مسند احمد 18029

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
18029
قرطبہ نمبر
18058
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 4، صفحہ 231

مسند (صحابی کا باب): حديث أبي كبشة الأنماري رضي الله عنه(مسند الشاميين)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا يزيد بن هارون انا المسعودي عن إسماعيل بن أوسط عن محمد بن أبي كبشة الأنماري عن أبيه قال : لما كان في غزوة تبوك تسارع الناس إلى أهل الحجر يدخلون عليهم فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فنادى في الناس الصلاة جامعة قال فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ممسك بعيره وهو يقول ما تدخلون على قوم غضب الله عليهم فناداه رجل منهم نعجب منهم يا رسول الله قال أفلا أنذركم بأعجب من ذلك رجل من أنفسكم ينبئكم بما كان قبلكم وما هو كائن بعدكم فاستقيموا وسددوا فان الله عز وجل لا يعبأ بعذابكم شيئا وسيأتي قوم لا يدفعون عن أنفسهم بشيء

اردو ترجمہ

حضرت ابوکبشہ انماری (رض) کی حدیثیں

حضرت ابو کبشہ انماری (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر کچھ لوگ تیزی سے قوم ثمود کے کھنڈرات میں جانے لگے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منادی کروا دی کہ نماز تیار ہے ابو کبشہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں داخل ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور فرما رہے تھے تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ؟ ایک آدمی کہنے لگایا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم ان پر تعجب کرتے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات نہ بتاؤں ؟ تم ہی میں کا ایک آدمی تمہیں ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتا ہے، لہٰذا استقامت اور سیدھا راستہ اختیار کرو، کیونکہ اللہ کو تمہارے عذاب میں مبتلا ہونے کی کوئی پروا نہیں ہوگی اور عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو کسی بھی چیز کے ذریعے اپنا دفاع نہیں کرسکے گی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (87٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ وَهُوَ يَقُولُ مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُنْذِرُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ قَوْمٌ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده ضعيف

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 1 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. انا
  6. عن
  7. عن
  8. عن

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔