- رسالہ نمبر (معیاری)
- 24187
- قرطبہ نمبر
- 24233
- مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
- جلد 6، صفحہ 45
مسند (صحابی کا باب): حديث السيدة عائشة رضي الله عنها(باقي مسند الأنصار)
حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا أبو معاوية قال ثنا هشام بن عروة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت : كان في بريرة ثلاث قضيات أراد أهلها أن يبيعوها ويشترطوا الولاء فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال اشتريها فاعتقيها فإنما الولاء لمن اعتق قال وعتقت فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاختارت نفسها قالت وكان الناس يتصدقون عليها فتهدي لنا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال هو عليها صدقة وهو لكم هدية فكلوه
اردو ترجمہ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بریرہ کے حوالے سے تین قضیے سامنے آئے، اس کے مالک چاہتے تھے کہ اسے بیچ دیں اور وراثت کو اپنے لیے مشروط کرلیں، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا ( اپنے خاوند سے نکاح ختم کردیا) نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے تمہارے لیے ہدیہ ہوتا ہے لہٰذا تم اسے کھا سکتے ہو۔
عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا — دونوں میں متن ایک ہے۔
شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)
إسناده صحيح على شرط الشيخين
بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔