حدیث ۳۶۰ · ترمذی 2989

حدیث ۳۶۰ — ایک حدیث، سب کچھ

ایک مجموعہ چنیں اور حدیث نمبر لکھیں — عربی متن، ترجمہ، تمام درجات، حوالہ اور متعلقہ اوزار ایک اسکرین پر۔

حدیث، اس کا ترجمہ، درجہ اور مفہوم۔

زبان

ترمذی 2989(کتاب 47:41)Ahmad Muhammad Shakir: HasanAl-Albani: HasanBashar Awad Maarouf: HasanZubair Ali Zai: Isnaad Hasan Sahih Muslimتصدیقپوسٹر

حدیث (عربی متن)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ وَلاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ ‏:‏ ‏(‏يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ‏)‏ وَقَالَ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ "وَذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ "‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الأَشْجَعِيَّةِ ‏.‏

ترجمہ

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ ( پھر ) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے ( میرے رب! اے میرے رب! ) اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

6 راوی · 2 کی شناخت یقینی
  1. امام ترمذیؒ(مصنف)
  2. حَدَّثَنَا
  3. حَدَّثَنَا
  4. حَدَّثَنَا
  5. عَنْ
  6. عَنْ
  7. عَنْ
  8. نبی کریم ﷺ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں

3 ہم الفاظ · 0 جزوی · 4 متون کا گروہ

یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔

وہی روایت (الفاظ ملتے ہیں)

اوپر حدیث، اس کا ترجمہ اور درجہ موجود ہے۔ مزید گہرائی کے لیے اوپر «گہرائی» بدلیں یا نیچے کے ٹیبز کھولیں: صحت، شرح، متعلقہ روایات اور تحقیقی مواد۔

اس حدیث کے ساتھ میری پیش رفت

یہ صرف آپ کے آلے پر محفوظ ہوتا ہے۔