جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے
سکونِ قلب
بےقرار دل کہاں سکون پاتا ہے — قرآن و سنت اُس اطمینان کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں جو اللہ اپنی طرف رجوع کرنے والے کے سینے میں رکھ دیتا ہے۔
1.دل کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں
”سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔“ دل جو بھی اور سکون ڈھونڈتا ہے وہ اُدھار اور عارضی ہے؛ یہی اکیلا وہ سکون ہے جس کے لیے دل بنایا گیا۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا“۔
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ اس آیت کی تفسیر کیا ہے اذانودی للصلوة من یوم الجمعہ فاسعو الی ذکر اللہ تو ابن شہاب نے جواب دیا کہ حضرت عمر بن خطاب اس آیت کو یوں پڑھتے تھے اذانودی للصلوة من یوم الجمعة فامضوا (فاسعوا) 62۔ الجمعہ : 9) الی ذکر اللہ ۔
قال الحارث المحاسبى الرضا سكون القلب تحت جريان الحكم
من كلامه: " سكون القلب إلي غير المولي تعجيل عقوبة من الله في الدنيا ".
المكلف ((الرضا)) وهو سكون القلب وطمأنينته إلى قدم اختيار الله للعبد، أنه اختار له الأفضل فيرضى به.
2.غم اور بےچینی کا نبوی علاج
نبی ﷺ نے اُس لمحے کے لیے مخصوص کلمات سکھائے جب بےچینی گھیر لے — اور خبر دی کہ مومن کو کوئی غم ایسا نہیں پہنچتا جسے اللہ صبر کے بدلے دور نہ کر دے۔
پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے
بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وه دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند وعزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے، اللہ غالب ہے حکمت واﻻ ہے
تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والجبن والبخل، وضلع الدين، وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا:«اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔
it was narrated that anas bin malik said:"the prophet [saw] used to say: 'allahumma inni a'udhu bika minal-hammi wal hazani, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa dala'id-dain, wa ghalabatir-rijal (o allah, i seek refuge with you from worry, grief, laziness, miserliness, cowardice, difficult debt and being overpowered by men)
it was narrated that anas bin malik said:"the messenger of allah [saw] had supplications that he never omitted to recite. he used to say: 'allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa ghalabatar-rijal (o allah, i seek refuge with you from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice and being overpowered by (other) men
خالد بن مخلد، سلیمان، عمرو بن ابی عمرو، حضرت انس (رض) کہتے ہیں، کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا میں کہتے تھے، (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ) اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم و حزن اور عجز و سستی اور بزدلی و بخل اور قرض کی گراں باری اور لوگوں کے غلبہ سے) ۔
قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، عمرو بن ابی عمر، انس بن مالک (رض) کہتے ہیں، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوطلحہ (رض) سے فرمایا : اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکا میری خدمت کے لیے دیدو چنانچہ ابوطلحہ (رض) مجھ کو اپنے پیچھے سوار کرکے لے گئے چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرنے لگا جب بھی آپ اترتے، تو آپ کو اکثر یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن وضلع الدین وغلبۃ الرجال میں برابر آپ کی خدمت میں رہا یہاں تک کہ ہم جب خیبر سے واپس ہوئے تو آپ نے صفیہ (رض) بنت حیی کو ساتھ لے کر جن سے نکاح کیا تھا میں آپ کو دیکھ رہا تھا، کہ اپنی چادر یا کمبل کا پردہ کرکے اپنے پیچھے ان کو سوار کرلیتے تھے، یہاں تک کہ ہم جب مقام صہباء میں پہنچے، تو آپ نے حیس تیار کرا کر اس کو دسترخوان پر رکھوایا، پھر مجھے بھیجا، تو میں لوگوں کو بلا کرلے آیا لوگوں نے کھانا کھایا، یہ ولیمہ کی دعوت تھی، پھر وہاں سے آگے بڑھے یہاں تک کہ جب احد پہاڑ نظر آیا، تو فرمایا یہ وہ پہاڑ ہے جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اسے محبوب رکھتے ہیں جب مدینہ کے قریب پہنچے، تو فرمایا : یا اللہ میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کی زمین کو حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا اے اللہ مدینہ والوں کو ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔
شفاء من سبعين داء أدناها الهم والغم والحزن» وفرق بين الغم والهم، بأن الغم يعرض منه السهر، والهم يعرض منه النوم.
حجر الجزع: هو حجر صلب له ألوان كثيرة. فمن حمله أورثه الهم والغم والحزن وأراه أحلاما رديئة ويعسر عليه قضاء الحوائج. وإن علق على صبي كثر بكاؤه وفزعه وسال لعابه وعظم نكده، ومن سقي منه مسحوقا قل نومه وثقل لسانه، وإن وضع بين جماعة حصلت بينهم فتنة وخصومة وعداوة، وليس فيه منفعة إلا أنه يسهل الولادة على الحامل.
3.توکل بوجھِ فکر کو ہلکا کرتا ہے
”جو اللہ پر بھروسا کرے، وہ اُس کے لیے کافی ہے۔“ سچا توکل کرنے والا پرندوں کی طرح رزق پاتا ہے: خالی پیٹ نکلتے ہیں اور بھرے لوٹتے ہیں۔
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گھر سے نکلتے وقت: «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» ”میں نے اللہ کے نام سے شروع کیا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہوں سے بچنے اور کسی نیکی کے بجا لانے کی قدرت و قوت نہیں ہے سوائے سہارے اللہ کے“ کہے، اس سے کہا جائے گا: تمہاری کفایت کر دی گئی، اور تم ( دشمن کے شر سے ) بچا لیے گئے، اور شیطان تم سے دور ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «بسم الله توكلت على الله اللهم إنا نعوذ بك من أن نزل أو نضل أو نظلم أو نظلم أو نجهل أو يجهل علينا» ۱؎ ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، بھروسہ کرتا ہوں اللہ پر، اے اللہ تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ حق و صواب سے کہیں پھر نہ جاؤں، یا راہ حق سے بھٹکا نہ دیا جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں کسی کے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کروں یا کوئی میرے ساتھ جاہلانہ انداز سے پیش آئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے ( یعنی فرشتے کہتے ہیں ) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی، اور تو بچا لیا گیا، ( یہ سن کر ) شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کر دی گئی اور وہ ( تیری گرفت اور تیرے چنگل سے ) بچا لیا گیا۔
4.تقدیر پر رضا
کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی — اور مومن کا معاملہ سراسر خیر ہے: آسانی میں شکر، تنگی میں صبر، دونوں نفع۔
کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے
نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے
تاکہ تم اپنے سے فوت شده کسی چیز پر رنجیده نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کرده چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا
ذكر أحكام مقام الرضا
الرضا بالقضاء
5.نماز — آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح کا سکون
نبی ﷺ جب بھی کوئی معاملہ آپ کو پریشان کرتا نماز کی طرف رجوع کرتے، اور فرمایا کہ آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اِسی میں رکھی گئی۔ یہ برداشت کرنے کا بوجھ نہیں بلکہ طلب کرنے کا سکون ہے۔
اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے ﻻئق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر، اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ
جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے
6.کربِ دل کی دعائیں
مچھلی کے پیٹ سے ذوالنون کی پکار — ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بےشک میں ظالموں میں سے تھا“ — کوئی پریشان حال مومن اِس سے نہیں پکارتا مگر اللہ قبول کرتا ہے۔
مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں
ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات والأرض، رب العرش العظيم» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت عظمت والا ہے اور برد بار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور بڑے بھاری عرش کا رب ہے۔“
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو سب سے عظیم ہے ، سب سے زیادہ حلم والا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو آسمانوں کا مالک ، زمینوں کا مالک اور عزت والے عرش کا مالک ہے ۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السموات، ورب الأرض، ورب العرش الكريم» ”اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔“ اور وہب نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اس طرح بیان کیا۔
1 ( باب دعاء الكرب )
7.شکر سینے کو کشادہ کرتا ہے
”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا۔“ شکرگزار دل وہاں نعمتیں دیکھتا ہے جہاں ناشکرا صرف کمی دیکھتا ہے — اور یہی دیکھنا سکون ہے۔
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے
اس لئے تم میرا ذکر کرو، میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ومنها : أنه يبعثه على أعلى المقامات وهو مقام الشكر الذي هو خلاصة العبودية فإنه إذا حصل له مرجوه كان أدعى لشكره
8.اللہ سے حسنِ ظن
اللہ کی رحمت ہر چیز پر محیط ہے، اور وہ اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہے جیسا بندہ اُس سے گمان رکھے۔ مومن اُمید کے ساتھ اُس کی طرف چلتا ہے، اور اپنے رب سے اچھا گمان رکھتے ہوئے مرتا ہے۔
اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے
گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ سخت عذاب واﻻ انعام و قدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی پر بھی موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ عزوجل کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو ۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔“
یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے ، میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔
والمراد الحث على حسن الظن بالله في نفسه، وتغليب الرجاء على الخوف، والظن هنا بمعنى اليقين والاعتقاد، لا بمعنى الشدة.
• (أن حسن الظن بالله من حسن عبادة الله) أي حسن الظن به بأن يظن أن الله تعالى يرحمه ويعفو عنه من جملة حسن عبادته فهو محبوب مطلوب لكن مع ملاحظة الخوف فيكون باعث الرجاء والخوف في قرن هذا في الصحيح أما المريض فالأولى في حقه تغليب الرجاء (حم ت ك) عن أبي هريرة قال الشيخ حديث صحيح
9.دنیا کی گرفت کو ڈھیلا کرنا
”دنیا میں یوں رہو جیسے مسافر یا راہ گیر۔“ جسے ہم بہت کس کر نہ تھامیں وہ جاتے وقت ہمیں بہت گہرا زخم نہیں دے سکتا؛ دنیا سے ہلکا دل ہی سکون والا دل ہے۔
خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال واوﻻد میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں
لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو
اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ ( کندھا ) تھاما اور فرمایا: عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔
دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راہگیر۔ جب شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کرو، اور اپنی صحت سے اپنی بیماری کے لیے فائدہ اٹھاؤ اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابومنذر طفاوی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔
وقال سفيان الثورى : الزهد في الدنيا قصر الأمل ليس بأكل الغليظ ولا لبس العباء
وقال سفيان الثورى : الزهد في الدنيا قصر الأمل ليس بأكل الغليظ ولا لبس العباء
10.نفسِ مطمئنہ — سفر کی منزل
اللہ مومنوں کے دلوں پر سکینہ نازل کرتا ہے؛ اور جو نفس سکون کو پہنچ جائے اُس سے فرماتا ہے: ”اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، تُو اُس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔“ سارا راستہ اِسی طرف جا رہا تھا۔
اے اطمینان والی روح
تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش
وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطیمنان) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے ﴿کل﴾ لشکر اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دانا باحکمت ہے
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا . فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا . إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا . » ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔“
ادب و منہج
یہ وحی پر مبنی تسلی کا صفحہ ہے، کسی بیماری کے علاج کا بدل نہیں۔ جو سنت دل کو تسکین دیتی ہے وہ جسم یا ذہن کے لیے طبیب سے رجوع کرنے سے کبھی نہیں روکتی — نبی ﷺ نے علاج کرانے کا حکم دیا۔ اگر غم بھاری یا مسلسل ہو تو اِن کلمات کو بھی تھامیں اور مدد کو بھی؛ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ یہاں بیان کیا گیا سکون آزمائشوں کی غیر موجودگی نہیں بلکہ اُن کے اندر اللہ کی موجودگی ہے۔