- رسالہ نمبر (معیاری)
- 23756
- قرطبہ نمبر
- 23807
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 5، صفحہ 446
مسند (صحابی کا باب): حديث أبي سلمة الأنصاري رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا هشيم ثنا عثمان أبو عمرو البتي عن عبد الحميد بن سلمة : أن جده أسلم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم تسلم جدته وله منها بن فاختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم ان شئتما خيرتما الغلام قال وأجلس الأب في ناحية والأم ناحية فخيره فانطلق نحو أمه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اللهم اهده قال فرجع إلى أبيه
اردو ترجمہ
ابوسلمہ انصاری (رض) کی حدیثیں
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلا جائے) پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
حديث صحيح
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔