مسند احمد 23753

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
23753
قرطبہ نمبر
23804
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 5، صفحہ 446

مسند (صحابی کا باب): حديث جابر بن عتيك رضي الله عنه(باقي مسند الأنصار)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا روح ثنا مالك عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك عن عتيك بن الحرث بن عتيك فهو جد عبد الله بن عبد الله أبو أمه انه أخبره : ان جابر بن عتيك أخبره ان عبد الله بن ثابت لما مات قالت ابنته والله ان كنت لأرجو أن تكون شهيدا أما انك قد كنت قضيت جهازك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله قد أوقع أجره على قدر نيته وما تعدون الشهادة قالوا قتل في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله المطعون شهيد والغرق شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد والمبطون شهيد وصاحب الحرق شهيد والذي يموت تحت الهدم شهيد والمرأة تموت بجمع شهيدة

اردو ترجمہ

حضرت جابربن عتیک (رض) کی حدیثیں۔

حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ثابت (رض) کا انتقال ہوا تو ان کی بیٹی کہنے لگی بخدا ! مجھے امید ہے کہ آپ شہداء میں شامل ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی نیت کے مطابق ان کا اجر طے کردیا ہے تم لوگ " شہادت " کس چیز کو سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کو، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں چنانچہ طاعون میں مرنے والا شہید ہے، سمندر میں غرق ہو کر مرنے والا شہید ہے ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے عمارت کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے اور حالت نفاس میں مرنے والا عورت شہید ہے۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (98٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ قَالَتْ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

حديث صحيح

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

5 راوی · 0 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں

3 ہم الفاظ · 0 جزوی · 4 متون کا گروہ

یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔

وہی روایت (الفاظ ملتے ہیں)