مسند احمد 10261

مسند امام احمد بن حنبل — عربی متن، شعیب الارناؤوط کے تبصرے اور جہاں دستیاب ہو اردو ترجمے کے ساتھ

رسالہ نمبر (معیاری)
10261
قرطبہ نمبر
10266
مطبوعہ (نسخۂ قرطبہ)
جلد 2، صفحہ 482

مسند (صحابی کا باب): مسند أبي هريرة رضي الله عنه(مسند المكثرين من الصحابة)

حدثنا عبد الله حدثني أبي ثنا سريج قال ثنا فليح عن الحارث بن فضيل الأنصاري عن زياد بن سعد عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل عيسى بن مريم إماما عادلا وحكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويرجع السلم ويتخذ السيوف مناجل وتذهب حمة كل ذات حمة وتنزل السماء رزقها وتخرج الأرض بركتها حتى يلعب الصبي بالثعبان فلا يضره ويراعي الغنم الذئب فلا يضرها ويراعي الأسد البقر فلا يضرها * وأورده ابن كثير في النهاية وقال : تفرد به أحمد وإسناده جيد قوي صالح * " ويتحذ السيوف مناجل " : قال السندي : أراد أن الناس يتركون الجهاد ويشتغلون بالحرث والزراعة

اردو ترجمہ

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عادل امام اور منصف حکمران بن کر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور تلواریں درانتیاں بنالی جائیں گی ہر ڈنک والی چیز کا ڈنک ختم ہوجائے گا آسمان اپنا رزق اتارے گا زمین اپنی برکت اگلے گی حتیٰ کے بچے سانپوں سے کھلیتے ہوں گے اور وہ سانپ انھیں نقصان نہ پہنچائیں گے بھیڑ یا بکری کی حفاظت کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گائے کی دیکھ بھال کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا۔

عربی متن کے ذریعے خودکار طور پر اس حدیث سے ملایا گیا (83٪ الفاظ یکساں)۔ جس نسخے سے ترجمہ کیا گیا اس کے الفاظ میں معمولی فرق ہے — ترجمہ اسی عربی متن کا ہے۔

وہ عربی متن دکھائیں جس کا یہ ترجمہ ہے

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا عَادِلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيُرْجِعُ السَّلْمَ وَيَتَّخِذُ السُّيُوفَ مَنَاجِلَ وَتَذْهَبُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ وَتُنْزِلُ السَّمَاءُ رِزْقَهَا وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ بَرَكَتَهَا حَتَّى يَلْعَبَ الصَّبِيُّ بِالثُّعْبَانِ فَلَا يَضُرُّهُ وَيُرَاعِي الْغَنَمَ الذِّئْبُ فَلَا يَضُرُّهَا وَيُرَاعِي الْأَسَدُ الْبَقَرَ فَلَا يَضُرُّهَا

شعیب الارناؤوط کا تبصرہ (نسخۂ قرطبہ)

صحيح وهذا إسناد محتمل للتحسين

بعینہٖ اُن کے الفاظ۔ یہ اُن کی رائے ہے — ہدایہ24 احادیث پر حکم نہیں لگاتا۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

7 راوی · 0 کی شناخت یقینی

مسند کا مطبوعہ متن خود کتاب کی سند سے شروع ہوتا ہے: «حدثنا عبد الله» سے مراد امام احمد کے صاحبزادے عبد اللہ (م ۲۹۰ھ) ہیں جو یہ کتاب اُن سے روایت کرتے ہیں، اور «حدثني أبي» خود امام احمد ہیں؛ اُن کے بعد اصل سند شروع ہوتی ہے۔

  1. امام احمد بن حنبلؒ (م ۲۴۱ھ)(مصنف)
  2. حدثنا
  3. حدثني
  4. ثنا
  5. ثنا
  6. عن
  7. عن
  8. عن
  9. نبی کریم ﷺ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔