حدیث ۳۶۰ · ترمذی 3079

حدیث ۳۶۰ — ایک حدیث، سب کچھ

ایک مجموعہ چنیں اور حدیث نمبر لکھیں — عربی متن، ترجمہ، تمام درجات، حوالہ اور متعلقہ اوزار ایک اسکرین پر۔

حدیث، اس کا ترجمہ، درجہ اور مفہوم۔

زبان

ترمذی 3079(کتاب 47:131)Ahmad Muhammad Shakir: Hasan SahihAl-Albani: Hasan SahihBashar Awad Maarouf: Hasan SahihZubair Ali Zai: Sahihتصدیقپوسٹر

حدیث (عربی متن)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جِئْتُ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَى صَدْرِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَوْ نَحْوَ هَذَا هَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا لَيْسَ لِي وَلاَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا مَنْ لاَ يُبْلِي بَلاَئِي فَجَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي وَلَيْسَ لِي وَقَدْ صَارَ لِي وَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَيْضًا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ‏.‏

ترجمہ

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) پہنچا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرا سینہ مشرکین سے ٹھنڈا کر دیا ( یعنی انہیں خوب مارا ) یہ کہا یا ایسا ہی کوئی اور جملہ کہا ( راوی کو شک ہو گیا ) آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ میری ہے اور نہ تیری ۱؎، میں نے ( جی میں ) کہا ہو سکتا ہے یہ ایسے شخص کو مل جائے جس نے میرے جیسا کارنامہ جنگ میں نہ انجام دیا ہو، ( میں حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا آیا ) تو ( میرے پیچھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور اس نے ( آپ کی طرف سے ) کہا: تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی، تب وہ میری نہ تھی اور اب وہ ( بحکم الٰہی ) میرے اختیار میں آ گئی ہے ۲؎، تو اب وہ تمہاری ہے ( میں اسے تمہیں دیتا ہوں ) راوی کہتے ہیں، اسی موقع پر «يسألونك عن الأنفال» ۳؎ والی آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو سماک بن حرب نے بھی مصعب سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

5 راوی · 3 کی شناخت یقینی
  1. امام ترمذیؒ(مصنف)
  2. حَدَّثَنَا
  3. حَدَّثَنَا
  4. عَنْ
    عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَدرجہ بندی زیرِ نظرِ ثانی⚠ درجہ زیرِ نظرِ ثانی
  5. عَنْ
  6. عَنْ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

اوپر حدیث، اس کا ترجمہ اور درجہ موجود ہے۔ مزید گہرائی کے لیے اوپر «گہرائی» بدلیں یا نیچے کے ٹیبز کھولیں: صحت، شرح، متعلقہ روایات اور تحقیقی مواد۔

اس حدیث کے ساتھ میری پیش رفت

یہ صرف آپ کے آلے پر محفوظ ہوتا ہے۔