مسند احمد 2064

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
2064
قرطبہ نمبر
2064
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 1، صفحہ 232

مسند (صحابی کا باب): مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب عن النبي صلى الله(ومن مسند بنى هاشم)

حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا وكيع ثنا أسامة بن زيد قال سألت طاوسا عن السبحة في السفر قال وكان الحسن بن مسلم بن يناق جالسا فقال الحسن بن مسلم وطاوس يسمع ثنا طاوس عن بن عباس قال : فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الحضر والسفر فكما تصلى في الحضر قبلها وبعدها فصل في السفر قبلها وبعدها قال وكيع مرة وصلها في السفر

اردو ترجمہ

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر اور حضر کی نماز کی رکعتیں مقرر فرما دی ہیں چنانچہ ہم حضر میں اس سے پہلے اور بعد میں بھی نماز پڑھتے تھے، اس لیے تم سفر میں بھی پہلے اور بعد میں نماز پڑھ سکتے ہو۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده حسن

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

4 راوی · 0 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔