مسند احمد 10263

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
10263
قرطبہ نمبر
10268
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 2، صفحہ 483

مسند (صحابی کا باب): مسند أبي هريرة رضي الله عنه(مسند المكثرين من الصحابة)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا سريج قال ثنا فليح عن سلمة بن صفوان بن سلمة الزرقي عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ان الشيطان إذا سمع النداء ولى وله حصاص فإذا سكت المؤذن أقبل حتى يخطر بين المرء وقلبه لينسيه صلاته فإذا شك أحدكم في صلاته فليسلم ثم ليسجد سجدتين وهو جالس " فليسلم ثم ليسجد سجدتين وهو جالس " فجعل السجود بعد السلام . وأخرجه ابن ماجه 1217 من طريق ابن إسحق قال أخبرني سلمة بن صفوان عن أبي سلمة بهذا الإسناد فقال في آخره : " فليسجد سجدتين قبل أن يسلم " فجعل السجود قبل السلام . وهو الموافق لما روي من طرق عن الزهري عن أبي سلمة

اس حدیث کا ترجمہ ابھی دستیاب نہیں۔ عربی متن ماخذ کے مطابق بعینہٖ دکھایا گیا ہے۔

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

إسناده ضعيف فليح خالف من هو أوثق منه فقال فيه :

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 0 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. عن
  7. عن
  8. عن
  9. نبی کریم ﷺ

یہاں سند مختصر ہے — «بهذا الإسناد»: باقی سند گزشتہ حدیث والی ہے۔

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔