ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
اِس حدیث کی متعدد اسانید ہیں («ح» — تحویل)؛ یہاں آخری سند دکھائی گئی ہے جو متن تک پہنچتی ہے۔
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
4 ہم الفاظ · 0 جزوی · 5 متون کا گروہ
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔