Hadith search
20 results for “نیت”
- حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا وكيع عن شعبة عن أبى يونس الباهلى قال سمعت مهاجرا المكي عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يغزو جيش البيت حتى إذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم قالت قلت يا رسول الله أرأيت المكره منهم قال يبعث على نيتهAhmad 26702
- حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا عبد الله بن بكر قال ثنا حاتم بن أبى صغيرة عن المهاجر بن القبطية عن أم سلمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال : ليخسفن بقوم يغزون هذا البيت ببيداء من الأرض فقال رجل من القوم يا رسول الله وان كان فيهم الكاره قال يبعث كل رجل منهم على نيتهAhmad 26747
- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔Abudawud 4995
- ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ۔Abudawud 4289
- حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن عبيد الله بن القبطية قال دخل الحرث بن أبى ربيعة وعبد الله بن صفوان وأنا معهما على أم سلمة فسألها عن الجيش الذي يخسف به وكان ذلك في أيام بن الزبير فقالت أم سلمة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يعوذ عائذ بالحجر فيبعث الله جيشا فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم فقلت يا رسول الله فكيف بمن أخرج كارها قال يخسف به معهم ولكنه يبعث على نيته يوم القيامة فذكرت ذلك لأبي جعفر فقال هي بيداء المدينةAhmad 26487
- حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا إسحاق بن إبراهيم الرازي وهو ختن سلمة الأبرش قال ثنا سلمة قال حدثني محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الرحمن بن موسى عن عبد الله بن صفوان عن حفصة ابنة عمر قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يأتي جيش من قبل المشرق يريدون رجلا من أهل مكة حتى إذا كانوا بالبيداء خسف بهم فرجع من كان امامهم لينظر ما فعل القوم فيصيبهم مثل ما أصابهم فقلت يا رسول الله فكيف بمن كان منهم مستكرها قال يصيبهم كلهم ذلك ثم يبعث الله كل امرئ على نيتهAhmad 26458
- حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا روح ثنا مالك عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك عن عتيك بن الحرث بن عتيك فهو جد عبد الله بن عبد الله أبو أمه انه أخبره : ان جابر بن عتيك أخبره ان عبد الله بن ثابت لما مات قالت ابنته والله ان كنت لأرجو أن تكون شهيدا أما انك قد كنت قضيت جهازك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله قد أوقع أجره على قدر نيته وما تعدون الشهادة قالوا قتل في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله المطعون شهيد والغرق شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد والمبطون شهيد وصاحب الحرق شهيد والذي يموت تحت الهدم شهيد والمرأة تموت بجمع شهيدةAhmad 23753
- حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا يحيى بن سعيد ثنا شعبة ثنا عمر بن سليمان من ولد عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن عبد الرحمن بن أبان بن عثمان عن أبيه أن زيد بن ثابت خرج من عند مروان نحوا من نصف النهار فقلنا ما بعث إليه الساعة إلا لشيء سأله عنه فقمت إليه فسألته فقال أجل سألنا عن أشياء سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : نضر الله أمرأ سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره فإنه رب حامل فقه ليس بفقيه ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ثلاث خصال لا يغل عليهن قلب مسلم أبدا إخلاص العمل لله ومناصحة ولاة الأمر ولزوم الجماعة فإن دعوتهم تحيط من ورائهم وقال من كان همه الآخرة جمع الله شمله وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت نيته الدنيا فرق الله عليه ضيعته وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له وسألنا عن الصلاة الوسطى وهى الظهرAhmad 21590
- حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا عبد الله بن محمد بن نمير ثنا عبادة بن مسلم حدثني يونس بن حباب عن سعيد أبي البختري الطائي عن أبي كبشة الأنماري قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ثلاث اقسم عليهن وأحدثكم حديثا فاحفظوه قال فأما الثلاث الذي اقسم عليهن فإنه ما نقص مال عبد صدقة ولا ظلم عبد بمظلمة فيصبر عليها الا زاده الله عز وجل بها عزا ولا يفتح عبد باب مسألة الا فتح الله له باب فقر واما الذي أحدثكم حديثا فاحفظوه فإنه قال إنما الدنيا لأربعة نفر عبد رزقه الله عز وجل مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل فيه رحمه ويعلم لله عز وجل فيه حقه قال فهذا بأفضل المنازل قال وعبد رزقه الله عز وجل علما ولم يرزقه مالا قال فهو يقول لو كان لي مال عملت بعمل فلان قال فاجرهما سواء قال وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو يخبط في ماله بغير علم لا يتقي فيه ربه عز وجل ولا يصل فيه رحمه ولا يعلم لله فيه حقه فهذا بأخبث المنازل قال وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول لو كان لي مال لعملت بعمل فلان قال هي نيته فوزرهما فيه سواءAhmad 18031
- جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انھوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حارث بن ابی ربیعہ ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ہم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں نے اُن سے اس لشکر کےمتعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیاجائے گا ، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کی خلافت ) کا زمانہ تھا ۔ ( ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ٓ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا ، اس کی طرف ایک لشکر بھیجاجائےگا ، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموارحصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !جو مجبور ان کے ساتھ ( شامل ) ہوگا اس کا کیا بنے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گاالبتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔ "" اور ابو جعفر نے کہا : یہ مدینہ ( کے قریب ) کا چٹیل حصہ ہوگا ( جہاں ان کو دھنسا یا جائے گا ۔)Muslim 2882
- ابان بن عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مروان کے پاس سے ٹھیک دوپہر کے وقت نکلے، میں نے کہا: اس وقت مروان نے ان کو ضرور کچھ پوچھنے کے لیے بلایا ہو گا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مروان نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو ٹھیک کر دے گا، اس کے دل کو بے نیازی عطا کرے گا، اور دنیا اس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی ۔Ibnmajah 4105
- جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے تو ان کو بیہوش پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا تو انہوں نے آپ کو جواب نہیں دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، اور فرمایا: اے ابوربیع! تمہارے معاملے میں قضاء ہمیں مغلوب کر گئی ، یہ سن کر عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں تو ابن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوڑ دو ( رونے دو انہیں ) جب واجب ہو جائے تو کوئی رونے والی نہ روئے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول: واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ، عبداللہ بن ثابت کی بیٹی کہنے لگیں: میں پوری امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے جہاد میں حصہ لینے کی پوری تیاری کر لی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ انہیں ان کی نیت کے موافق اجر و ثواب دے چکا، تم لوگ شہادت کسے سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا شہادت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مر جانے والا شہید ہے، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے، ذات الجنب ( نمونیہ ) سے مر جانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری ( دستوں وغیرہ ) سے مر جانے والا شہید ہے، جل کر مر جانے والا شہید ہے، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے، اور عورت جو حالت حمل میں ہو اور مر جائے تو وہ بھی شہید ہے ۔Abudawud 3111
- رکانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی کو قطعی طلاق ( بتّہ ) دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اس سے کیا مراد لی تھی؟“، میں نے عرض کیا: ایک طلاق مراد لی تھی، آپ نے پوچھا: ”اللہ کی قسم؟“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے فرمایا: ”تو یہ اتنی ہی ہے جتنی کا تم نے ارادہ کیا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں اضطراب ہے، عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں، ۳- اہل علم صحابہ کرام وغیرہم میں سے عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے طلاق بتہ کو ایک طلاق قرار دی ہے، ۴- اور علی رضی الله عنہ سے مروی ہے انہوں نے اسے تین طلاق قرار دی ہے، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں آدمی کی نیت کا اعتبار ہو گا۔ اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہو گی اور اگر تین کی کی ہے تو تین ہو گی۔ اور اگر اس نے دو کی نیت کی ہے تو صرف ایک شمار ہو گی۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ۶- مالک بن انس قطعی طلاق ( بتّہ ) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر عورت ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دخول ہو چکا ہے تو طلاق بتّہ تین طلاق شمار ہو گی، ۷- شافعی کہتے ہیں: اگر اس نے ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہو گی اور اسے رجعت کا اختیار ہو گا۔ اگر دو کی نیت کی ہے تو دو ہو گی اور اگر تین کی نیت کی ہے تو تین شمار ہو گی۔Tirmidhi 1177
- ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل نیت ہی سے صحیح ہوتے ہیں ( یا نیت ہی کے مطابق ان کا بدلا ملتا ہے ) اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے گا۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے ہجرت کرے اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی اور جو کوئی دنیا کمانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے ہو گی۔Bukhari 54
- جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت کی عیادت کو آئے تو دیکھا ان کو بیماری کی شدت میں سو پکارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انہوں نے جواب نہ دیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور فرمایا ہم مغلوب ہوئے تمہارے پر اے ابوالربیع! پس رونا شروع کیا عورتوں نے چلا کر اور جابر بن عتیک ان کو چپ کرانے لگے سو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھی عورتوں کو رونے دو جب آن پڑے تو اس وقت کوئی نہ روئے۔ رونے والی صحابیہ نے پوچھا کیا مطلب ہے آن پڑنے کا فرمایا جب مر جائے۔ اتنے میں عبداللہ بن ثابت کی بیٹی نے کہا مجھے امید تھی کہ تم شہید ہو گے کیونکہ تم سامان جہاد کا تیار کر چکے تھے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل جلالہ اجر دے گا مواقف اس کی نیت کے۔ تم کس چیز کو شہادت سمجھتی ہو بولی اللہ جل جلالہ کی راہ میں مارے جانے کو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوا اس کے سات شہید ہیں ایک وہ جو طاعون سے مر جائے دوسرے وہ جو ڈوب کر مر جائے تیسرے وہ جو ذات الجنب سے مر جائے چوتھے جو پیٹ کی عارضہ سے مر جائے پانچویں وہ جو آگ سے جل کر مر جائے چھٹے وہ جو دب کر مر جائے سا تو اں وہ عورت جو زچگی میں مر جائے ۔Malik 555
- جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آ گئی ہے، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا ( لیکن ) انہوں نے ( کوئی ) جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اناللہ وانا اليہ راجعون»پڑھا، اور فرمایا: اے ابو ربیع! ہم تم پر مغلوب ہو گئے ( یہ سن کر ) عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہو جائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے ۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ( یہ ) واجب ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مر جانا ، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے ( کیونکہ ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت ( کی ) سات ( قسمیں ) ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مر جائے وہ شہید ہے ۔Nasai 1846
- عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال ( اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی ) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی“ ۱؎۔Nasai 3138
- ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے، ان سے علقمہ بن وقاص لیثی نے، کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق پھل ملتا ہے۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو، وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے تو یہ ہجرت محض اسی کے لیے ہو گی جس کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔“Bukhari 2529
- ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے کی نیت فجر سے پہلے نہیں کر لی، اس کا روزہ نہیں ہوا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، نیز اسے نافع سے بھی روایت کیا گیا ہے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور اسے ابن عمر ہی کا قول قرار دیا ہے، اس کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اور اسی طرح یہ حدیث زہری سے بھی موقوفاً مروی ہے، ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع کیا ہے یحییٰ بن ایوب کے سوا، ۲- اس کا معنی اہل علم کے نزدیک صرف یہ ہے کہ اس کا روزہ نہیں ہوتا، جو رمضان میں یا رمضان کی قضاء میں یا نذر کے روزے میں روزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے نہیں کرتا۔ اگر اس نے رات میں نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہوا، البتہ نفل روزے میں اس کے لیے صبح ہو جانے کے بعد بھی روزے کی نیت کرنا مباح ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔Tirmidhi 730
- ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، ان سے علقمہ بن وقاص نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ اس لیے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے ارادہ سے ہو، اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔Bukhari 5070