں کی طرح رزق دے — وہ بھوکے نکلتے اور بھرے لوٹتے ہیں۔ جو اللہ سے ڈرے، وہ اُس کے لیے راہ نکالتا اور وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں گمان بھی نہ ہو۔
زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہےاور ان کے سونپے جانے کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعده کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعده کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے
فمن ههنا قلنا إنهما لا يتنافيان. وكذلك التوكل مع الكسب لأن التوكل محله القلب والكسب محله الجوارح، ولا يتضاد شيئان في محلين بعدما يتحقق العبد أن المقدور من الله تعالى، فإن تعسر شيء فبتقديره وإن أتفق فبتيسيره. قال أنس رضي الله عنه: جاء رجل على ناقة له فقال: يا رسول الله أدعها وأتوكل؟ قال: اعقلها وتوكل. والتوكل والاعتصام بالقدر يستمدان من العقل، والطلب والكسب يستمدان من الأمر، فالتوكل على الله تعالى هو الثقة بما ضمنه والقطع بكون ما حكم به، فمن رام أمرا من الأمور ليس من الطريق في تحصيله أن يغلق بابه عليه، ويفوض أمره إلى ربه وينتظر حصول ذلك الأمر، بل الطريق أن يشرع في طلبه على الوجه الذي شرعه الله
8.قناعت — وہ دولت جو کبھی ختم نہیں ہوتی
”جو ہم نے بعض کو دیا ہے اُس کی طرف اپنی آنکھیں نہ پھیلاؤ۔“ نبی ﷺ نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت میں نہیں بلکہ دل کی بےنیازی میں ہے؛ کامیاب ہے وہ جسے اسلام ملا، بقدرِ کفایت رزق ملا، اور اللہ نے دیے پر قناعت عطا کی۔
اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور باقی رہنے واﻻ ہے
اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه صرف زندگی دنیا کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وه بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے
جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " وہ انسان کا میاب و بامراد ہو گیا جو مسلمان ہو گیا اور اسے گزر بسر کے بقدر روزی ملی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی تو فیق بخشی ۔
ادب و منہج
یہ صفحہ اصول بیان کرتا ہے، کسی خاص جدید معاہدے پر فتویٰ نہیں — کوئی مخصوص قرض، نوکری یا سرمایہ کاری حلال ہے یا نہیں یہ فقہی سوال ہے جو اہلِ علم سے پوچھا جائے، اور اِس کے لیے پلیٹ فارم کے فقہ سیکشنز اور مفتیانِ کرام ہیں۔ یہاں جو طے ہے وہ روح ہے: کہ لقمے کا سرچشمہ اِس حد تک پہنچتا ہے کہ دعا سنی جائے گی یا نہیں۔ اِسے اپنی آمدنی جانچنے کے لیے پڑھو، کسی دوسرے پر فیصلہ کرنے کے لیے نہیں۔