- رسالہ نمبر (معیاری)
- 23757
- قرطبہ نمبر
- 23808
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 5، صفحہ 446
مسند (صحابی کا باب): حديث أبي سلمة الأنصاري رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا على بن بحر ثنا عيسى بن يونس ثنا عبد الحميد بن جعفر أخبرني أبي عن جدي رافع بن سنان : أنه أسلم وأبت امرأته أن تسلم فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ابنتي وهى فطيم أو شبهه وقال رافع ابنتي فقال له النبي صلى الله عليه وسلم اقعد ناحية وقال لها اقعدي ناحية فأقعد الصبية بينهما ثم قال ادعواها فمالت إلى أمها فقال النبي صلى الله عليه وسلم اللهم اهدها فمالت إلى أبيها فأخذها
اردو ترجمہ
ابوسلمہ انصاری (رض) کی حدیثیں
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلا جائے) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
إسناده صحيح
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔