مسند احمد 26458

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
26458
قرطبہ نمبر
26501
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 6، صفحہ 287

مسند (صحابی کا باب): حديث حفصة أم المؤمنين بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا إسحاق بن إبراهيم الرازي وهو ختن سلمة الأبرش قال ثنا سلمة قال حدثني محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن عبد الرحمن بن موسى عن عبد الله بن صفوان عن حفصة ابنة عمر قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يأتي جيش من قبل المشرق يريدون رجلا من أهل مكة حتى إذا كانوا بالبيداء خسف بهم فرجع من كان امامهم لينظر ما فعل القوم فيصيبهم مثل ما أصابهم فقلت يا رسول الله فكيف بمن كان منهم مستكرها قال يصيبهم كلهم ذلك ثم يبعث الله كل امرئ على نيته

اردو ترجمہ

ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمربن خطاب کی مرویات

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے مشرق سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکرکا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبردے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آدمی کا کیا بنے گا جو اس لشکر میں زبردستی شامل کرلیا گیا ہوگا ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ آفت تو سب پر آئے گی البتہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت پر اٹھائے گا۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده ضعيف لضعف سلمة وهو ابن الفضل الأبرش

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

9 راوی · 2 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. حدثني
    محمد بن إسحاق✓ پروفائل
  7. عن
  8. عن
  9. عن
  10. عن
  11. نبی کریم ﷺ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔