- رسالہ نمبر (معیاری)
- 2063
- قرطبہ نمبر
- 2063
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 1، صفحہ 232
مسند (صحابی کا باب): مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب عن النبي صلى الله(ومن مسند بنى هاشم)
حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا وكيع ثنا سفيان عن أبى بكر بن أبى الجهم بن صخير عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن بن عباس قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف بذي قرد أرض من أرض بنى سليم فصف الناس خلفه صفين صف موازى العدو وصف خلفه فصلى بالصف الذي يليه ركعة ثم نكص هؤلاء إلى مصاف هؤلاء وهؤلاء إلى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة أخرى غير أبي بكر بن أبي الجهم فمن رجال مسلم
اردو ترجمہ
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے دو صفیں بنالیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑی ہوگئی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دوسری رکعت پڑھائی۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (93٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔
وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَصَفٌّ خَلْفَهُ فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
إسناده صحيح على شرط مسلم رجاله ثقات رجال الشيخين
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔