- رسالہ نمبر (معیاری)
- 26416
- قرطبہ نمبر
- 26459
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 6، صفحہ 282
مسند (صحابی کا باب): أحاديث فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا إسماعيل بن إبراهيم قال ثنا ليث يعنى بن أبى سليم عن عبد الله بن حسن عن أمه فاطمة ابنة حسين عن جدتها فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل المسجد صلى على محمد وسلم وقال اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك وإذا خرج صلى على محمد وسلم ثم قال اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك قال إسماعيل فلقيت عبد الله بن حسن فسألته عن هذا الحديث فقال كان إذا دخل قال رب افتح لي باب رحمتك وإذا خرج قال رب افتح لي باب فضلك
اردو ترجمہ
حضرت فاطمہ (رض) کی مرویات
ام سلیمان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئی اور ان سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا، انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابتداء اس کی ممانت فرمائی تھی بدلہ میں اس کی اجازت دیدی تھی چنانچہ ایک مرتبہ حضرت علی سفر سے واپس آئے تو حضرت فاطمہ ان کے لیے قربانی کے جانور کا گوشت لے کر آئیں حضرت علی نے فرمایا کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع نہیں فرمایا ہے ؟ حضرت فاطمہ نے بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دیدی ہے اس پر حضرت علی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا ایک ذی الحجہ سے اگلے ذی الحجہ تک اسے کھا سکتے ہو۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
صحيح لغيره دون قوله : " اللهم اغفر لي ذنوبي " فحسن
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔