حقوق العباد — ایک دوسرے کے حقوق

ایمان صرف عبادت نہیں — یہ حقوق کا ایک جال ہے: پہلے اللہ کا، پھر والدین، رشتہ داروں، شریکِ حیات، اولاد، ہمسائے، کمزوروں اور ہر جان کا۔ اور یہ وہ حقوق ہیں جنہیں اللہ اُس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک مظلوم راضی نہ ہو۔

🎧 سن کر سمجھیں — اردو بیانکمپیوٹر کی آواز
تعارف

نوٹ: قرآن کی عربی تلاوت مشینی آواز میں نہیں سنائی جاتی — صرف اردو ترجمہ بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کا مفہوم بیان ہوا ہے، لفظی ترجمہ نہیں۔ اصل تلاوت کے لیے حوالے پر جائیں۔

ہر آیت اور ہر حدیث کا حوالہ قرآن کے متن اور کتبِ حدیث سے جانچا گیا ہے۔ حدیث کا متن مفہوم ہے (لفظی نقل نہیں) — مکمل متن دیکھنے کے لیے حوالے پر کلک کریں۔

1.سب سے پہلا حق — اللہ کا حق

”اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔“ نبی ﷺ نے معاذؓ کو سکھایا کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اُسی کی عبادت کریں — یہی وہ جڑ ہے جس سے ہر دوسرا حق پھوٹتا ہے۔

قرآنہر مخلوق کے حق سے پہلے خالق کا حق ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا

قرآنہر مخلوق کے حق سے پہلے خالق کا حق ہے۔

میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں

2.والدین کے حقوق

اللہ اپنی عبادت کو والدین سے احسان کے ساتھ جوڑتا ہے، حتیٰ کہ ”اُف“ کہنے سے بھی روکتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا رب کی رضا والد کی رضا میں ہے۔

قرآنوالدین سے احسان، جو عبادتِ الٰہی کے ساتھ ایک ہی آیت میں جوڑا گیا۔

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا

قرآنوالدین سے احسان، جو عبادتِ الٰہی کے ساتھ ایک ہی آیت میں جوڑا گیا۔

اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے

قرآنوالدین سے احسان، جو عبادتِ الٰہی کے ساتھ ایک ہی آیت میں جوڑا گیا۔

ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionوالدین سے احسان، جو عبادتِ الٰہی کے ساتھ ایک ہی آیت میں جوڑا گیا۔

ابو عوانہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( اس شخص کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر ( اس کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا : " جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا تو ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا ۔

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: حسنوالدین سے احسان، جو عبادتِ الٰہی کے ساتھ ایک ہی آیت میں جوڑا گیا۔

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے“۔

3.رشتہ داروں کے حقوق — صلہ رحمی

”اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتوں کا خیال رکھو۔“ جو رزق میں کشادگی چاہے وہ صلہ رحمی کرے — اور سچا جوڑنے والا وہ ہے جو کاٹے جانے پر بھی جوڑے۔

قرآنرشتوں کو جوڑنا — ایک حق جو اللہ کے عرش سے جڑا ہے۔

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے

قرآنرشتوں کو جوڑنا — ایک حق جو اللہ کے عرش سے جڑا ہے۔

اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو

حدیثصحیحرشتوں کو جوڑنا — ایک حق جو اللہ کے عرش سے جڑا ہے۔

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابی بکر وکیع، معاویہ بن ابی مزرد یزید بن رومان عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رشتہ داری عرش کے ساتھ لٹکائی ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا اور جس نے مجھے توڑا اللہ اس سے دور ہوگا۔

4.میاں بیوی کے باہمی حقوق

”عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے اُن پر ہیں، بھلائی کے ساتھ۔“ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو؛ اور اللہ نے میاں بیوی کے درمیان محبت و رحمت رکھی۔

قرآنمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا اراده اصلاح کا ہو۔ اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضلیت ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت واﻻ ہے

قرآنمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے

قرآنمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی، یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح Lighairihi · Zubair Ali Zai: حسنمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ۱؎۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اگر حواء ( علیہا السلام ) نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے کبھی خیانت نہ کرتی

حدیثاحمد Muhammad Shakir: صحیح · البانی: صحیح · Bashar Awad Maarouf: حسن صحیح · Zubair Ali Zai: حسنمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔

حدیثالبانی: حسن · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: حسن · Shuaib Al Arnaut: صحیح Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad صحیحمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس ( جماع ) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو ۲؎۔

کلاسیکیمیاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں، جو حسنِ سلوک سے ادا ہوں۔

وإن كانا في حانوتين أو تداعيا شيئا في يد ثالث فنقول: الفرق أن الضرورة تدعو للملابسة في حق الزوجين، فنسلك (¬81) بهما أقرب الطرق في إثبات أموالهما، ولا ضرورة تدعو لملابسة العطار والصباغ، فجريا على قاعدة الدعاوى.

5.اولاد کے حقوق

”اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“ اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو؛ کوئی باپ اپنے بچے کو حسنِ ادب سے بہتر تحفہ نہیں دیتا۔

قرآناولاد کا حق: تحفظ، انصاف اور تربیت۔

آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو

قرآناولاد کا حق: تحفظ، انصاف اور تربیت۔

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid: صحیح · Zubair Ali Zai: Isnaad صحیحاولاد کا حق: تحفظ، انصاف اور تربیت۔

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کے درمیان انصاف کیا کرو، اپنے بیٹوں کے حقوق کی ادائیگی میں برابری کا خیال رکھا کرو ( کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی نہ ہو ) ۔

6.ہمسائے کے حقوق

جبریل نبی ﷺ کو ہمسائے کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے گمان کیا کہ اُسے وارث بنا دیں گے۔ وہ مومن نہیں جس کا ہمسایہ اُس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔

قرآنہمسائے کا حق — نبی ﷺ کے الفاظ میں گویا وارث کے قریب۔

اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا

7.یتیم، مسکین اور مسافر کے حقوق

”یتیم پر سختی نہ کرو۔“ اُن کے مالوں میں سائل اور محروم کا معلوم حق ہے؛ یتیم کی کفالت کرنے والا نبی ﷺ کے ساتھ جنت میں اِن دو انگلیوں کی طرح ہے۔

قرآنیتیم، مسکین اور مسافر کا ہم پر حق ہے۔

پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر

قرآنیتیم، مسکین اور مسافر کا ہم پر حق ہے۔

اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وه بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وه بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے، ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وه نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو یقیناً وه حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے

قرآنیتیم، مسکین اور مسافر کا ہم پر حق ہے۔

اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا

کلاسیکیV1P264یتیم، مسکین اور مسافر کا ہم پر حق ہے۔

فقال أبو عبيدة: نعم كانت إليهود تطلبنا اشد الطلب حتى نصرنا الله عليهم وأخذنا حصونهم وقتلنا أبطالهم قال يوقنا وجدت هذا في سيرته وجملة أخباره وأن الله تعالى كان يوصيه بأصحابه وبالمسلمين وبالايتام والمساكين أكان ذلك أم لا قال أبو عبيدة: نعم أما وصيته من الله على أصحابه فقد قال الله تعالى: {واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين} [الشعراء:215] وقال في حق اليتيم والمسكين: {فأما اليتيم فلا تقهر*وأما السائل فلا تنهر} [الضحى:10] فقال يوقنا كيف قال: {ووجدك ضالا فهدى} [الضحى:7] فما معنى وصفه بالضلال وهو عند الله كريم فقال له معاذ بن جبل رضي الله عنه: وجدناك ضالا في تيه صحبتنا فهديناك إلى مشاهدتنا وايضا سهل ل

8.مزدور اور ماتحت افراد کے حقوق

”اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔“ مزدور کو اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اُجرت دو؛ وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ہاتھ کے نیچے رکھا — جو تم کھاتے ہو اُنہیں کھلاؤ۔

قرآنجو تمہاری خدمت کرتے ہیں اُن کے تم پر حقوق ہیں۔

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو

قرآنجو تمہاری خدمت کرتے ہیں اُن کے تم پر حقوق ہیں۔

لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیحجو تمہاری خدمت کرتے ہیں اُن کے تم پر حقوق ہیں۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو ۱؎۔

حدیثSalim al-Hilali: صحیحجو تمہاری خدمت کرتے ہیں اُن کے تم پر حقوق ہیں۔

malik related to me that he heard that abu hurayra said that the messenger of allah, may allah bless him and grant him peace, said, "a slave has his food and clothing in the normal manner, and he is only obliged to do such work as he is capable of doing

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionجو تمہاری خدمت کرتے ہیں اُن کے تم پر حقوق ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : طعام اور لباس غلام کا حق ہے اور اس پر کام کی اتنی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو اس کے بس میں نہ ہو ۔

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionجو تمہاری خدمت کرتے ہیں اُن کے تم پر حقوق ہیں۔

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے اسے واصل احدب سے، انہوں نے معرور سے، کہا میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی ( یعنی گالی دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ ( یاد رکھو ) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے ( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔

9.عزت کے حقوق — زبان اور دوسروں کی حرمت

”ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔“ نبی ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے پر حرام ہیں؛ سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔

قرآنعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے

قرآنعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں، اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ﻇالم لوگ ہیں

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیح بخاریعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

it was narrated that 'abdullah bin 'amr said:"i heard the messenger of allah [saw] say: "the muslim is the one from whose tongue and hand the muslims are safe, and the muhajir is the one who forsakes (hajara) that which allah has forbidden to him

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں

حدیثṢaḥīḥ — included per the compiler's conditionعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے ( تکلیف پہنچنے سے ) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔“

حدیثصحیحعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

حسن الحلوانی، عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، ابوالزبیر، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔

حدیثصحیحعزت ایک حق ہے — زبان اُسے پامال نہ کرے۔

ابو نعیم، زکریا، عامر، عبدالرحمن بن عمرو سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے۔

10.امانت اور کھرا لین دین

”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے حقداروں کو لوٹاؤ“، اور مال ناحق نہ کھاؤ۔ جس نے تم پر اعتماد کیا اُس کی امانت لوٹاؤ؛ جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔

قرآنامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے

قرآنامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ﻇلم وستم سے اپنا کر لیا کرو، حاﻻنکہ تم جانتے ہو

حدیثAbu Ghuddah: صحیح · البانی: صحیح · Zubair Ali Zai: صحیحامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

it was narrated from sufyan, from 'abdullah bin dinar, from ibn 'umar, from the prophet who said:"two traders have the choice as long as they have not separated, or, they have chosen to conclude the transaction

حدیثضعیف — درجہ دینے والوں کے مطابقAbu Ghuddah: ضعیف · البانی: ضعیف · Zubair Ali Zai: ضعیفامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

it was narrated from al- hasan from samurah, who said:"the messenger of allah said;" two traders have the choice as long as they have not separated, or until they reach a deal that suits both of th4em or that is satisfactory (to both)

حدیثالبانی: صحیح · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح Lighairihi · Shuaib Al Arnaut: صحیح Lighairihi · Zubair Ali Zai: Isnaad حسنامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ( بیع منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۔

حدیثالبانی: صحیح Hadith · Muhammad Fouad Abd al-Baqi: صحیح · Shuaib Al Arnaut: صحیح · Zubair Ali Zai: Isnaad صحیحامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری ( بیچنے اور خریدنے والے ) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں دونوں کو ( بیع کے منسوخ کرنے کا ) اختیار ہے ۔

حدیثصحیحامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

ابوالنعمان، حماد بن زید، ایوب، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اختیار ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوجائیں یا ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ تجھے اختیار ہے اور کبھی یوں فرمایا کہ یا بیع خیار ہو۔

حدیثصحیحامانتیں لوٹائی جائیں؛ لین دین کھرا ہو۔

بدل بن محبر، شعبہ، قتادہ، ابوالخیل، عبداللہ بن حارث، حکیم بن حزام (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیچنے والے اور خرید نے والے کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوجائیں یا یہ فرمایا کہ یہاں تک کہ دونوں جدا ہوجائیں۔

11.وہ دن جب حقوق چکائے جائیں گے

نبی ﷺ نے سچے مفلس کی تعریف کی: جو نماز اور روزے لے کر آئے مگر اُس نے دوسروں کو گالی دی، مارا اور اُن کا مال لیا — پس اُس کی نیکیاں اُنہیں دے دی جاتی ہیں یہاں تک کہ ختم ہو جائیں۔ ظلم کے قرض یہیں چکاؤ، جب تک معافی کام آتی ہے۔

قرآندنیا میں غیر ادا حقوق آخرت میں اپنی نیکیوں سے چکائے جائیں گے۔

پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

قرآندنیا میں غیر ادا حقوق آخرت میں اپنی نیکیوں سے چکائے جائیں گے۔

اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا

قرآندنیا میں غیر ادا حقوق آخرت میں اپنی نیکیوں سے چکائے جائیں گے۔

قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے

ادب و منہج

اِس صفحے کی سب سے چونکا دینے والی تعلیم آخری ہے: اللہ اپنے کرم سے اپنے حق میں کوتاہیاں جسے چاہے معاف کر دیتا ہے — مگر بندوں کے حقوق اُن کے درمیان چکانے کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور کسی بندے پر ظلم اکیلی عبادت سے نہیں مٹتا جب تک مظلوم کی تلافی نہ ہو یا وہ معاف نہ کرے۔ پس یہ صفحہ اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے پڑھنے کا ہے: میں نے کس کا حق ادا نہیں کیا؟ نہ کہ: مجھ پر کس نے ظلم کیا؟