- رسالہ نمبر (معیاری)
- 23955
- قرطبہ نمبر
- 24001
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 6، صفحہ 20
مسند (صحابی کا باب): مسند فضالة بن عبيد الأنصاري رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عصام بن خالد الحضرمي ثنا صفوان بن عمرو عن شريح بن عبيد ان فضالة بن عبيد الأنصاري كان يقول : غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك فجهد بالظهر جهدا شديدا فشكوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم ما بظهرهم من الجهد فتحين بهم مضيقا فسار النبي صلى الله عليه وسلم فيه فقال مروا بسم الله فمروا الناس عليه بظهرهم فجعل ينفخ بظهرهم اللهم احمل عليها في سبيلك انك تحمل على القوي والضعيف وعلى الرطب واليابس في البر والبحر قال فما بلغنا المدينة حتى جعلت تنازعنا أزمتها قال فضالة هذه دعوة النبي صلى الله عليه وسلم على القوي والضعيف فما بال الرطب واليابس فلما قدمنا الشام غزونا غزوة قبرس في البحر فلما رأيت السفن في البحر وما يدخل فيها عرفت دعوة النبي صلى الله عليه وسلم
اردو ترجمہ
حضرت فضالہ بن عبیدانصاری (رض) کی مرویات
حضرت فضالہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ شریک تھے سواریوں کے معاملے میں بڑی مشکلات پیش آرہی تھیں لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سواریوں میں ایک چکر لگایا پھر لوگوں سے فرمایا کہ اللہ کا نام کر میرے آگے سے گذرو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے اپنی سواریوں کو گذارنے لگے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی پشت دم کرنے لگے اے اللہ ! ان پر اپنی راہ میں نکلنے والوں کو سوار فرما بیشک تو طاقت اور کمزور پر خشک اور تر پر سمندر اور خشکی ہر جگہ سوار کرنے پر قاد رہے " اس دعاء کی برکت تھی کہ شہر تک پہنچتے پہنچتے سواری کے جانور اس قدر چست ہوگئے کہ ہمارے ہاتھوں سے اپنی لگامیں چھڑانے لگے۔ حضرت فضالہ (رض) کہتے ہیں کہ طاقتور اور کمزور کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا تو یہاں پوری ہوگئی جہاں تک خشک اور تر کا تعلق ہے تو جب تک ہم شام پہنچے اور سمندر میں جزیرہ قبرص کا غزوہ لڑا تو میں نے کشتیوں کو سمندر میں دیکھا کہ وہ سمندر میں ڈوبنے سے محفوظ ہیں یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاء تھی اور میں سمجھ گیا تھا۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (99٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔
وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَقُولُ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَجَهَدَ بِالظَّهْرِ جَهْدًا شَدِيدًا فَشَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنْ الْجَهْدِ فَتَحَيَّنَ بِهِمْ مَضِيقًا فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَقَالَ مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ فَمَرَّ النَّاسُ عَلَيْهِ بِظَهْرِهِمْ فَجَعَلَ يَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ إِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَعَلَى الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَالَ فَمَا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا قَالَ فَضَالَةُ هَذِهِ دَعْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ فِي الْبَحْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُ السُّفُنَ فِي الْبَحْرِ وَمَا يَدْخُلُ فِيهَا عَرَفْتُ دَعْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
حديث صحيح وهذا إسناد قوي
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔