اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں
تربیتِ اولاد
اولاد ایک امانت ہے جس کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا — ملکیت نہیں۔ قرآن و سنت اُنہیں توحید، نماز، رحمت، انصاف اور اخلاق پر پالنے کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں۔
1.اولاد امانت ہے، ملکیت نہیں
”اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔“ مال اور اولاد تو ایک آزمائش اور دنیا کی زینت ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں ہر ایک نگہبان ہے، اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ — اور مرد اپنے گھر والوں پر نگہبان ہے۔
اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اوﻻد ایک امتحان کی چیز ہے۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے
مال واوﻻد تو دنیا کی ہی زینت ہے، اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ﺛواب اور (آئنده کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں
عمرو بن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں، ۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں، ۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎۔
2.پہلا سبق — توحید
لقمان کی اپنے بیٹے کو پہلی نصیحت یہ تھی: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا — شرک بڑا ظلم ہے۔“ اپنے بچوں کی پہلی بات ”لا الہ الا اللہ“ سے کھولو، اور اُنہیں اِس یقین پر جماؤ کہ اللہ دیکھتا ہے، اور اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے
پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے
3.بچپن ہی سے نماز کی عادت
”اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود اُس پر جمے رہو۔“ نبی ﷺ نے سکھایا: سات سال پر اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، اور دس پر پابندی کراؤ۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی تعریف ہوئی کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔
اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول باﻻ پرہیزگاری ہی کا ہے
وه اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰة کاحکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاه میں پسندیده اور مقبول
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے
4.رحمت، شفقت اور کھیل
نبی ﷺ نے اپنے نواسوں کو بوسہ دیا، اور جب ایک شخص نے کہا کہ اُس کے دس بچے ہیں اور اُس نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا تو فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ آپ حسن و حسین کو نماز میں اپنی پیٹھ پر چڑھنے دیتے۔ وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعﺚ آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- راوی زربی نے انس بن مالک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، معروف ( بھلی باتوں ) کا حکم نہ دے اور منکر ( بری باتوں ) سے منع نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب کے واسطہ سے مروی حدیث صحیح ہے، ۳- عبداللہ بن عمرو سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «ليس منا» کا مفہوم یہ ہے «ليس من سنتنا ليس من أدبنا» یعنی وہ ہمارے طور طریقہ پر نہیں ہے، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری اس تفسیر کی تردید کرتے تھے اور اس کا مفہوم یہ بیان کرتے تھے کہ «ليس منا» سے مراد «ليس من ملتنا» ہے، یعنی وہ ہماری ملت کا نہیں ہے۔
5.اولاد کے درمیان انصاف
”اللہ انصاف کا حکم دیتا ہے۔“ جب ایک صحابی نے ایک بیٹے کو تحفہ دیا تو نبی ﷺ نے گواہی سے انکار کیا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔“ غیر برابر سلوک حسد بوتا ہے اور وہ رشتہ توڑتا ہے جسے والدین کو سب سے زیادہ جوڑے رکھنا ہے۔
اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو
اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی موﻻ کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وه خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ دار عزیزوں کے، وه شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیاده تعلق ہے، اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے
باب العدل بين الأولاد والتسوية بينهم
6.ادب اور اخلاق کی تعلیم
لقمان نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ تکبر سے رخ نہ پھیرے، اکڑ کر نہ چلے، اور اپنی آواز پست رکھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کسی باپ نے اپنے بچے کو حسنِ ادب سے بہتر تحفہ نہیں دیا — اخلاق وہ میراث ہے جو مال سے زیادہ باقی رہتی ہے۔
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے
اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور انہیں بہترین ادب سکھاؤ ۔
15 _ الباب الخامس عشر في وجوب تأديب الأولاد وتعليمهم والعدل بينهم
2 الباب الخامس عشر في وجوب تأديب الأولاد وتعليمهم والعدل بينهم
7.تمہارا نمونہ، اور اُن کے لیے تمہاری دعا
نیک لوگ دعا کرتے ہیں: ”اے ہمارے رب، ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔“ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ وہ اور اُن کی اولاد نماز قائم کرنے والے رہیں۔ والدین کا نمونہ درس سے زیادہ سکھاتا ہے، اور والدین کی دعا وہاں پہنچتی ہے جہاں نصیحت نہیں پہنچتی۔
اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا
اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔ یہاں تک کہ جب وه پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اوﻻد بھی صالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
وسئل الحسن: ما دعاء الوالد للولد؟ قال: (نجاة).
واعلم أن أقرب الدعوات من الاستجابة ما اقترن بحاله هي مظنة نزول | الرحمة إما لكونها كما لا للنفس الإنسانية كدعاء عقيب الصلوات . ودعوة | الصائم حين يفطر ، أو معدة لا لاستنزال جود الله كالدعاء يوم عرفة ، | أو لكونها سببا لموافقة عناية الله في نظام العالم كدعوة المظلوم - فإن لله | عناية بانتقام الظالم - وهذا موافقة منه لتلك العناية ، وفيه ' فإنه ليس بينها | وبين الله حجاب ' أو سببا لازورار راحة الدنيا عنه ، فتنقلب رحمة الله | في حقه متوجهة في صورة أخرى كدعاء المريض والمبتلى ، أو سببا | لإخلاص الدعاء مثل دعاء الغائب لأخيه أو دعاء الوالد للولد ، أو كانت | في ساعة تنتشر فيها الروحانية وتدلى فيه الرحم
8.پھل — نیک اولاد جو تمہارے لیے دعا کرے
جب انسان مر جاتا ہے تو اُس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں — سوائے تین کے، اُن میں سے ایک نیک اولاد جو اُس کے لیے دعا کرے۔ نبی ﷺ نے فرمایا بندے کا درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے اور وہ پوچھتا ہے کیسے، تو کہا جاتا ہے: ”تمہارے بچے کے تمہارے لیے استغفار سے۔“ یہی تربیت کی فصل ہے۔
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اوﻻد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے
اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اوﻻد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا
اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزه اوﻻد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے واﻻ ہے
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ۱؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ۲؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ۳؎ جو اس کے لیے دعا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وفيه طلب التبرك بدعاء الولد الصالح والشفاعة بموت الولد الصغير (1).
وفيه طلب التبرك بدعاء الولد الصالح والشفاعة بموت الولد الصغير (1).
ادب و منہج
یہ وحی سے تربیت کے اصول جمع کرتا ہے؛ طریقہ — عمریں، اسالیب، اسکرینز، تعلیم — ہر بچے اور زمانے کے ساتھ بدلتا ہے، اور اِس عملی پہلو کے لیے پلیٹ فارم کے تربیت کے رہنما اور ٹولز ہیں۔ دو باتیں سب میں پروئی ہیں: کہ بچہ امانت ہے، والدین کا منصوبہ نہیں، اور یہ کہ کوئی طریقہ والدین کے اپنے نمونے اور دعا کی جگہ نہیں لیتا۔ اُنہیں اللہ کے لیے پالو، اور اُن کی ہدایت بالآخر اُسی پر چھوڑ دو جو دلوں کو ہدایت دیتا ہے۔